سرکاری جرمانوں کی آڑ میں پرانا فراڈ


مندا ہووے اُنہاں لوکاں دا جِنہاں ساڈے سجن نکھیڑے (کیا کیا جائے ان لوگوں کا؟ جنہوں نے ہمارے سجن ہم سے جدا کیے ) منہ تے کر کے مِٹھیاں گلاں ونج ڈینڈن غلط سنہیرے (ہم سے میٹھی باتیں کرتے ہیں اور ہمارے سجنوں کو ہمارے خلاف کرنے کے لیے جا کر ہمارے نام پہ غلط پیغام دیتے ہیں ) ۔

رات کے گیارہ بجے کا ٹائم ہوتا اور بہا ول پور ریلوے اسٹیشن کے بالکل سامنے تندور ہوٹل پہ کالے خاں باورچی چھوٹے سے ڈیک پہ منصور ملنگی کا درج بالا شہرہ آفاق گیت چلا رہا ہوتا۔ میں وہاں پہنچتا تو وہ چھوٹی سی کڑاہی کو چولہے کے اوپر رکھ کر اس میں گھی گرم کرتا، پھر اس میں سبز مرچوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالتا، پیاز اور سبز لہسن ڈالتا، ہرا دھنیا ڈالتا، ٹماٹر کاٹ کر ڈالتا، زیرہ، کالی مرچ اور گرم مصالحہ ڈالتا۔ جب گریوی مصالحہ تیار ہو جاتا تو اُبلی ہوئی دال اس میں ڈال دیتا، گرم گرم کڑاہی سے شعلے بلند ہوتے تو وہ اُسے اتار کر میرے سامنے کُھلے آسمان تلے بچھی ٹیبل پہ رکھ دیتا اور ساتھ تندور پہ گرم گرم روٹی لگا کر میرے سامنے رکھتا جاتا۔

ٹیپ ریکارڈر ڈیک پہ منصور ملنگی کے گیتوں کی کیسٹ بدستور چل رہی ہوتی۔ سرد موسم مزید سرد ہو کر کاٹنا شروع کر دیتا ایسے جیسے وہ لوگ بھی دھوکہ دے جاتے ہیں جن کے دھوکہ دیے جانے کا ہمیں گمان تک نہیں ہوتا۔ کھانا ختم ہو جاتا تو میرے لیے گرم گرم چائے آجاتی جس سے اُٹھتا دھواں شبنمی موسم سے ایسے جنگ لڑ رہا ہوتا جیسے ”بلدا سورج کہندا سی، ہے کوئی میر ی تھاں ورگا؟ نِکّا جِیا اِک دِیوا بولیا، شام پئی تے ویکھاں گے“ (ہے کوئی میرے جیسا؟ سور ج نے کہا تو ایک ننّھا سا چراغ بولا، شام ہو گی تو دیکھیں گے ) ۔

یہ تندور ہوٹل چوبیس سال قبل تھا جو بعد میں ختم ہو گیا۔ بہاول پور ریلوے اسٹیشن پہ پاکستان ریلوے کا عملہ اس تندور ہوٹل پہ ہی کھانا کھانے آتا یا پھر یہاں سے منگوا لیتا۔ وہ مجھے ایک افسر کا قصّہ سناتا جس کا کام ٹرین سے اتر کر ریلوے اسٹیشن کی بلڈنگ سے باہر جانے والے مسافروں سے گیٹ پہ ٹکٹ وصول کرنا ہوتا تھا۔ بقول کالے خاں کے اُس افسر نے اُسے بتایا ہوا تھا کہ جرمانہ کی سرکاری رسید بک کے ساتھ ساتھ ایک ذاتی متوازی رسید بک بھی بنوائے ہوئے تھا۔

سفید ریلوے کوٹ کی دائیں جیب میں سرکاری رسید بک ہوتی تو بائیں جیب میں ویسی کی ویسی نقلی رسید بک۔ وہ بغیر ٹکٹ والے مسافروں کو جرمانہ کرتا اور جن مسافروں کا سامان چالیس کلو سے زیادہ نکلتا ان سے بھی اضافی کرایہ وصول کرتا لیکن وہ سرکاری رسید بک کا استعمال کم اور ذاتی رسید بک کا استعمال زیادہ کرتا جس سے چوبیس سال قبل روزانہ کی ”اوپر کی آمدن“ پچیس تیس ہزار روپے ہوتی۔ تاہم وہ اپنی آمدن سے چند دیگر افسر ان کو بھی حصّہ دیتا کیونکہ یہ سب کا ”مشترکہ پراجیکٹ“ تھا۔ وہ کالے خاں کے پاس کھانا کھانے آتا تو ”رنڈی رونا“ روتا کہ دوسروں کو دے دلا کر آج اس اکیلے کے پاس صرف پانچ ہزار روپے بچے ہیں۔

