خدارا! پی ٹی وی کو تباہی سے بچا لیں
چند سال پہلے پی ٹی وی پر ترکی ڈرامہ ”ارطغرل“ اردو ڈبنگ کے ساتھ نشر کیا گیا۔ ارطغرل ڈرامہ ناظرین کی بہت زیادہ تعداد کو اٹریکٹ کرنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن اس ڈرامے کو پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرنے کی بجائے کسی پرائیویٹ ادارے کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیا۔ جس کا فائدہ پی ٹی وی کو نہیں ہوا۔ اب بھی ایک اور ترکی ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ بہت جلد وہ ڈرامہ پی ٹی وی کی سکرین پر نشر ہو گا۔ معلوم نہیں اس بار اس ڈرامے کو پی ٹی وی کے آفیشل یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا یا نہیں یہ وقت بتائے گا۔ البتہ ایک واضح مسئلہ یہ نظر آ رہا ہے کہ پی ٹی وی کے فنکار پہلے ہی طویل عرصے سے بے روزگاری کا شکار ہیں کیونکہ پی ٹی وی نے اپنی پروڈکشن میں ڈرامے بنانا تقریباً بند کر دیا ہے۔ اس وقت پی ٹی وی زیادہ تر پرانے ڈرامہ دوبارہ نشر کر رہا ہے۔ یا کسی تھرڈ کلاس پروڈکشن ہاؤس سے ڈرامے خرید رہا ہے۔ جن کا معیار نہایت پست ہوتا ہے لیکن ان پر پی ٹی وی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ناظرین کی بہت بڑی تعداد نے پی ٹی وی دیکھنا بند کر دیا ہے۔ پی ٹی وی کی ویورشپ تباہ ہو چکی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھنے کے لیے پڑوسی ملک میں بھی سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔ ان ڈراموں کا معیار اتنا اعلیٰ تھا کہ بعض ڈراموں کو وہاں کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کیا گیا۔ اس دور میں پی ٹی وی کے ڈرامے پاکستان کی نظریاتی اساس، ثقافتی تشخص اور معاشرتی حقیقتوں کی بہترین عکاسی کرتے تھے۔ پی ٹی وی کے پاس پروفیشنل اور قابل لوگ موجود تھے اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ نگار، ہدایتکار اور فنکار اس کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے پی ٹی وی اس وقت ایک منافع بخش ادارہ ہوتا تھا۔
لیکن آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ پی ٹی وی کے بڑے تخلیقی ذہن نجی چینلز میں جا چکے ہیں کئی بڑے نام ریٹائرمنٹ کے بعد گھروں میں بیٹھے ہیں۔ اس طرح اس ادارے کے پروگراموں کا معیار مسلسل زوال پذیر ہے۔ پی ٹی وی میں پروفیشنل افراد کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے اور یہ عظیم ادارہ سیاسی مداخلت کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہر حکومت اپنے بساط کے مطابق اس ادارے کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اقربا پروری کا بازار گرم ہے۔
آج پی ٹی وی میں نصرت ٹھاکر، یاور حیات، طارق معراج، شاکر عزیر، قاسم جلالی، کاظم پاشا، علی رضوی ایوب خاور، سلطانہ صدیقی، اور شعیب منصور جیسے ہدایتکار کہیں نظر نہیں آ رہے۔ ملک کے بہترین لکھاری پی ٹی وی سے منہ موڑ کر نجی چینلز پر کام کر رہے ہیں۔ پی ٹی وی اکیڈمی اسلام آباد میں بھی سرگرمیاں تقریباً معطل ہیں اور پی ٹی وی کے بیشتر اسٹوڈیوز ویران پڑے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ اس عظیم ادارے کو مکمل تباہی سے بچائے۔ پرانے اور نئے تخلیقی لوگوں کو راضی کر کے کم از کم ایڈہاک بنیادوں پر ہی سہی دوبارہ ادارے کا حصہ بنایا جائے اور پی ٹی وی کا نظم و نسق ان کے سپرد کیا جائے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسے کام کرنے کی آزادی دی جائے اور سفارش کلچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے تاکہ پی ٹی وی اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کر سکے۔ پی ٹی وی کو ڈراموں پر کام کرنا چاہیے۔ آج کل کمرشل دنیا میں سب سے زیادہ ڈرامے چل رہے ہیں۔
میں وزیر اطلاعات صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ پلیز اس پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور اس معتبر ادارے کو تباہی سے بچا لیں۔ پی ٹی وی کے پاس ملازمین کی فوج ظفر موج ہے۔ ان سے کام لینا چاہیے۔ وہ سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیکار بیٹھے ہیں۔ پی ٹی وی اکیڈمی کو بحال کر کے ان لوگوں کو ٹرین کیا جائے۔ پھر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈراموں اور دوسرے پروگراموں پر کام کرنا چاہیے۔ پی ٹی وی کے پاس کافی وسائل ہیں۔ ان کو بروئے کار لا کر شوبز انڈسٹری کے بڑے ناموں کو اس ادارے کی طرف لے آنا چاہیے۔ چند کمروں پر مشتمل ٹی وی چینلز اپنے پروگراموں کے ذریعے کروڑوں کما رہے ہیں لیکن پی ٹی وی اتنے وسائل کے باوجود بھی سفید ہاتھی بنتا جا رہا ہے۔
اس ادارے کے ساتھ پاکستانی قوم کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ خدارا اس ادارے کو تباہی سے بچا لیں۔


