جرمنی میں وفاقی پارلیمان کے لیے اکیسویں انتخابات اور رضاکار
جرمنی میں بلدیاتی، صوبائی اور وفاقی انتخابات ہمیشہ سرکاری چھٹی کے دن طے پاتے ہیں۔ جرمنی میں امسال تیئس فروری بروز اتوار کو ہونے والے وفاقی انتخابات میں، ممکنہ مخلوط حکومت بننے کے متعلق، بہت سی تحریریں اور تبصرے لکھے جا چکے ہیں۔
انسٹھ ملین جرمن باشندے، وفاقی پارلیمان کی چھ سو تیس سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالنے میدان میں آ چکے ہیں۔ بیلٹ بکس اور پوسٹل ووٹنگ کے لئے تقریباً نوے ہزار حلقے مقرر ہوئے ہیں۔ بیلٹ بکس حلقوں میں صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک ووٹ ڈالنے کا عمل جاری رہے گا۔ ہر پوسٹل ووٹنگ اور بیلٹ بکس ووٹنگ کے حلقہ پر ایک چیئرمین کمیٹی، جس میں چیئرمین، نائب چیئرمین اور تین سے سات ایسوسی ایٹ اراکین شامل ہیں، نامزد کی جاتی ہے۔ ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے ساتھ ہی، ٹھیک چھ بجے شام، جرمن ٹیلیویژنوں کی نشریات شروع ہو جاتی ہیں جن میں نتائج کی پروجیکشن کے اعلانات ہوتے ہیں۔ سن انیس سو ترانوے سے خاکسار بحیثیت جرمن ووٹر یہ مشاہدہ کر رہا ہے کہ ٹیلیویژنوں کی پروجیکشن اور بعد میں حتمی نتائج میں نہایت معمولی فرق ہوتا ہے۔
جرمنی میں صحیح جمہوریت کے لئے ووٹ ڈالنے کے عمل کو، دھاندلی کے بغیر مکمل ہونے میں، رضاکارانہ طور پر کام کرنے کے لئے الیکشن ورکرز کا کردار نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس انتخابات کے وفاقی ریٹرننگ افسر کے مطابق، تقریباً چھ لاکھ پچھتر ہزار باشندے، استحقاق کے محافظ، رضاکارانہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور ووٹ ڈالنے والے حلقوں میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ رضاکار سول سوسائٹی کے اصلی ہیروز ہیں۔ بعض بڑے شہروں میں ان کی تعداد دس ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔
جرمنی میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے کا کلچر بہت وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔ جرمن ذرائع کے مطابق، تقریباً اٹھائیس اعشاریہ آٹھ ملین باشندے اپنے فری ٹائم میں جرمنی کے مختلف شعبوں میں رضاکارانہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ سول سوسائٹی میں ان رضاکاروں کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سن انیس سو نناوے میں، رضاکاروں کی تعداد اکتیس فیصد تھی جو اب بڑھ کر تقریباً چالیس فیصد ہو چکی ہے۔ چودہ سال کی عمر ہی سے نوجوان، رضاکاروں کی تنظیموں میں اپنا نام لکھوانا شروع کرتے ہیں۔ یہ رضاکار عمر رسیدہ باشندوں کی شاپنگ کے وقت مدد کرتے ہیں اور چلنے پھرنے کا سہارا بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں اسپورٹ کلبوں، سماجی اداروں اور میوزک وغیرہ کے شعبے میں بھی یہ رضاکار پیش پیش ہوتے ہیں۔ فرسٹ ایڈ، قدرتی آفات کا روکنا، آگ بجھانا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔ کچھ رضاکار، جرمن عدالتوں میں سرکاری ججوں کے ساتھ بطور عمائدین بھی عدالتوں میں بیٹھتے ہیں۔
جرمنی میں پناہ گزینوں کی مدد کے لئے بھی ہزاروں جرمن رضاکار کام کر رہے ہیں پناہ گزینوں کے ساتھ جرمن دفتروں میں جانا، ان کی رہائش کا بندوبست کرنا، چندہ جمع کرنے کے انتظامات کرنا، رضاکاروں کے فرائض ہیں۔ جرمن کمیونٹی کی مشترکہ بھلائی کے لئے رضاکاروں کی موجودگی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت اور معیشت کا ڈاٹا اہم تو ہوتا ہے لیکن سوسائٹی میں سماجی رابطوں کے بغیر ہم آہنگی نہیں ہو پاتی جن میں لوگ آپس میں میل جول اور روابط استوار کرتے ہیں اس سے جمہوری اقدار کا تقدس پامال نہیں ہوتا اور جمہوریت میں بڑھوتری آتی ہے۔
ان رضاکار ورکرز کو اپنے کام کے عوض کچھ نہ کچھ رقم، بطور جیب خرچ بھی ملتا ہے۔ اور سال میں ایک دفعہ وفاقی جمہوریہ کے صدر کی طرف سے تمغے اور انعامات سے نوازا جاتا ہے لیکن ان کا انسانی خدمت کا جذبہ ان سب سے کہیں زیادہ ہے۔


