اردو ہے نام جس کا


muhammad salim gujranwala

25 فروری 1948 کو اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ یہ پورے پاکستان کی قومی، دفتری اور رابطہ زبان ہے۔ ہم صوبائی زبانوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ان کے دن بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ لیکن قومی زبان کو اس کا جائز مقام نہیں دیتے اور نہ ہی اس جوش و خروش سے اردو زبان کا دن مناتے ہیں جس طرح ملک کی دوسری صوبائی زبانوں کا دن مناتے ہیں اور انہیں اہمیت دیتے ہیں۔

اردو زبان ایک تہذیب و تمدن کا نام ہے۔ دنیا کی کسی بھی زبان کا تعلق کسی خاص علاقے یا قوم سے ہوتا ہے۔ لیکن اردو زبان کسی خاص علاقے یا قوم سے تعلق نہیں رکھتی ہے۔ یہ پورے برصغیر کے مختلف علاقوں کی بولیوں ٹھولیوں کے باہمی اشتراک سے وجود میں آئی اور برصغیر میں رہنے والا ہر شخص اس سے آشنا ہے۔ اس کی پرورش دہلی، لکھنو، لاہور اور کراچی میں ہوئی۔ اس میں ہر زبان کے الفاظ کو جذب کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انگریزوں نے برصغیر میں آنے کے بعد انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کی ترویج و ترقی کے لیے بہت کام کیا۔ کولکتہ میں اردو درس و تدریس کے لیے فورٹ ولیم کالج قائم کیا گیا۔ اردو قواعد و انشاء، گرائمر اور لغات ترتیب دینے کے لیے بہت کام کیا گیا۔

اردو پاکستان کی واحد قومی زبان ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھیں جاتی ہے۔ اس کو انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ بطور دفتری زبان بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق اردو کو کئی برس قبل دفتری زبان بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں اردو کو بطور مادری زبان 7.6 فی صد لوگ بولتے ہیں۔

ہندوستان میں اردو بولنے والوں کا تناسب 5.1 فی صد ہے۔ ہند کی چھ ریاستوں کی سرکاری و دفتری زبان اردو ہے۔ نیپال، بنگلہ دیش، افغانستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، کویت اور جنوبی افریقہ میں بھی اردو بطور اقلیتی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے

عالمی درجہ بندی کے مطابق اردو دسویں بڑی زبان ہے اور اگر ہندی اور اردو کو مشترکہ طور پر شمار کیا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان بن جاتی ہے۔ اردو اقوام متحدہ کی بھی منظور شدہ زبان ہے۔

اردو زبان کو پہلی دفعہ اردو کا نام نامور شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780 ء میں دیا۔ اس سے پہلے اس زبان کو ہندوی، ہندی، دکنی، ہندوستانی اور ریختہ کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں اسے اردو معلی کا بھی نام دیا گیا، لیکن چار دانگ عالم میں مشہور نام اردو ہی ہوا۔ اردو ترکی زبان کے لفظ اردوا سے نکلا ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اردو کو انگریزی کے ساتھ ساتھ اپنی دفتری زبان بنایا اور فارسی کو بتدریج ختم کر دیا۔ 1947 ء میں لکھنؤ اور دہلی میں اردو کی پرورش ہوئی۔ اردو کا ایک لہجہ کراچی میں بھی پرورش پایا۔

ولی دکنی کو اردو کا پہلا شاعر مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد میر تقی میر، غالب، داغ دہلوی، ابراہیم ذوق، حکیم مومن خان مومن، میر انیس، میر درد، خواجہ حیدر علی آتش مرزا رجب بیگ سرور، الطاف حسین حالی، نظیر اکبر آبادی، اکبر الہ آبادی حسرت موہانی سمیت سب نامور شعراء اور انشاء پردازوں جیسے سرسید احمد، ڈپٹی نذیر احمد، پطرس بخاری، مرزا فرحت اللہ بیگ، رشید احمد، غلام عباس، احمد ندیم قاسمی، فرخندہ لودھی، مرزا ادیب، منشی پریم چند اور راجندر سنگھ بیدی نے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے لیے اسی دلنشین زبان کا انتخاب کیا۔ اردو زبان برصغیر کے تمام تاریخی، ادبی، علمی، جغرافیائی اور دینی ورثے کی وارث ہے۔ قرآن و حدیث اور سیرت النبی ﷺ کا بہت بڑا ذخیرہ اردو زبان میں موجود ہے۔

پاکستان کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں، عدالتی نظام، پارلیمان، محکموں، ذرائع نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کا بھی بہت استعمال ہوتا ہے۔ عام اور روز مرہ گفتگو اردو میں ہوتی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور شعبہ اداکاری اور حالات حاضرہ کے زیادہ پروگرام اسی سوہنی اور میٹھی زبان میں ہوتے ہیں۔

اردو اور ہندی میں صرف الفاظ کے استعمال کا فرق ہے۔ ہندی میں الفاظ کی غالب اکثریت سنسکرت کی ہے اور اردو میں زیادہ تر الفاظ عربی اور فارسی کے استعمال ہوتے ہیں۔ اردو خط نستعلیق اور نسخ میں لکھی جاتی ہے جب کہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔

تقسیم ہند سے قبل ہندی اور اردو کا تنازع پیدا ہوا تھا۔ اسی موقعہ پر مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ مجھے اردو میں سے عربی اور فارسی کی خوشبو آتی ہے۔ ماہرین لسانیات کے مطابق اردو میں ایک مکمل زبان کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس کا ذخیرہ الفاظ بہت وسیع ہے۔ ادبی، دینی اور علمی طور پر اس میں اظہار بیان کرنا بہت آسان اور دلنشین ہے۔ کسی حد تک اسے سائنسی علوم و فنون کی درس و تدریس کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

چار صدیوں کے طویل لسانی سفر کے بعد اردو آج کے دور کی ایک ترقی یافتہ زبان بن چکی ہے۔ ہماری نوجوان نسل اپنی اس قومی زبان سے دور ہو رہی ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر اردو درس و تدریس کی اشد ضرورت ہے اور اس کو اس کے اپنے نستعلیق رسم الخط میں لکھنے اور پڑھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے تاکہ ہماری نئی نسل کا تعلق اور رابطہ اپنے چار صدیوں پر محیط عملی و ادبی خزانے سے بر قرار رہ سکے۔

بہت عرصہ قبل داغ دہلوی ایسے ہی نہیں فرما گئے تھے،

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے

Facebook Comments HS