انصاف: حقیقت یا افسانہ


عدالت کے باہر ایک بوڑھا شخص بینچ پر بیٹھا اپنی فائل کے بوسیدہ صفحات الٹ رہا تھا۔ ہر صفحے پر تاریخوں کی قطار تھی، فیصلے کا انتظار طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا تھا۔ دوسری طرف سڑک کنارے، ایک ننگے پاؤں بچہ گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دے رہا تھا، ہاتھ میں سکول کی کتابیں نہیں، بلکہ چند سکے اکٹھے کرنے کی امید تھی۔ کسی اور گلی میں ایک نوجوان لڑکی چپ چاپ کھڑکی کے پیچھے کھڑی تھی، اس دنیا کی رونقوں سے کٹی ہوئی، کیونکہ اسے سکھایا گیا تھا کہ آزادی اور تعلیم صرف مخصوص طبقے کے لیے ہے۔

یہ کہانیاں کسی ایک شہر یا چند افراد تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے لاکھوں شہریوں کی روزمرہ کی حقیقت ہیں۔ ہر سال 20 فروری کو دنیا سماجی انصاف کا عالمی دن مناتی ہے، لیکن کیا یہ محض ایک رسمی دن ہے، یا حقیقی معنوں میں مساوات اور انصاف کا حصول ممکن بھی بنایا جا رہا ہے؟ اقوامِ متحدہ کے مطابق، اس وقت دنیا کی 40 فیصد آبادی بنیادی حقوق، مساوی مواقع، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ پاکستان میں یہ صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں 22 فیصد سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملک کی کل دولت کا 44 فیصد صرف ایک فیصد امیر ترین افراد کے ہاتھ میں ہے، جبکہ عام آدمی روز بروز بڑھتی مہنگائی اور وسائل کی کمی سے نبردآزما ہے۔

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر پاکستان میں یہ بنیادی حق عام شہری کے لیے ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 2.2 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں شامل ہے۔ حکومت تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 1.7 فیصد خرچ کر رہی ہے، جب کہ عالمی معیار کے مطابق یہ کم از کم 4 فیصد ہونا چاہیے۔ اس کمزور تعلیمی نظام کے باعث امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی تفریق بڑھتا جا رہا ہے۔ نجی ادارے بہترین سہولتوں کے ساتھ جدید تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، وسائل کا فقدان، اور غیر معیاری نصاب عام ہیں۔

صحت کی سہولیات کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پاکستان میں 60 فیصد آبادی کو بنیادی طبی سہولیات دستیاب نہیں۔ ملک میں ایک ہزار افراد کے لیے صرف 0.6 ڈاکٹر موجود ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں صورت حال مزید سنگین ہے، جہاں مناسب علاج نہ ملنے کے سبب ہر سال ہزاروں افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں وسائل کی کمی، طویل انتظار، اور ناقص سہولیات کے باعث عام شہری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ نجی اسپتالوں میں مہنگا علاج صرف صاحبِ حیثیت افراد کے لیے ممکن ہے۔

معاشی اور سماجی ترقی میں خواتین کا کردار کسی بھی معاشرے کے لیے ناگزیر ہے، لیکن پاکستان میں صنفی عدم مساوات آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے جینڈر گیپ انڈیکس 2023 کے مطابق، پاکستان 146 ممالک میں سے 142 ویں نمبر پر ہے، جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک میں ہر تین میں سے ایک عورت گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے، جبکہ کام کرنے والی خواتین کی شرح محض 21 فیصد ہے، جو کہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔

انصاف کا حصول بھی ایک عام شہری کے لیے ایک خواب بن چکا ہے۔ پاکستان کی عدالتوں میں تقریباً 22 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ امیر اور با اثر افراد کے لیے انصاف کا نظام تیز رفتار اور قابلِ رسائی ہے، لیکن عام آدمی کے لیے یہ عمل اتنا طویل اور پیچیدہ ہے کہ اکثر لوگ انصاف کے انتظار میں اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔

یہ مسائل صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی سماجی نا انصافی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ امریکہ میں ”بلیک لائیوز میٹر“ جیسی تحریکیں ثابت کرتی ہیں کہ نسل پرستی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یورپ میں تارکین وطن کے مسائل، اور مشرق و سطیٰ میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والا سلوک انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، دنیا میں اس وقت 71 کروڑ سے زائد افراد شدید غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستان میں سماجی انصاف کے فروغ کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ حکومت کو تعلیم اور صحت کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ ہر شہری کو معیاری سہولیات دستیاب ہو سکیں۔ خواتین کے لیے مساوی مواقع، صنفی تفریق کے خاتمے، اور روزگار کے مواقع میں بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدالتی نظام کو بہتر بنا کر زیرِ التوا مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کا بندوبست کیا جانا چاہیے، تاکہ ہر شہری کو فوری اور سستا انصاف میسر ہو۔

سماجی انصاف کا قیام محض ایک نظریہ نہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ ترقی کا خواب تبھی حقیقت بنے گا جب ہر شہری کو مساوی مواقع، معیاری تعلیم، بنیادی صحت کی سہولیات اور فوری انصاف میسر ہو گا۔ اصل تبدیلی بیانات اور دعووں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آئے گی۔ وہ دن جب کوئی بچہ ننگے پاؤں بھیک مانگنے کے بجائے اسکول جائے گا، جب کوئی بوڑھا شخص برسوں کے انتظار کے بجائے فوری انصاف حاصل کرے گا، اور جب کوئی لڑکی خوف اور جبر کے سائے سے نکل کر اپنی تعلیم اور آزادی کا حق حاصل کر سکے گی۔ یہی دن سماجی انصاف کے قیام کا دن ہو گا۔

Facebook Comments HS