میچ محنت اور تدبیر سے جیتا جاتا ہے تسبیحات کے سہارے نہیں
ہماری کرکٹ ٹیم ”المعروف ایم ٹی جے الیون“ نے سابقہ روایت کو اس چیمپئنز ٹرافی میں بھی برقرار رکھا، جیت اور محنت یا ٹیم اسپرٹ سے کوسوں دور رہے، ہاں البتہ گراؤنڈ سے باہر تسبیحات کا ورد ضرور جاری رہا لیکن قدرت کا نظام انڈیا کی ٹیم کے حق میں رہا۔
خیر ہمارا تو ایمان بھی ہے نا کہ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے، اس کی منشا کے بغیر تو پتہ بھی حرکت نہیں کرتا یہ تو پھر بھی میچ تھا، ممکن ہے مولانا طارق جمیل یہ توجیہہ پیش کریں کہ قادر مطلق ہم سے ناراض تھا۔
ہمیں ہماری ٹیم میں تبلیغی جذبہ تو خوب دکھتا ہے اچھی بات ہے لیکن سپورٹس مین شپ کی جھلک دکھائی نہیں دیتی، فائٹنگ اسپرٹ، باہمی منصوبہ بندی اور موقع کی مناسبت سے حکمت عملی تبدیل کرنے ایسے اہم فیکٹرز مفقود دکھائی دیتے ہیں۔
گیم میں ہار جیت تو ہوتی ہے لیکن اس قدر خائف، دباؤ اور سست روی کیوں؟
ایک ایک اسکور یا گول قیمتی ہوتا ہے لیکن ہماری ٹیم کا تو مورال اس قدر بلند تھا کہ چوکے چھکے کے چکروں میں ایک اسکور بنانے میں ہتک محسوس کر رہے تھے اور اسی سست روی کا خمیازہ آخر میں بھگتنا پڑا۔
تبلیغ کریں یا مبلغ بنیں ہمیں اس سے کیا سروکار لیکن کم از کم وہ فریضہ تو دیانتداری سے سرانجام دیں جس کی آپ کو تنخواہیں ملتی ہیں، پروفیشنل اونیسٹی کا بھرم رکھنے سے تو مذہب آپ کو منع نہیں کرتا نا! دنیا بھر میں لوگ مختلف مذاہب پریکٹس کرتے ہیں، ہر شخص کا اپنا یقین یا سائن ہوتا ہے اور ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے لیکن یہ ایک انتہائی ذاتی سا معاملہ ہوتا ہے، دونوں کے درمیان توازن کو برقرار رکھنا بھی ایک انسانی تقاضا ہے۔
دعا و مناجات بھی اسی وقت کارگر ثابت ہوتی ہیں جب تدبیر و ریاضت کا گراف بلند ہو، قدرت کبھی کمزور کا ساتھ نہیں دیتی، جہدوجہد اور کامیابی کے حصول کے لیے سرتوڑ کوششیں کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہے۔
چلیں خیر جو ہوا سو ہوا، کاتب تقدیر کو یہی منظور تھا، اب ہماری ٹیم جماعت میں چالیس روز یا سال لگانے کے لیے بالکل آزاد ہے، میچ تو نہیں جیت پائے چلیں آخرت ہی اچھی ہو جائے۔
ویسے بھی دنیا فانی ہے، دنیا تو دنیا داروں کے لیے ہے، ہمیں اس مردار دنیا سے کیا لینا دینا بھائی؟


