زندگی جہد مسلسل (2)
یہ انسانی زندگی بھی بڑی عجیب شے ہے اور خود حضرت انسان بھی۔ کبھی نہ کبھی، ہر شخص اپنی عمر کے ایک مرحلے پر پہنچ کر پھر سے بچہ بننے کی آرزو کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ گزرا ہوا وقت پلٹ آئے۔ کبھی کبھی من کرتا ہے کہ ماضی کا سفر کیا جائے اور ان لمحوں کو دوبارہ محسوس کیا جائے۔ مگر کیا کیجیے، یہ کبھی ہوا ہے نہ ہو گا۔ لیکن انسان اپنے سے جڑے حالات و واقعات تو قلم بند کر ہی سکتا ہے بس یہی سوچ کر ”زندگی جہد مسلسل“ کے نام سے سلسلہ وار کالم لکھنے کا سوچا۔
ویسے تصور کیجیے، اگر قدرت آپ کو یہ موقع دے دے۔ اگر آپ کو دوبارہ ماضی کی طرف دھکیل دیا جائے یا حال کو برقرار رکھتے ہوئے آپ کی عمر کو کم کر دیا جائے تو آپ کے احساسات کیا ہوں گے؟ کیا آپ اپنے ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو سدھارنا چاہیں گے؟ کیا آپ ایک ایک لمحے کو بھرپور جی پائیں گے؟ یہ اپنے اندر ایک تڑپتا ہوا سوال ہے۔
”اگر ہر اُترتی شب ہم اپنا محاسبہ نہ بھی کر سکیں تو سال کا آخری روز پورے سال کے اعمال کا جائزہ لینے کو کافی ہوتا ہے لیکن یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں کم از کم ایک دن تو ایسا آتا ہے جب اتنی بڑی کائنات میں وہ دن صرف ہمارا ہوتا ہے۔
ہمارا جنم دن۔ اگر اس روز ہمارا احساس نہ جاگے ایک پل کو بھی یہ خیال نہ آئے کہ ہم کیوں اس دُنیا میں آئے؟ ہماری تخلیق کا مقصد کیا تھا؟ تو اس سے بڑی زیادتی اپنے آپ کے ساتھ اور کوئی نہیں۔ بے شک اس سوال کا جواب ہمیں کبھی نہیں ملتا اور نہ ہی ہم اس کو جاننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پر کسی سوال کا جواب نہ ملنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ سوال لایعنی ہے۔ اہم یہ ہے کہ اس روز اپنے ساتھ کچھ وقت گزارا جائے، اپنے آپ کو وقت دیا جائے۔
اور ہم اس کے برعکس اپنے آپ کو فراموش کر کے اپنی خوشیاں دوسروں کی آنکھوں میں تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے پیاروں کے احساس میں وہ ہمیں ضرور ملتی ہیں لیکن جتنی خوشی ہم اپنے آپ کو دے سکتے ہیں اتنی شاید کسی کا بڑے سے بڑا تحفہ بھی نہیں دے سکتا۔ ”سکون“ وہ نعمت وہ تحفہ ہے جو اپنے جنم دن کی صبح بستر سے صحت اور سلامتی کے ساتھ اٹھنے کے بعد ملتا ہے۔ اگر ہم اس پل اس خوشگوار احساس کو محسوس کر سکیں۔
” سوال ہمارے وجود کے شجر سے پھوٹتی وہ نرم و نازک کونپلیں ہیں جو خیال کی بارش کے بعد نمودار ہوتی ہیں اور اِسے سرسبز بناتی ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو ٹنڈ منڈ درخت نہ سایہ دیتے ہیں اور نہ ہی بارآور ہوتے ہیں“ ۔