کیسا سایہ ہے ارواحِ خبیثہ کا دیس پہ اکبر میاں
رات پھیلی ہے صدیوں پہ سویرا کیوں نہیں آتا

بیس فروری 2025 کو شہر کے ایک کمرشل علاقہ میں دودھ دہی کی دکان کے سامنے ایک چھوٹی پرائیویٹ کار آ کر رُکی جس میں دو افراد بیٹھے تھے۔ کمرشل علاقہ کے دکاندار جانتے تھے کہ کار میں بیٹھے افراد سرکاری محکمہ سے وابستہ ہیں۔ ایک نے نیچے اتر کر دودھ دہی دکان چلانے والے سے کہا ”تمہاری دکان پہ ریٹ لسٹ آویزاں نہ ہے تمہاری دکان کو سیل کر رہے ہیں یا پھر دس ہزار روپے جرمانہ ادا کرو“ ۔ منت سماجت کے بعد انھوں نے پانچ ہزار جرمانہ وصول کر کے رسید دکاندار کے حوالے کی۔ پھر قریبی بیکری اور اس بہت بڑے کمرشل مرکز کی دیگر مارکیٹوں میں بھی فوڈ کا کاروبار کرنے والے دکانداروں سے جرمانہ کی رقم نقد وصول کی۔

راقم اس دودھ دہی کی دکان پہ گیا تو دکاندار نے جرمانہ کا ذکر کیا اور رسید دکھائی۔ رسید پہ کسی محکمہ کا نام نہ تھا اور نہ کوئی ایڈریس نہ کوئی فون نمبر۔ سستے رف کاغذ پہ چھپی رسید جس پہ دکاندار اور کاروبار کا نام، جرمانہ کی وجہ اور رقم لکھی ہوئی تھی اور بازار سے بنوائی گئی ایک عام سی مہر لگی ہوئی تھی جس پہ لکھا تھا ”سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ“ ۔ سٹیمپ کے اوپر صاحب نے باقاعدہ دستخط کرنے کی بجائے ٹک مارک جیسی لکیریں ڈالی ہوئی تھیں۔

جب آپ بنک میں رقم جمع کراتے ہیں یا چیک پہ رقم لکھتے ہیں تو رقم کو ہندسوں اور لفظوں دونوں میں لکھنا ہوتا ہے۔ جرمانہ عائد کر کے دی جانے والی رسید پہ لفظوں میں رقم کا کوئی ذکر نہ تھا۔ صرف ہندسوں میں پانچ لکھ کر پیچھے صفر کو ایسے لکھا گیا جس سے پتہ نہ چل رہا تھا کہ دو صفر ہیں یا تین اور آخر میں لفظ روپے بالکل نہ لکھا گیا تھا یعنی سب کچھ ڈنگ ٹپاؤ تھا۔

رسید پہ سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا نام نہیں لکھا تھا بس رسمی مہر اور دستخط کے نام پہ ٹک مارک جیسی لکیر حالانکہ جرمانہ عائد کرنا اور وصول کرنا کسی قانون کی خلاف ورزی پہ قانونی آرڈر جاری کرنا ہوتا ہے اور حکومتی قوانین اور رولز کے مطابق جب کوئی جج یا متعلقہ افسر کسی قانون کی خلاف ورزی پہ کوئی آرڈر جاری کرے گا تو اُس جج یا افسر کا نام سٹیمپ اور مکمل دستخط والی جگہ پہ لکھا ہو گا۔ اب یہ کہنا کہ یہ کوئی جعلی اہلکار تھے، ایسا نہیں تھا بلکہ دکانداروں کے مطابق جب ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر مارکیٹوں کا دورہ کرتے ہیں تو یہ دونوں افسران یا اہلکار ساتھ ہی ہوتے ہیں اور پہلے بھی یہ جرمانہ عائد اور وصول کرتے رہے ہیں۔

