یوم یکجہتی کشمیر، ایک مشق رائیگاں


muhammad salim gujranwala

حکومت پاکستان کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہوئے تینتیس برس بیت گئے ہیں۔

5 فروری 1990 کو جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے یوم کشمیر منانے کا اعلان کیا۔ پھر اگلے سال نواز شریف نے 5 فروری 1991 کو محکوم کشمیریوں کی حمایت کے لیے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ 2004 میں حکومت پاکستان کے وزیر کشمیر اور شمالی علاقہ جات نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کا نام دے دیا۔ 2021 میں نیو یارک کے گورنر نے پاکستانیوں، کشمیریوں اور سفارت خانے کی کوششوں سے 5 فروری کو امریکن کشمیر ڈے منانے کا اعلان کیا۔

5 اگست 2019 میں ہندوستانی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے وہاں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ اس دن کو حکومت پاکستان نے یوم استحصال کشمیر کا نام دے دیا تھا۔

مسئلہ کشمیر پاک و ہند کے درمیان منصوبہ تقسیم ہندوستان کا ایک حل طلب جزو ہے۔ تقسیم ہند کے اصول کے مطابق مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل ہونے تھے اور غیر مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان میں شامل ہونے تھے۔ جموں کشمیر کی پچانوے فی صد آبادی مسلم ہے جس کے باعث پاکستان اس کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جب کہ ہند کا موقف یہ ہے کہ ریاست کے راجہ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی اس ریاست کا الحاق ہندوستان سے کیا تھا، اس لیے یہ ہندوستان کا حصہ ہے۔

مسئلہ کشمیر کے باعث پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔
پہلی جنگ تقسیم ہند کے بعد 1948 میں ہوئی جب ہندوستان نے اپنی فوجیں کشمیر میں بھیج کر وادی پر بزور قوت قبضہ کر لیا۔ پاکستان نے بھی مقامی مجاہدین اور اپنی فوج کی مدد سے کشمیر کے کچھ حصے کو ہندوستان سے آزاد کروا لیا جیسے اب آزاد جموں کشمیر کہتے ہیں۔

1965 میں آپریشن جبرالٹر کے نام سے کی گئی کارروائی میں مجاہدین کے ذریعے کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے کوشش کی گئی جو پاک و ہند مکمل جنگ میں بدل گئی جس کو بعد میں یوم دفاع کا نام دے دیا گیا۔

1971 میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کرنے پر ہندوستان کو وہاں اپنی فوجیں داخل کرنے کا موقعہ مل گیا اور اس نے بنگالیوں کی حمایت سے بزور قوت مشرقی پاکستان کو الگ کر کے بنگلہ دیش بنا دیا اور دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا۔

1999 میں صدر مشرف کے عہد میں کارگل کی جنگ کی گئی اور کئی قیمتی جانوں کا ضیاع کرنے کے بعد بھارت کو سیاچن گلیشیر پر مزید قابض ہونے کا موقعہ مل گیا۔

مسئلہ کشمیر پیدا ہوئے اٹھہتر برس بیت گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد کی حیثیت ردی کے کاغذ سے زیادہ نہیں ہے کیوں کہ وہ اس پر عمل درآمد کرانے سے قاصر ہے۔

کشمیر میں جاری گوریلا کارروائیاں بھی دم توڑ چکی ہیں جو بے نتیجہ رہی ہیں۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنا کر اس پر ایک حفاظتی باڑ لگا دی ہے جس کی چوبیس گھنٹے سخت نگرانی کی جاتی ہے اور کسی کی ہمت نہیں ہے کہ اس باڑ کو نقصان پہنچا سکے۔ یہ پاک افغان سرحد پر پاکستان کی لگائی گئی حفاظتی باڑ نہیں ہے جس کو جگہ جگہ سے سر عام کاٹ دیا گیا ہے۔

بھارت تین ہزار ارب ڈالرز کی ایک بھاری معیشت کی جمہوریت ہے جس کی دنیا بھر میں اہمیت ہے اور اس کی بات سنی جاتی اور موقف تسلیم کیا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت نے جی ٹونٹی کانفرنس بھی سری نگر میں منعقد کروا لی اور کسی ملک نے بھی اس میں شرکت کرنے سے انکار نہیں کیا ہے۔ ہندوستان کسی صورت اپنی کرکٹ ٹیم کو بھی پاکستان میں بھیجنے کو تیار نہیں ہے اور کوئی بھی اس کو مجبور نہیں کر سکتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجے حکومت پاکستان کا ہر سال یوم یکجہتی کشمیر منانا ایک مشق رائیگاں ہے جس سے الٹا اسی کو ہی نقصان ہوتا ہے۔ دنیا ہمیشہ طاقت کی زبان سمجھتی ہے اور پاکستان جنگ یا طاقت کے زور پر کشمیر کو آزاد نہیں کروا سکتا ہے۔ ترکی، ایران، چین یا سعودی عرب کی حمایت کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ جس خطے کو حکومت اپنی شہ رگ قرار دیتی ہے وہ ایسے طریقوں سے آزاد نہیں ہو سکتا ہے۔ ہم پچھلے کئی برسوں سے کشمیر، فلسطین، چیچنیا اور دوسرے مقبوضہ مسلم علاقوں کی آزادی کے لیے دن رات دعائیں کر رہے ہیں، کیا ہماری دعاؤں میں اثر نہیں ہے، کیا یہ قبولیت کے لائق نہیں یا کیا یہ دعائیں کرنے والی ہی نہیں ہیں۔ دعاؤں سے اگر یہ کام ہونا ہوتا تو کبھی کا ہو چکا ہوتا۔ کشمیر کے علاوہ بھارت نے جونا گڑھ، مناباؤ، حیدر آباد دکن اور سرکریک ہر بھی قبضہ کیا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان نے کبھی ان کو آزاد کرانے یا ان کے ساتھ اظہار یکجہتی منانے کا اعلان نہیں کیا ہے، صرف کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی منانے کا کیا فائدہ ہے۔

کشمیر کی پچانوے فی صد آبادی کشمیری مسلمانوں کی ہے۔ جب سے ہندوستانی کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی گئی ہے، اس کے باعث اب وہاں آبادی کے تناسب میں رد و بدل ہونا لازمی امر ہے۔ اب تو زیادہ تر کشمیری بھی الحاق پاکستان کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ کچھ کشمیری خود مختار کشمیر کے حامی ہیں، لیکن زیادہ تر ہندوستان کے ساتھ رہ کر خوش ہیں۔ پاکستان کی نسبت انہیں ہندوستان کے ساتھ رہ کر زیادہ آسانیاں اور سہولیات میسر ہیں۔ معیشت اچھی ہے، مہنگائی کم ہے، جمہوریت اور اظہار رائے کی زیادہ آزادی ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ کی اہمیت بھی زیادہ ہے۔ اٹھہتر برس سے لٹکے ہوئے مسئلہ کشمیر کا سیدھا سا حل یہ ہے کہ پاک و ہند لائن آف کنٹرول میں اتفاق رائے سے مناسب رد و بدل کر کے اسے دونوں ممالک کے درمیان مستقل بین الاقوامی سرحد قرار دے کر اپنا تنازعہ ختم کر دیں اور اپنے اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود پر زیادہ خرچ کریں۔ جب ایک سرحد لائن آف کنٹرول کی شکل میں اٹھہتر برس سے قائم ہے تو پھر اس کو باضابطہ تسلیم کرنے میں کون سا امر مانع ہے۔

Facebook Comments HS