آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
استنبول میں میرا ہوٹل شہر کے مرکزی علاقے فتیح میں واقع تھا۔ ائرپورٹ سے ہوٹل تک کا سفر تقریباً ایک گھنٹے کا تھا جس میں برق رفتار موٹروے، عام سڑکیں اور گنجان آبادی اور بازار تھے۔ اس دوران ہم بحیرہ فاسفورس کے اوپر بنے طویل پل پر سے گزرے اور پھر ایک بلند فصیل کے اندر بنے محرابی راستے سے گزرے۔ صدیوں پرانی سرخ اینٹوں سے بنی یہ دیوار حدّ نظر تک چلی جاتی ہے۔ میرے ہوٹل سے یہ صرف پچاس میٹر دُور تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ دیوارِ قسطنطنیہ ہے۔ قسطنطنیہ استنبول کا پرانا نام ہے۔ یہ اہم تاریخی شہر کئی قدیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے جس میں یونانی، رومن، مشرقی رومن اور عثمانیہ سلطنت شامل ہے۔ یوں اس شہر نے کئی عروج و زوال دیکھے۔ کئی بار اُجڑا اور آباد ہوا۔ میرے ہوٹل کے سامنے سینہ تانے کھڑی تقریباً دو ہزار سال پرانی فصیل بھی ان تہذیبی انقلابوں کی گواہ ہے۔ اس نے صدیوں تک شہر کی حفاظت کی اور اُسے بیرونی حملہ آوروں سے بچائے رکھا۔ صدیوں قدیم مضبوط اینٹوں والی اس دیوار کا جلال اور جمال اب بھی دیدنی ہے۔ لیکن! اس دیوار کی بنیادوں میں کتنے انسانوں کا خون جذب ہو گا اور ان کی ہڈیاں دفن ہوں گی۔ یہاں کشتوں کے پشتے لگے ہوں گے۔ اس فصیل کو ڈھانے اور بچانے کے لیے کتنے سر نیزے پر چڑھے ہوں گے۔ کتنے سہاگ اُجڑے ہوں گے۔ کتنے بچے یتیم ہوئے ہوں گے۔ ان اندھی اینٹوں نے خون کی کتنی ندیاں بہتی دیکھی ہوں گی۔ محمود شام کا شعر ہے۔
کیا شانِ خامشی ہے اینٹیں بھی بولتی ہیں
رُودادِ رفتگاں کے اوراق کھولتی ہیں
دیوار قسطنطنیہ کے سامنے ہوٹل کے صحن چمن میں بیٹھ کر میرے دل و دماغ میں عجیب و غریب خیالات آتے تھے۔ میں چشمِ تصور سے دیکھتا کہ دو متحارب افواج اس بلند فصیل کے آر پار مورچہ زن ہیں۔ بیرونی حملہ آور فوج کیل کانٹے سے لیس ہو کر ان دیواروں کو پامال کرنے اور شہر پر قیامت ڈھانے کے لیے کمر بستہ ہے جبکہ اندرونی فوج اور عوام اپنی بقا کی جنگ لڑنے اور حملہ آوروں کو شکست دینے کے لیے کوشاں ہے۔ ان جنگوں، فتوحات، شکست اور مرنے والوں کی تعداد کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں کسی حد تک مل جاتا ہے۔ لیکن تاریخ بہت سے معاملات میں خاموش ہے۔ موّرخ ہمیشہ فاتحین اور مفتوحین کا ذکر کرتے ہیں مگر متعلقہ دور کے عوام الناس، عورتوں، بچوں ضعیفوں، باپوں، ماؤں اور دیگر معصوم لوگوں پر جنگ کے اثرات کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ اس غارت گری سے جو نسلیں معدوم ہوتی ہیں جن کی ہڈیاں بے نام قبروں کی شکل میں رزقِ خاک بنتی ہیں، تاریخ ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی۔ تباہ کن جنگوں کے دوران لوگوں کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کیا ہوتی ہے طویل جنگوں میں موت و زیست کے درمیان معلق رہ کر پروان چڑھنے والی نسلیں کس کرب و اذیت سے گزرتی ہیں اور ان کی ماؤں کے دِلوں پر دن رات کیسی چھریاں چلتی ہوں گی۔ اس غارت گری کا اثر اگلی نسلوں پر کیسے منتقل ہوتا ہے ان اُمور کو جاننے کے لیے الگ تحقیق اور تاریخ مرتب ہونی چاہیے تھی۔ شب و روز موت کا بازار گرم دیکھ کر انسان کے قلب و ذہن پر کیا بیتتی ہے اور یہ مناظر تاحیات ڈراؤنے خواب بن کر کیسے ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہوں گے، تاریخ کے صفحات اس پر بھی خاموش ہیں۔ حالانکہ ایسے متاثرین کی تعداد بے شمار ہے اور جنگ و جدل کی خون ریزی کے اثرات صدیوں تک رہتے ہیں۔
