وہ ہر کام میں پرفیکشن چاہتے تھے


ایک فیملی گیدرنگ میں بہت عرصے بعد فرزانہ آنٹی سے ملاقات ہوئی ان کو دیکھ کے پہلا احساس یہ ہوا کہ وہ بہت پرسکون ہو گئی ہیں ان کی آواز کا اطمینان ان کے چہرے کا سکون ان کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ ان کی زندگی اب اس جگہ پہ پہنچ گئی ہے جہاں ان کی خواہش تھی۔ میں نے بہت دھیرے سے کہا کہ انکل کے انتقال کے بعد اب آپ کو اتنے دنوں بعد دیکھا ہے مگر آپ ماشاءاللہ سے پرسکون لگ رہی ہیں اطمینان چہرے سے جھلک رہا ہے، انہوں نے بہت گہری نظر سے مجھے دیکھا ایک گہری سانس بھری اور کہا کہ ہاں ان کے جانے کی تکلیف تو بہت ہوئی مگر اب ان کے جانے بعد میں اب بہت پرسکون ہوں ان کی عادت تھی کہ وہ ہر کام وقت پر چاہتے تھے اور ہر کام میں پرفیکشن چاہتے تھے جو شاید میں چاہ کر بھی نہیں دے پاتی تھی اور اس کے نتیجے میں ان کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو میری مجبوری تھی لیکن اس کی وجہ سے میں مسلسل اسٹریس میں رہتی تھی، اور اب وہ اسٹریس ختم ہو چکا ہے، ان کے جانے کا دکھ تو ہے مگر اب زندگی میں سکھ ہے۔

یہ صرف ایک خاتون خانہ کی کہانی نہیں یہ شاید ہر گھر کی کہانی ہے۔ کوئی کہہ دیتا ہے اور کوئی نہیں کہتا کہ ہمارے گھر کے مرد ہمارے شوہر اپنی بیویوں پر خصوصاً ان بیویوں پر جو خاتون خانہ ہوتی ہیں اور باہر کام نہیں کرتیں بہت زیادہ پریشر رکھتے ہیں ہر کام بہترین انداز میں سر انجام دینے کا، ہر کام پرفیکشن کے ساتھ کرنے کا، ہر کام وقت پہ کرنے کا، حتیٰ کہ بڑی بڑی دعوتیں گھر پر ہی مینج کرنے کا اور اس کے لئے کیا جانے والا ہر کام پوری ذمہ داری سے وقت پر ہونے کا اس دوران میں خاتون خانہ جس کٹھن امتحان سے گزرتی ہے اس سے آگاہ ہونا وہ ضروری نہیں سمجھتے ان کو صرف دعوت اور دعوت میں آنے والے مہمانوں کی تعریفوں سے سروکار ہوتا ہے اور یہی نہیں ان کو زندگی میں ہر شعبے میں پرفیکشن چاہیے ہوتی ہے کہ ان کے بچے امتحان میں اچھی پوزیشن لائیں، ان کا گھر صاف ستھرا رہے، ان کے رشتہ داروں کو ان سے کوئی شکایت نہ ہو، ان کے ملنے جلنے والے ان کے گھر کی ان کے بچوں کی ان کے رہن سہن کی تعریف کریں اور اس سب کے لیے قربانی صرف اور صرف ان کی بیگمات دیں اور کامیابی کا سہرا ان کے سر باندھا جائے۔ اب ایک اور پہلو سے یہی کہانی سنیں۔

آج کل ایک انڈین مووی مسز کا بہت چرچا ہو رہا ہے اس کہانی میں ایک نوجوان لڑکی بیاہ کر ایک نئے گھر میں آتی ہے جہاں پر اس سے بہت ساری توقعات باندھ لی جاتی ہیں اور بہت شروع میں ہی اس پر بہت بھاری ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں اور وہ اپنی پوری کوشش پوری توجہ سے ان تمام ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے لئے گھر کا کوئی فرد بمعہ اس کے شوہر کے اس کا ساتھ نہیں دیتا لیکن وہ اپنی پوری لگن سے اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرتی ہے لیکن اس کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، کوئی تعریف نہیں کی جاتی، اس کو سراہا نہیں جاتا بلکہ اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ خاموشی سے اپنا کام جاری رکھے گی اور اپنے آپ کو بھی بھلا دے گی وہ کیا تھی، کیا ہے وہ کیا بننا چاہتی تھی اس کے کئی خواب تھے، اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ فلم میں لڑکی کچھ وقت تک تمام ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتی ہے گھر کے کام کرتی رہتی ہے لیکن جب اس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی کہی ہوئی بات سنی ہی نہیں جا رہی اور اس کے وجود کی مکمل طور پر نفی کی جا رہی ہے تو وہ اچانک سے ایک دن پھٹ پڑتی ہے اور اپنے گھر واپس چلی جاتی ہے یہاں کہانی کا اختتام ہو جاتا ہے۔

یہ کہانی بہت سارے گھروں کی کہانی ہے جہاں آنے والی بہوؤں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنا کیریئر، اپنا آپ، اپنے رشتہ دار، اپنی تعلیم سب کچھ بھلا دیں گی اور صرف اور صرف گھر والوں کی خدمت گزاری کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں گی شاید ایسا کہیں ہو بھی جاتا ہو گا لیکن اب آج کی لڑکی اپنے گھر کے ساتھ اپنے کیریئر کو بھی چلانا چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ کسی سے کچھ نہیں چاہتی بلکہ تمام محنت خود کرتی ہے لیکن اگر اس کی اس محنت کو سراہا بھی نہ جائے اور اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، اس کو پابندیوں میں جکڑ دیا جائے تو نتیجہ یہی سامنے آئے گا جو اس کہانی میں دکھایا گیا اور اگر آج اس کہانی کو کہانی سمجھنے والے اس کہانی سے سبق نہیں سیکھیں گے تو کل کو جب وہ اس کہانی کے کردار بن کے سبق سیکھیں گے تو وہ شاید ان کے لیے زیادہ مشکل ہو گا۔

Facebook Comments HS