معلوم ہوا کہ ڈپٹی کمشنر نے حکومت کے احکامات پہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کمی پوری کرنے کے لیے مختلف محکموں کے چھوٹے بڑے افسران کو سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیے تھے اب ان میں سے کچھ اپنی ذاتی گاڑیوں پہ دکانوں پہ چھاپے مارتے پھر رہے تھے او ر مینول طریقہ سے جرمانہ کی رقم نقد وصول کر کے اس طرح کی رسیدیں جاری کر رہے تھے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ سرکاری محکموں کے کچھ افسران اور اہلکار جرمانہ وصولی کے روایتی پرانے مینول طریقہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وصول شدہ رقم کا ایک حصّہ سرکاری خزانہ میں جمع کرانے کی بجائے اپنی ذاتی جیب میں ڈال لیتے ہیں جیسے وہ ریلوے افسر کرتا تھا۔ ماضی میں ٹریفک پولیس پہ بھی الزام آتا تھا کہ ان کے پاس دو رسید بکس ہوتی تھیں۔ ایک اصلی سرکاری اور ایک اس کی ہو بہو نقل۔ جب حکومت کی طرف سے دباؤ ہوتا کہ خزانہ میں پیسے پہنچاؤ تو اصلی رسید بک کا استعمال ہوتا اور جب افسران بالا کی ”ڈیمانڈز“ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جیب بھی بھرنا ہوتی تو نقلی رسید بک کا استعمال ہوتا۔ سرکاری محکموں کی طرف سے مختلف مد میں عائد کیے جانے والے جرمانہ کی رقم موقع پہ نقد وصول کرنے کے مینول طریقہ کی وجہ سے اربوں کھربوں روپے سرکار کے خزانہ میں جمع ہونے کی بجائے کچھ عناصر کی ”ذاتی جیبوں“ میں چلے جاتے ہیں۔

اکبر شیخ اکبر آپ کو تجویز دیتا ہے کہ آپ سرکاری جرمانہ وصول کرنے کا سارا سسٹم مکمل طور پہ ڈیجیٹلائزڈ کر دیں۔ دنیا بھر کا حکومتی نظام اور کاروبار ڈیجیٹل سسٹم پہ جا چکا ہے اور انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش ابھی تک جرمانہ وصولی کے مینول طریقہ سے جان نہیں چھڑا پائے۔ قانون سازی کر کے مستقل سسٹم نافذ کر دیں کہ سرکاری افسران اور اہلکار مختلف مدوں میں تاجروں، دکانداروں، عام شہریوں اور عوام النّاس کو جب جرمانہ کی رسید تھمائیں گے تو عائد شدہ جرمانہ کی رقم ان سرکاری اہلکاروں کو موقع پہ ادا نہیں کی جائے گی بلکہ بنک میں جاکر حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی یا پھر موبائل فون والٹ سے موبائل فون بینکنگ کے ذریعے براہ راست حکومتی بنک اکاؤنٹ میں جمع ہو۔ خیال رہے جرمانہ کی رقم حکومتی اکاؤنٹ میں ہی جائے نہ کہ سرکاری اہلکار کے ذاتی بنک اکاؤنٹ میں۔ یہاں بھی ڈیجیٹل فراڈ شروع نہ ہو جائے۔

دوسرا یہ کہ قانون سازی کر دی جائے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ سرکاری محکموں کے اہلکار چیکنگ کرنے اور جرمانہ عائد کرنے ذاتی گاڑیوں کی بجائے صرف سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی میں آئیں گے اور یہ کہ گاڑی کے دروازوں پہ نمایاں کر کے محکمے کا نام لکھا ہو گا۔

راقم کی تیسری تجویز یہ ہے کہ فوڈ کا کاروبار کرنے والی دکانوں پہ ریٹ لسٹ وغیرہ کے حوالہ سے جرمانہ کا اختیار بیک وقت کئی یا مختلف محکموں کے اہلکاروں کو دینے کی بجائے صرف ایک ہی محکمہ فوڈ اتھارٹی کو دے دیا جائے اور اس محکمہ میں کسی قسم کا مینول سسٹم نہ ہو بلکہ سب کچھ ڈیجیٹلائزڈ ہو۔

Facebook Comments HS