جنم دن سالگرہ کا دن بھی کہلاتا ہے۔ گزرتے سال جو کھویا جو پایا اُس کو گرہ کی صورت ذہن نشیں کر لینا آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماضی کی یاد میں ٹھنڈی آہیں بھرنے والے نہ صرف حال سے مطمئن نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے وسوسے اور اندیشے بھی کسی پل چین نہیں لینے دیتے۔ سالگرہ کے بعد آنے والا اگلا دن ہمارا ایک نیا جنم دن ہوتا ہے جس میں آنے والے سال کے خواب ہمارے ساتھ آنکھیں کھولتے ہیں۔ خواب اور حقیقت کے مابین فاصلہ رکھنا ہی اصل کمائی اور اہلیت ہے۔ جن کے خواب زندہ رہتے ہیں حقیقت کی دُنیا میں بھی پوری تابندگی کے ساتھ جگمگانا اُن کا مقدر ہے۔ ورنہ محض خواب دیکھنے والی آنکھیں عمل سے دور اپنی ذات کی اسیر ہوجاتی ہیں۔
دعاء کیجئے
یا اللہ! اب تک کی زندگی میں آپ نے جو کچھ ہمیں دیا، جو کچھ ہم نے نیک اعمال کیے اور جو کچھ ہم نے سنا اور کہا یہ سب آپ کی عطا ہے، اور اب تک کی زندگی میں جو کچھ ہم سے غلط ہوا وہ ہماری کوتاہی، نالائقی اور سستی ہے آپ ہماری لغزشوں سے درگزر فرمائیے اور ہمیں معاف کر کے پاک و صاف کر دیجئے،
یا اللہ! آپ کے انعامات برحق، آپ کے احسانات برحق، آپ نے تو یا اللہ ہمیں یقیناً اپنی رحمتوں اور تعلق خصوصی سے مالا مال فرما دیا اور ہم جس کے حقدار نہ تھے آپ نے وہ بھی عطا فرما دیا
یا اللہ! اس دولت عظیم کو ہم کیسے سنبھالیں گے؟ ہمارے نفس و شیطان دونوں ڈاکو ہیں
یا اللہ! یہ تو آپ کی دی ہوئی دولت ہے آپ ہی حفاظت فرما دیجئے
یا اللہ! ہمیں توفیق دیجئے کہ ہم ان انعامات کی قدر کریں اور ان کا صحیح مصرف کریں اور ہمیشہ طلب و مغفرت و استغفار اور آپ کی رضا جوئی کرتے رہیں
یا اللہ! آپ نے جو صلاحیتیں درست فرما دی ہیں ان کو روبکار رکھنے کی توفیق عطا فرمائیے
یا اللہ! تیرا بہت فضل، احسان و کرم ہے کہ تو نے مجھے اپنے بندوں میں مکرم فرمایا ہے اب ہم ذلیل نہ ہوں
یا اللہ! تمام مخلوق پر آپ نے فضیلت دی ہے مومن ہونے کی حیثیت سے تو اے اللہ! ہم پر دنیاوی اثر کوئی غالب نہ آنے پائے
یا اللہ! آپ نے ایسی حالت پر ہم کو پہنچا دیا ہے کہ اب ہم سب سے خوش ہی خوش ہو جائیے اور ہم کو بھی خوش رکھئے
یا اللہ! آپ نے جو انعامات عطا فرمائے ہیں ان کو ہماری غلطیوں سے نقصان نہ پہنچنے پائے اور اگر ہم سے غلطیاں سرزد ہوں تو آپ اپنی رحمت و مغفرت سے تلافی فرما دیجئے، ہم کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا فرمائیے
یا اللہ! ہمارے اہل و عیال میں اپنے دین کے خادم اور اللہ والے پیدا فرمائیے، جو اس ملک سے فسق و فجور کو مٹا دیں اور احکام شریعہ کا نفاذ قائم کر دیں
یا اللہ! ہم کو ایمان کامل اور اعمال صالحہ کے ساتھ زندہ رکھئے اور اپنے محبوب نبی ﷺ کی اتباع کامل کے ساتھ زندہ رکھئے اور جب خاتمہ ہو تو انہیں چیزوں پر ہو
یا اللہ! آپ کی رضائے کاملہ اور حضور ﷺ کی شفاعت کبری حاصل ہو اور بغیر حساب کتاب ہم سب جنت میں داخل ہو جائیں آمین یا رب العالمین
جاری ہے۔ اگلی قسط بہت جلد


