جامعہ پنجاب کا میلہ کس نے لوٹا
جامعہ پنجاب کی ریت رہی ہے کہ علم دوست احباب کو کتاب میلے کی صورت میں ہر سال کچھ دنوں کے لئے سہولت فراہم کرتے ہیں کہ ایک خیمہ آگاہی میں تمام تشنگان مکتب کو سیراب کرنے کا امکان میسر آ جائے۔ اس سال بھی یہ میلہ سجا۔ فروری کی بہار میں زندہ دل والوں نے طے کر لیا ہے کہ کبھی الحمرا میں فیض فیسٹیول سے اہل ادب کو فیض بخشنا ہے تو کبھی ہارس اینڈ کیٹل شو سے بچوں بڑوں کو محظوظ کرنا ہے۔ کبھی شہر لاہور کو ایکسپو سینٹر میں کتاب سے عشق دکھانا ہے تو کبھی جامعہ پنجاب میں ایک طویل راہداری میں کتابوں کے کئی سٹال لگا کر طلبا اور طالبات کو موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ اپنے من پسند موضوعات کو پڑھ سکیں۔
آج اتفاق ہوا اس کتاب میلے میں جانے کا۔ صبح سے بادلوں نے قسم کھائی تھی کہ رقیب کی نشست پر براجمان رہنا ہے اور دل والوں کو کتاب میلہ میں جانے کی حسرت دل میں رکھے رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ ایسا سینہ چاک کیا بادلوں نے کہ اس کا سارا غم دل بہہ گیا۔ بارش کی شدت تو تھی ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ لاہور کی گلیوں کی حالت زار، بادل تھوڑا سا بھی برسے تو یہ پورے جوبن سے مسافر کا راستہ روکتی ہیں۔ اتنا پانی بھرا تھا گلی میں لیکن جب ساتھ سفر کرنے والے باہمت ہوں تو راستے کی چٹانیں بھی سنگریزے لگتے ہیں۔
کتاب میلے میں پہنچے تو جامعہ پنجاب کا ماحول بڑا دلفریب تھا۔ ٹھنڈی ہوا اچھی لگ رہی تھی۔ بارش کی مہک بھی دل کو لبھا رہی تھی۔ اور جیسے ہی کتاب میلے میں داخل ہوئے تو ڈھیر ساری کتابوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔
ادب و شعر، تصوف و عرفان، دین و مذہب، اخلاق و ایمان، کیا باغ و بہار میلہ تھا۔ ہر ہی موضوع دسترس میں تھا۔ بہت سے لکھاریوں کے نام جگمگا رہے تھے۔ کئی کتابوں کے تراجم بھی موجود تھے۔ ایک طویل سفر کیا پورے میلے کا ایک ایک کونا دیکھا لیکن پنجاب دی ماں بولی نہیں ملی۔ حیرت تو نہیں لیکن افسوس کہ سوائے ایک کتاب جو شاید کورس کی کتاب تھی بس وہی اکلوتی پنجابی کی کتاب موجود تھی۔ پنجابی کے عنوان سے کوئی سٹال تو کیا کسی سٹال پر ایک کتاب بھی نہ تھی۔
لیکن یہ ہے کہ جب اتنا وسیع انتظام ہو اور مختلف رنگ جن میں شعر و ادب کا رنگ بھی ہو، فن و ہنر کا رنگ بھی ہو، اسلام و عیسائیت کے موضوعات کے رنگ بھی ہوں تو دیکھنا پڑتا ہے کہ میلہ کس نے لوٹا۔ یہاں آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ لاہوریوں نے مایوس نہیں ہونے دیا اور روایت کو برقرار رکھا۔ یہ میلہ لاہوریوں کی حمایت سے وہاں لگے کھانوں کے سٹالز نے لوٹا۔
سب سے زیادہ رش وہیں دکھائی دیا جہاں کچھ لوگ بریانی اور حلیم جیسے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو کچھ افراد گول گپوں، چاٹ اور سموسوں کے مزے لے رہے تھے۔ حد تو یہ ہوئی کہ indomie noodles نے مارکیٹنگ کے لئے مفت نوڈلز دینے شروع کیے ہوئے تھے۔ وہاں کا رش دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید کوئی خزانہ بٹ رہا ہے۔ بہرحال کھانے کے شوقین لاہوریوں کے لئے مفتا کسی خزانے سے کم نہیں ہوتا۔ آپ سب بھی جائیں اور ان سب کھانوں کے ساتھ ساتھ حرف و سخن کی چاشنی بھی چکھیں۔
پنجاب کے جامعہ پنجاب میں پنجابی کے ساتھ اس نا انصافی پر دل برداشتہ تو ہیں لیکن امید ہے جامعہ پنجاب اس کا مداوا باقی دو دن میں کر دے گا۔


