تشکیک کیوں ضروری ہے

یونانیوں کا ماننا تھا کہ فلسفے (دانش مندی) کی ابتدا ”حیرت“ سے ہوتی ہے، جب کہ سترہویں صدی کے فرنچ فلاسفر رینے دیکارت نے کہا کہ فلسفے کی شروعات ”شک“ سے ہوتی ہے۔ اول الذکر سے تو فی الوقت ہمارا لینا دینا نہیں ہے۔ ہم نے تشکیک کے متعلق بات کرنی ہے جو ہر صحت مند سوچ کے لیے ضروری ہے۔
آگاہی اور علم کی سرحد ہوتی ہے، لیکن جہالت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ انسان کا شعوری ارتقاء کسی نقطے پر ٹھہر سکتا ہے، مگر لا علمی، نا سمجھی اور جہالت لامحدود ہو سکتی ہے۔ اور افسوس کا مقام ہے کہ ہم میں سے کئی لوگ ہیں جو ایسے ہی ہیں۔ وہ سچائی کو دیکھ بھی لیں تو سمجھ نہیں سکتے۔
*صم بکم عمی فھم لا یرجعون ہم لوگوں نے اس آیت کو ایمان نہ لانے والوں کے لیے ٹیگ بنا دیا ہے، یہ نہیں سوچا کہ یہ ہم پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ہو سکتی ہے جو اپنی سمجھ سے کام لینے کے بجائے کسی ڈوگما میں مبتلا ہو کر معاملات کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو بنا تحقیق کچھ بھی ماننے کو تیار ہو جاتا ہے۔ سورہ الاحزاب میں ایک لفظ ہے ”شر الدواب“ (بد ترین جانور یا چوپائے ) ہم اسے بھی دوسروں پر لاگو کرتے ہیں لیکن شاید یہ سب سے بڑھ کر ہم ہی پر صادق آتا ہے۔
ہم میں سے اکثریت نے مذہبی عقائد سمیت، سماجی اقدار، خاندانی روایات اور بندھنوں کے متعلق جو معلومات حاصل کی ہے وہ فرسٹ ہینڈ نہیں ہے۔ ہم نے بغیر تحقیق سنی سنائی باتوں کو سچ مان لیا، فیکٹ چیک اور تشکیک کی زحمت نہیں کی۔ ہم لوگوں نے اپنے عقائد، نظریات، اور اقدار براہ راست تحقیق سے نہیں اپنائے، بلکہ انہیں اپنے ماحول، والدین، اساتذہ، اور معاشرتی بیانیے سے سیکھا ہے۔ ہم نے اکثر چیزوں کو جانچے بغیر قبول کیا، کیونکہ:
۔ ہمیں ایسا سکھایا گیا
۔ ہمیں یہ آسان لگا
۔ یا ہمیں لگتا ہے کہ سب لوگ ایسا ہی مانتے ہیں، تو یہ درست ہو گا
یہ انسانی نفسیات کا خاصہ ہے کہ لوگ اکثریت کی پیروی کرتے ہیں (بینڈویگن ایفیکٹ) اور جو پہلے سے مانا جا رہا ہو، اسی پر یقین رکھتے ہیں (کنفرمیشن بائس) ۔ لیکن اگر ہم اپنی زندگی کے اہم ترین عقائد، نظریات، اور فیصلوں کو بغیر تحقیق کے اپناتے ہیں، تو کیا ہم واقعی آزاد سوچ رکھنے والے انسان کہلائیں گے؟
جہالت ختم کرنے کے لیے ذہن کی جس گرہ کو کھولنا اور جس ریکھا کو پھلانگنا ضروری ہوتا ہے ہمارے لوگ اسے کھولنے اور کراس کرنے پر راضی نہیں، یا شاید ان میں حوصلہ اور جرات نہیں۔ کبھی شخصیت پرستی، کبھی نظریاتی وابستگی، کبھی روایات اور کبھی ہمارا اپنا آپ (ہمارا فالتو ایگو، نارسزم) ان گرہوں کو کھولنے کی چابی تشکیک (Skepticism) ہے۔
