معاشی چیلنجز اور ہماری قومی ذمہ داریاں


وفاقی و زیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بریتھ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں حکومت نے معاشی میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں

اگر ہم ان کے اس دعوی کا غیر جانبدار ہو کر جائزہ لیں اور انٹرنیشنل سروے رپورٹ دیکھیں تو حکومت اس دعوے میں حق بجانب نظر آتی ہے اور اگر باریک بینی سے گزشتہ ایک سال پر نظر دوڑائیں تو حکومت نے یہ کامیابی معاشی شعبے میں بنیادی اصلاحات پر عمل پیرا ہو کر ہی حاصل کی ہے۔ جس میں سرفہرست رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت بعض وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے، ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انتظامی اصلاحات ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ حکومت نے مائیکرو اکنامک محاذ پر اہم پیش رفت کی ہے۔ صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس پر قانون سازی کی جو معیشت کی بہتری کے لئے بہت اہم ہے۔

ایسے ہی آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر نے گزشتہ روز معدنی وسائل کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔ آرمی چیف نے معیشت اور معاشرت کا جو تعلق بیان کیا ’اس کی حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور اس کی بجا آوری میں ناکامی کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ناکام معیشت کے ساتھ نہ فرد کی صلاحیتوں کی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ترقی یافتہ اور پسماندہ معاشروں کے افراد کی صلاحیتوں اور قوتِ پیداوار میں جو فرق ہے وہ دراصل ہر دو معاشروں کی معاشی حیثیت کے تفاوت ہی کی وجہ سے ہے۔ معاشی طور پر مضبوط اور خوشحال معاشرے افراد کی ترقی اور بہتری پر زیادہ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں یوں ان کی صلاحیت ان ممالک کے شہریوں کی نسبت کئی گنا بہتر ہوتی ہے جو معاشی مسائل سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ معاشی قوت کو اس تناظر سے دیکھا جائے تو قومی ذمہ داریوں کے حوالے سے اس کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ آج جب ہماری حکومتیں عوامی صحت، تعلیم و تربیت اور ذہنی نمو کے دیگر مواقع کے لئے قلیل رقوم صرف کرتی ہیں تو ہم افرادی صلاحیت میں ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں اگر پانچ سال سے کم عمر کے قریب 40 فیصد بچے ناکافی غذائیت کی وجہ سے عمر کے مطابق ذہنی و جسمانی نمو حاصل کرنے سے محروم رہ گئے ہیں تو اس کے عواقب کا بھی ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ یہ نسل ان ممالک کے افراد کی صلاحیتوں کا مقابلہ کیسے کر پائے گی جنہیں غذا، تربیت، صحت اور ذہنی نمو کے ان سے کہیں بہتر مواقع میسر ہیں۔ یہی معیشت اور معاشرت کے تعلق کی ایک بنیاد ہے کہ مضبوط معیشت کا مطلب بہتر اور باصلاحیت نسل ہے۔ معیشت اور معاشرت کے تعلق کی دوسری بنیاد سماجی توازن اور استحکام کے تناظر میں ہے۔ غربت، افلاس اور معاشی مواقع کی نایابی جرائم اور سماجی بے چینی کا سبب بنتی ہے چنانچہ سماجی امن اور استقامت کی خاطر خوشحالی کے لئے کردار ادا کرنا ہماری قومی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کوئی جس قدر با اختیار ہے اس پر ذمہ داری اسی حساب سے ہے مگر عام آدمی بھی اس قومی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کر سکتا البتہ اس میں دو رائے نہیں کہ جب تک حکومتی سطح پر اس سلسلے میں ذہنی کایا کلپ نہیں ہوتی انفرادی سطح پر اس سوچ کا پروان چڑھنا محال ہے۔

ہماری حکومتوں نے خوشحالی کے جذبے کو قومی سطح کی سوچ کا روپ دینے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال اس ملک کے قدرتی اثاثوں سے استفادہ کرنے کی فکر مندی کا احساس اجاگر نہیں ہو سکا۔ یہ سنتے سنتے پاکستان کی ایک نسل بوڑھی ہو چلی ہے کہ ملک میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر ہیں مگر آج تک ہم ان وسائل کو ان کی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں دے سکے۔ فی زمانہ افرادی قوت بھی معدنی خزانوں سے کم نہیں۔ کئی ممالک جن کے پاس زمینوں میں چھپے ہوئے خزانے نہیں ان کے عوام کی صلاحیتیں ہی ان کے لئے سب سے بڑا خزانہ ثابت ہوئی ہیں، مگر ہمارے نوجوان اس کے باوجود کہ ملکی آبادی کی اکثریت پر مشتمل ہیں صلاحیت اور مواقع کی کمی کی وجہ سے مایوسی بے بسی اور بے مائیگی کی تصویر بنے پھرتے ہیں۔ اس نقصان کا ازالہ معاشی سمت درست کرنے اور طور طریقوں میں مثبت تبدیلی ہی سے ممکن ہے۔ ضروری ہے کہ اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے معاشی ترقی کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں معدنی وسائل سے استفادہ کلیدی حیثیت کا حامل ہے اور کوشش کی جائے تو یہ کم سے کم وقت میں نتائج دے سکتا ہے۔

اس وقت ہمیں ملکی اور معاشی استحکام کے لیے دو اہم مسائل کا سامنا ہے، ایک آبادی کا مسئلہ ہے جو تیزی سے بڑھ رہا ہے، دوسرا اہم مسئلہ موسمیاتی تبدیلی ہے کہ اس سے کیسے نمٹنا ہے۔ اس کے لئے موسمیاتی فنانس اسٹریٹجی اہم ہے، اسٹیٹ بینک وقتاً فوقتاً اپنی گائیڈ لائنز جاری کرے اور گرین کلائمٹ فنڈز کے لیے بیوروکریسی اسے احسن انداز میں دیکھے۔ اس وقت ہمیں فنانسنگ کے ساتھ استعداد کار بڑھانے کی بھی ضرورت ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو اس شعبے میں آگے بڑھنا چاہیے اور حکومت بھی ان کی حوصلہ افزائی، سرپرستی و معاونت کرے۔
مگر یہ سب کچھ روایتی سوچ اور طرزِ عمل سے ممکن نہیں۔ اگر معاشی ترقی چاہتے ہیں تو کام کے نئے ڈھنگ اپنانا اور جہدِ مسلسل کو اپنا وتیرہ بنانا ہو گا۔

Facebook Comments HS