نکاح نامے کے سادہ لفظوں میں چھپی پیچیدہ تقدیریں

نکاح صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ دو بالغ افراد کے درمیان ایک سنجیدہ، قانونی اور سماجی معاہدہ ہے جو ان کی زندگی کا ایک نیا باب کھولتا ہے۔ قرآن مجید نے نکاح کو ”میثاقاً غلیظاً“ یعنی نہایت مضبوط عہد قرار دیا ہے، لیکن ہمارے معاشرتی رویے اس کے برعکس ہیں۔ خصوصاً دیہی اور کم خواندہ طبقات میں نکاح نامے کو محض ایک رسمی دستاویز سمجھا جاتا ہے، جو شریعت سے بے تعلق اور صرف قانونی ضرورت کے طور پر

Read more

چاغی کی گواہی: جب ڈاکٹر عبدالقدیر نے تاریخ رقم کی

پاکستان کی تاریخ میں چند ایام ایسے ہیں جو قوم کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ 28 مئی 1998 ء کا دن، جسے ہم یومِ تکبیر کے نام سے یاد کرتے ہیں، انہی میں سے ایک ہے۔ یہ دن صرف ایٹمی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل فکری، سائنسی، عسکری اور قومی جدوجہد کا عملی اظہار تھا۔ مگر اگر اس دن کی کوئی آواز ہے، تو وہ سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے، جنہوں نے علم، عزم اور

Read more

نئے جنگی حربوں میں ٹیکنالوجی، بیانیہ اور حکمت کا امتزاج

دنیا کی تاریخ میں کچھ خطے ایسے ہوتے ہیں جو صرف جغرافیہ نہیں، ایک مسلسل سانحہ ہوتے ہیں۔ جن کا ہر منظر، ہر موڑ ایک نئے المیے کو جنم دیتا ہے۔ جنوبی ایشیا ان میں سے ایک ہے۔ یہاں جنگیں صرف بارودی نہیں ہوتیں، یہ انسان کی فکری کم مائیگی، سفارتی ناکامی اور تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کی بدنصیبی کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کوئی پہلی بار نہیں، لیکن اس بار جنگ نے ایک نیا

Read more

دیر کی سفید ٹوپی: ہماری پہچان، ہماری ثقافت

  دیر کی سفید روایتی ٹوپی صرف سر ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کی علامت ہے۔ بچپن سے اس ٹوپی کو پہنے بزرگوں کو دیکھتا آیا ہوں، اور وقت کے ساتھ یہ احساس اور گہرا ہوتا گیا کہ یہ محض کپڑے اور دھاگے سے بنی چیز نہیں، بلکہ ایک پوری تاریخ ہے جو سر پہ رکھی جاتی ہے۔ یہ ٹوپی صدیوں سے دیر کی خواتین اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی آ رہی ہیں۔ سب سے

Read more

کیا واقعی وکیل جھوٹے ہوتے ہیں؟

ہمارے معاشرے میں وکیلوں کے بارے میں عمومی سوچ یہی ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ میں بدلنے کے ماہر ہوتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔ جب کوئی بھی مقدمہ عدالت میں آتا ہے تو لوگ فوراً فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ ایک فریق سچا ہے اور دوسرا جھوٹا۔ ان کے نزدیک جو وکیل کسی ملزم کا دفاع کر رہا ہوتا ہے، وہ گویا اس کے جرم کو چھپانے میں شریک ہے۔ خاص طور پر

Read more

کیا آپ بھی بغیر تحقیق کے شیئر کر رہے ہیں؟

آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور اور موثر ذریعہ ابلاغ بن چکا ہے جس کے ذریعے معلومات کا تبادلہ انتہائی تیز رفتار اور وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پلیٹ فارم لوگوں تک صحیح معلومات پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اسی تیز رفتار تبادلے کے باعث غلط معلومات کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر اسلام سے متعلق مواد کو بغیر تحقیق کے

Read more

دارالعلوم حقانیہ پر حملہ حقیقت کیا ہے؟

اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کی مسجد پر خودکش حملہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ مدارس پر دہشت گردی کے الزامات تو پہلے بھی لگتے رہے ہیں، لیکن اگر مدارس واقعی شدت پسندی کے مراکز ہیں تو پھر دہشت گرد انہی کو نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟ اگر یہ مکمل طور پر پُرامن تعلیمی ادارے ہیں تو پھر دہشت گردی کے خلاف ان کی اجتماعی آواز اور کردار اتنا مدھم کیوں رہا ہے؟

Read more

پردہ اور تعلیم: عصری پختون روایت

پردہ یا حجاب ایک ایسا موضوع ہے جو نہ صرف اسلامی معاشرت میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ مختلف ثقافتوں میں بھی اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ عربی لفظ ”حجاب“ اور فارسی لفظ ”پردہ“ دونوں تقریباً ایک ہی معنی رکھتے ہیں، جو کسی عورت کے جسم کو غیر محرموں کی نظروں سے چھپانے کی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پردے کا مقصد محض جسم کی پوشیدگی نہیں بلکہ اس کے ذریعے عورت کی عزت، وقار اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا

Read more

انصاف: حقیقت یا افسانہ

عدالت کے باہر ایک بوڑھا شخص بینچ پر بیٹھا اپنی فائل کے بوسیدہ صفحات الٹ رہا تھا۔ ہر صفحے پر تاریخوں کی قطار تھی، فیصلے کا انتظار طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا تھا۔ دوسری طرف سڑک کنارے، ایک ننگے پاؤں بچہ گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دے رہا تھا، ہاتھ میں سکول کی کتابیں نہیں، بلکہ چند سکے اکٹھے کرنے کی امید تھی۔ کسی اور گلی میں ایک نوجوان لڑکی چپ چاپ کھڑکی کے پیچھے کھڑی تھی، اس

Read more

تعلیم، جنسی ہراسانی اور ہمارا معاشرہ

مالاکنڈ یونیورسٹی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ نہ صرف ایک فرد یا ادارے کی کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ ہمارے تعلیمی نظام، سماجی ڈھانچے، اور قانونی کمزوریوں کا آئینہ دار ہے۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہراسانی جیسے مسائل کسی ایک طبقے یا جنس تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے جس کا حل سماجی، تعلیمی، اور قانونی سطح پر ہی

Read more