وزیرستان: حال ماضی کے در پر
جنگ و جدل، لڑائیاں، خون، قتل و غارت، بدامنی میں گھرے وزیرستان میں ماضی کی داستانیں پھر سے دہرائی جا رہی ہیں۔ پچھلے چالیس سال، بالخصوص وار آن ٹیرر کے بعد ، یہ امید تھی کہ شاید مستقبل ماضی جیسا نہیں ہو گا۔ خاص طور پر جب ایکس فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام و الحاق ہو رہا تھا، تو مجھ جیسے ہزاروں لاکھوں افراد کے دل میں یہ خواہش و امید تھی کہ اب کبھی ماضی نہیں دہرایا جائے گا۔ وہ تمام وعدے جو ایکس فاٹا کے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے کیے گئے تھے، اب تک کاغذات پر لکھے پڑے ہیں۔ مگر افسوس، نہ تو ان وعدوں پر عمل ہو سکا اور نہ ہی ماضی جیسے حالات بدل سکے۔
مختلف اوقات میں آپریشنوں کے بعد درمیانی عرصے میں امن کچھ حد تک قائم ہو گیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد ایکس فاٹا، بالخصوص وزیرستان میں حالات و واقعات تیزی سے بدلنے لگے۔ آبائی گاؤں وانا میں 2007 اور 2008 کے بعد تقریباً امن و امان کا سماں تھا۔ مگر افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی اور بیدخلی نے یہاں وزیرستان کو بھی متاثر کیا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ بہت جلد پاکستانی طالبان ٹارگٹ کلنگز، بم دھماکے اور خودکش حملے شروع کر دیں گے۔ آگ پر تیل اُس وقت چھڑکا گیا جب ریاست نے پاکستانی طالبان کو فریق بنا کر ان سے مذاکرات شروع کیے، جس سے ان کے ایجنڈے کو کافی تقویت ملی۔ مذاکرات میں ”اعتماد“ کے نام پر سینکڑوں پاکستانی طالبان کو جیلوں سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں مذاکرات کی چادر لپیٹ کر ایک طرف رکھ دی گئی، اور پاکستانی فوج کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ ریاست کبھی پاکستانی طالبان سے مذاکرات نہیں کرے گی۔
مختصر یہ کہ اب حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ ریاستی رٹ خاردار تاروں اور فوجی کیمپوں و کالونیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ باقی وزیرستان کے اطراف میں طالبان ہی طالبان نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں چار افراد، جن میں ایک مقامی تاجر سیف الرحمان اور دو ایف سی آر کے ارکان تھے، کو دن دیہاڑے لاپتہ کر دیا گیا۔ انتظامیہ و ریاست کی خاموشی کی وجہ سے دو تین دن پہلے پورا وزیرستان سراپا احتجاج تھا، مگر تاحال انتظامیہ و ریاست خاموش ہے۔ مہینے دو مہینے پہلے وزیرستان کے دور دراز علاقے اعظم ورسک میں خودکش دھماکہ ہوا، اور اس سے پہلے ایک مقامی مولوی شہزادہ کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ بدقسمتی سے مولوی شہزادہ دونوں پاؤں سے محروم ہو گئے۔
اس کے علاوہ اسی نوعیت کے واقعات روزمرہ کی بنیاد پر ہونے لگے ہیں اور یہ معمول بن چکے ہیں۔ یہ تو مستقبل ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، مگر حال ماضی کے در پر دستک دے چکا ہے۔


