سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کے نام


آپ نے زندگی میں براہِ راست یا سوشل میڈیا پر کچھ ناگفتہ بہ مناظر دیکھے ہوں گے، ان میں سے چند مناظر کو ذہنوں میں تازہ کیجیے یا فرض کیجیے آپ کے سامنے سے ریڑھی گزر رہی ہے، ریڑھی پر پانی سے پھولی ہوئی لاش رکھی ہوئی ہے جس سے شدید بو بھی آ رہی ہے۔

کوئی فرد کرسی بیٹھا اونگھ رہا ہے، اس حال میں اُس کا منہ کھلا ہوا ہے، منہ میں مکھیاں آ جا رہی ہیں۔
کوئی حادثہ کا شکار ہوا ہے، زخموں سے چہرہ اور جسم متاثر ہے، شکل بگڑ گئی ہے، لباس پھٹ چکا ہے۔
کوئی ہسپتال میں داخل ہے، اس کی وفات ہوجاتی ہے، منہ کھلا رہ جاتا ہے، بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔
کوئی قبر میں مدفون ہے، قبر گر جاتی ہے، جانور یا چیلیں لاوارث لاش کو نوچ رہی ہیں۔
ایسے بیسیوں ناگفتہ بہ مناظر آپ نے دیکھے ہوں گے۔ گزشتہ دنوں کے تین مناظر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔

ایک مریض قومہ یا نیم قومہ کی حالت میں ہسپتال میں لیٹا ہوا ہے، اس کا منہ اور آنکھیں کھلی ہیں۔ ایسے لگ رہا جیسے اس کی وفات ہو چکی ہے۔ اس کی چھ سات سالہ بیٹی اُسے پکارتی ہے کہ ابو تسیں ٹھیک ہو جاؤ، سانو سکولے چھڈ کے آنا کرنا جے۔

ایک نوجوان رات کے وقت مسجد کے گلہ سے پیسے نکالنے کی کوشش کرتا ہے، گلہ میں کرنٹ کی وجہ سے اس کی وفات ہوجاتی ہے، اس کی اس ناگفتہ بہ حالت کی فوٹو بھی سوشل میڈیا پر جاری ہوئی۔

پنجاب کے ایک شہر میں ایک مرد اپنی بیوی سے غصہ میں بول رہا ہے، گالیاں بھی دیں، مارا بھی۔ اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔

ایسی اور اس طرح کی ناگفتہ بہ وڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کی جاتی ہیں۔ عموماً صحافی اس سلسلہ میں پہل کرتے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا پر فعال لوگ ایسی پوسٹ شیئر کرتے ہیں۔ پوسٹ ڈالنے والوں کے پیشِ نظر تین محرک ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا فالونگ اور پذیرائی
بطور خبر اشاعت
انصاف کے حصول کے لیے آواز اٹھانا

فرض کریں جن میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہو رہا ہے، خاوند تشدد کر رہا ہے، ان کے درمیان صلح ہوجاتی ہے، وہ معاشرے میں اگلی زندگی کس کرب سے گزاریں گے اس کا اندازہ کریں۔ حصول انصاف کے لیے ضروری تھا کہ وڈیو بنانے والا وڈیو پولیس تک پہنچا دے، اس کے بعد جو بھی مناسب کارروائی کرنا ہو پولیس کرے۔ یہ امکان بھی موجود ہے کہ وڈیو میں تشدد برداشت کرنے والی خاتون اور اس کا خاندان کارروائی نہ کرنا چاہتے ہوں۔

فرض کریں ان درج بالا مناظر میں سے کوئی ناگفتہ بہ منظر یا واقعہ آپ یا آپ کے خاندان کے ساتھ پیش آئے تو کیا آپ اس کی سوشل میڈیا پروجیکشن پسند کریں گے؟

کیمرے کے تصرف نے انسان کو اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ فوت ہونے والے افراد کی تصاویر اس بھیانک انداز میں بنا کر شیئر کی جاتی ہیں کہ دیکھنے والوں کی طبیعت پہ گراں گزرتا ہے۔

کسی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آ جائے تو محتاط انداز میں رپورٹنگ میں بجائے متاثر بچے / بچی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی جاتی ہے۔

صحافی ہوں یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ یا عام صارف، آئیں عزم کریں کہ خبر کی اشاعت کرتے وقت، انصاف کے حصول کے لیے یا کسی بھی پوسٹ کو شیئر کرتے وقت ہم انسانی عظمت کا پاس کریں گے۔ احتیاط کریں گے کہ انسان زندہ ہو یا وفات پا گیا ہو اس کی عزت، حرمت اور پرائیویسی ہمارے لیے محترم ہونی چاہیے۔

Facebook Comments HS