جب سے انسان اس دُنیا میں آیا ہے اس نے سب سے زیادہ نقصان اپنی ہی نسل کا کیا ہے۔ جنگوں کی تباہی اور بربادی کا یہ سلسلہ کسی دور میں نہیں رُکا۔ گویا بنی نوع انسان نے اپنی ہی نسل کو ختم کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا۔ یہ تو قدرت کی نوازش ہے جس نے نسلِ انسانی کو معدوم نہیں ہونے دیا ورنہ کچھ اقوام نے دوسری اقوام کو مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور اور باضابطہ کوششیں کیں جس میں آسٹریلیا بھی شامل ہے جہاں آبائی باشندوں کی نسل کشی کی منظم کوشش کی گئی۔ اس نسل کشی کی مہم ختم ہوئے ایک صدی سے اوپر ہو گئے ہیں، کئی نسلیں گزر چکیں لیکن اس کے اثرات اب بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ آبائی باشندے معاشی، سماجی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر ابھی تک سنبھل نہیں پائے۔ ان کی چوتھی پانچویں نسل اسی ذہنی صدمے ( ٹراما) کا شکار ہے اور معاشرے سے کٹ کر ذہنی پسماندہ زندگی گزار رہی ہے۔
دوسری طرف انسان نے تکنیکی طبی اور سائنسی طور پر اتنی ترقی کر لی ہے کہ ایسی بیماریوں کا بھی علاج دریافت کر لیا ہے جو دو عشرے قبل تک ناقابلِ علاج تھیں اس تحقیق، علاج معالجہ اور دواؤں پر جو خرچ رقم خرچ ہوتی ہے اس کا بھی کوئی شمار نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اس سے کہیں زیادہ بڑی رقم انسان کی تباہی کے لیے بننے والے ہتھیاروں پر خرچ ہو رہی ہے ایک انسان کو بچانے کے لیے طبی ماہرین سالہا سال جان توڑ محنت کرتے ہیں لیکن ایک بم سیکڑوں ہزاروں انسانوں کی جان لے لیتا ہے اور سینکڑوں ہمیشہ کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔
آخر حضرت انسان چاہتا کیا ہے۔ زندگی یا موت۔ بقا یا فنا۔ وہ اپنی نسل کو بچانا چاہتا ہے یا ختم کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف انسان کی زندگی بچانے کے لیے اتنی محنت، اتنی ریسرچ اور قیمتی دوائیں بنائی جا رہی ہیں اور دوسری طرف ان ہسپتالوں کو بھی ملیا میٹ کر دیا جاتا ہے جہاں بیماروں اور زخمیوں کا علاج ہوتا ہے جس کی حالیہ مثال فلسطین کی ہے جہاں بچوں اور مریضوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ہسپتالوں کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر اور دیگر عملہ بھی اپنی جان نہ بچا سکا۔ دونوں طرف انسان ہیں اور وہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ کچھ مسیحا بن کر زندگی بانٹ رہے ہیں اور کچھ ملک الموت بن کر موت تقسیم کر رہے ہیں۔ کچھ زخم دے رہے ہیں اور کچھ ان زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں۔ ہم ان دو انتہاؤں کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں کبھی ہمارا جھکاؤ ایک طرف ہوتا ہے اور کبھی دوسری طرف۔ کبھی ظالم کے مقاصد سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے اور کبھی مظلوم کی آہ دل پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ کش مکشِ حیات ہے جو آغازِ آفرینش سے امتحان بن کر انسان کے قلب و ذہن میں جاری رہتی ہے۔ صدیوں کے تجربات کے بعد بھی آخر انسان بحیثیت مجموعی اپنے نفع نقصان کا، اپنی ترجیحات کا تعین کیوں نہیں کر لیتا۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق دُنیا کے ساٹھ فی صد لوگ جنگ، جرائم اور جارحیت سے سہم کر زندگی گزارتے ہیں ان میں سے کچھ راتوں میں سو نہیں سکتے اور کچھ ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ اس خوف کی وجہ کوئی دوسری مخلوق نہیں ہے بلکہ یہی انسان ہے جو خود کو مہذّب کہتا ہے۔ اتنا خوف و دہشت جنگل میں بھی نہیں ہوتا ہو گا جہاں درندے بستے ہیں۔ کیونکہ جنگل میں رہنے والے جانوروں نے بقائے باہمی کے کچھ اصول بنا رکھے ہیں۔ کم از کم وہ اپنی ہی نسل کو نہیں کھاتے۔ وہ تجربے اور شوق کے لیے بھی کسی کو شکار نہیں کرتے۔
انسان کی درست ترجیحات، اس کی انسان دوستی، امن پسندی اور اصول بقائے باہمی ہی اسے انسانیت کے بلند درجے تک پہنچاتی ہیں۔ آسٹریلیا، امریکہ اور دیگر کئی ملکوں میں ہر رنگ و نسل، مذہب، زبان اور ذات کے لوگ بقائے باہمی کے اصول کے تحت پُرامن زندگی بسر کرتے ہیں یہی اُصول بین الاقوامی سطح پر کیوں نہیں اپنایا جاتا۔
زبان، مذہب، فرقہ، ذات پات، رنگ اور علاقہ پہچان تک محدود رہے تو مناسب ہے، اسے نفرت اور عداوت کی وجہ بنا کر انسان جانوروں سے بھی نچلے درجے پر چلا جاتا ہے۔ انسان کو پروردگار نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اسے عقلِ سلیم دی ہے۔ اس عقل سے اس دنیا کو جنت نظیر بنا سکتا ہے ایسی جنت جس میں بھوک، بیماری، دہشت اور موت کا خوف نہ ہو۔ کیا انسان اپنے لیے، اپنی نسل کے لیے اور اپنی بقا کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ اس دنیا کو اپنا گھر سمجھے اور دیگر انسانوں کو اپنے جیسا انسان۔
یہ بھری پری آباد دُنیا جسے گلوبل ولیج کہتے ہیں، جہاں اربوں انسان بستے ہیں، جہاں علم و ہنر ہے، عقل و دانش ہے، آگہی ہے، رابطے ہیں، ٹیکنالوجی ہے، سفر و حضر کی سہولتیں ہیں، ایک دوسرے سے شناسائی ہے، امن عالم کی اہمیت کا احساس ہے۔ آج انسان تعلیم یافتہ ہے اس کے سامنے صدیوں کا تجربہ ہے۔ قوموں، ملکوں اور دیگر گروہوں کی لڑائیوں کے اسباب، واقعات اور انجام کی خبر ہے۔ جنگوں کی تباہ کاری سے آگاہی ہے۔ اسے یہ بھی علم ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ بے شمار مسائل کی جڑ ہے۔ انسانیت کی قاتل ہے۔ جنگوں نے ہمیشہ موت، تباہی، بربادی، بھوک اور بیماریاں دی ہیں۔ آج ہمارے پاس ایسے تحقیقی ادارے ہیں جو ان تباہیوں کے بارے میں ٹھیک ٹھیک بتا سکتے ہیں۔ اور ایسے پلیٹ فارم موجود ہیں جن کو استعمال کر کے گفت و شنید کے ذریعے، افہام و تفہیم کے ذریعے اور ایک دوسرے کی مدد کر کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انسان اگر انسان بن جائے تو پر امن بقائے باہمی کے ذریعے دُنیا کو محفوظ و مامون بنا سکتا ہے جہاں کسی کو کسی کا خوف نہ ہو۔
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت


