پاکستان چیمپئنز ٹرافی کی دوڑ سے باہر: کچھ حقائق
پاکستان میں 29 سال بعد آئی سی سی ٹورنامنٹ کی واپسی ہوئی۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا آغاز 19 فروری کو پاکستان نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلے سے ہوا جو نیوزی لینڈ نے با آسانی 60 رنز سے اپنے نام کیا۔ 23 فروری کو روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑا ٹاکرا دبئی کے میدان میں سجا۔ جو بھارت نے ویرات کوہلی کی شاندار سینچری کی بدولت 6 وکٹوں سے اپنے نام کیا اور پاکستان محض 4 دن بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن گیا۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے پاس پورا اختیار ہے۔ پوری طاقت ہے۔ جس کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے گراؤنڈ تو تعمیر کروا دیے۔ لیکن ان کو کرکٹ کی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ جن کو سمجھ بوجھ ہے ہمارے کوچ عاقب جاوید انہوں نے ایسی ٹیم منتخب کی ہے جس میں کوئی دوسرا اسپنر ہی موجود نہیں ہے۔ نا کوئی پراپر اوپنر موجود ہے۔ آپ بابر اعظم سے اوپن کروا رہے ہیں۔ جس کی 60 کی ایوریج نمبر 3 پر ہے۔ باؤلرز ڈیتھ اوور میں بالنگ نہیں کروا پا رہے۔ سو سو رنز دے رہے ہیں آخری اوورز میں۔ ایسے آپ چھوٹی ٹیموں کے خلاف تو جیت سکتے ہیں لیکن بڑے ٹورنامنٹ میں آپ کی دال نہیں گل سکتی
بطور چیئرمین محسن نقوی صاحب کا یہ دوسرا آئی سی سی ٹورنامنٹ ہے پہلے ٹورنامنٹ ٹونٹی ورلڈ کپ میں پہلے راؤنڈ میں باہر ہو گئے تھے۔ اب دوسرا موقع ہے کہ آپ بطور میزبان ہوتے ہوئے اپنے ملک میں محض دو میچز کے بعد اتنے بڑے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے ہیں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ بڑے ناموں کو ڈراپ کرنا ہو گا۔ ڈومیسٹک کرکٹ سے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم بنانی ہوگی۔ کب تک آپ ان چلے ہوئے کارتوسوں کو استعمال کرتے رہیں گے۔
چیمپئنز پی سی بی محسن نقوی کو چاہیے کہ سابق کرکٹر کے ساتھ بیٹھیں۔ اور بڑے فیصلے کریں۔ ورنہ کرکٹ کا حال بھی ہاکی جیسا ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