سکیپٹسزم کا مطلب ہے کہ آپ کسی بھی بات پر یقین کرنے سے قبل اس پر شک کریں، اس کے سارے پہلوؤں کو چھانیں پھٹکیں، اس کے منطقی جواز دیکھیں، بیرونی دنیا میں اس کے حق میں جانے والے دلائل اور ثبوت ڈھونڈیں۔ اس کے بعد اس کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کریں۔ بادی النظر میں لگ رہا ہے یہ کوئی بڑا ہی منفی کام کے لیکن سچ یہی ہے کہ اسی کو اپنا کر آپ سوچنا سیکھ سکتے ہیں۔ تنقیدی انداز فکر اپنا سکتے، عام مغالطوں سے نکل سکتے ہیں۔ ذاتی، سماجی اور قومی بیانیوں میں موجود غلطیوں اور تضادات کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ تشکیک کا مطلب رد کرنا نہیں بلکہ اس کے منطقی جواز تکش کرنا ہے۔
ہم نے اب تک اپنی قومی سے لے کر ذاتی زندگی میں ہر چیز جذباتیت کی بنا پر سر انجام دی۔ لیکن اب مزید ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے بڑے سے بڑے ایقان سے لے کر اپنی زندگی میں موجود بزعم خود سب سے مضبوط رشتے تک کو ایک بار تشکیک کی چھلنی سے گزار لیں۔ فائدے میں رہیں گے۔
اگر ہم شک کا استعمال نہ کریں تو:
۔ ہم تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی سوچ کی غلطیوں کو پہچان نہیں پاتے۔
۔ ہم جھوٹے بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جیسے جعلی خبریں، سازشی نظریات، اور پروپیگنڈا۔
۔ ہماری سیکھنے کی صلاحیت رک جاتی ہے۔ کیونکہ ہم سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
ہم تاریخی واقعات، سیاسی دعووں اور انسانی تعلقات میں تشکیک کے ذریعے فیکٹ چیک کر کے بہتر فیصلے اور سچائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ مثلاً:
1۔ تاریخی حقائق: اگر کوئی مورخ کہے کہ فلاں جنگ میں دس لاکھ سپاہی مارے گئے، تو پہلے دیکھیں کہ اس دور میں اس علاقے کی کل آبادی کتنی تھی۔ شاید اصل تعداد بہت کم ہو، اور مبالغہ آرائی کی گئی ہو۔
2۔ سیاسی دعوے : اگر کوئی سیاستدان کہتا ہے کہ ہم نے عوام کا معیار زندگی بلند کر دیا ہے، تو معلوم کریں ؛ کیا معاشی اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں؟ کیا عام شہریوں کی زندگی میں واقعی بہتری آئی ہے؟
3۔ سوشل میڈیا پر خبریں : کیا جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں وہ واقعی سچ ہے، یا کوئی اس خبر کے ذریعے آپ کی رائے کو کسی خاص سمت میں لے جانا چاہتا ہے؟
4۔ ذاتی تعلقات: اگر کوئی شخص آپ سے محبت کا دعویٰ کرے، مگر اس کے رویے اس کے برعکس ہوں، تو کیا آپ کو اس کے الفاظ پر یقین کرنا چاہیے یا اعمال پر؟
5۔ جعلی روحانی شخصیات اور موٹیویشنل اسپیکرز: آج کل بہت سے لوگ ”خودشناسی“ اور ”موٹیویشن“ کے نام پر کورسز بیچتے ہیں، مگر کیا وہ واقعی ماہر ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی سائنسی، نفسیاتی یا روحانی سند ہے، یا وہ محض چند مشہور جملے دہرا کر پیسہ کما رہے ہیں؟
تشکیک کی راہ اپنانے کے لیے :
1۔ ہر چیز پر سوال کریں : کوئی بھی بات ماننے سے پہلے خود سے پوچھیں کہ کیا یہ واقعی سچ ہے؟
2۔ تحقیق کریں : ہر دعوے کے حق میں دلائل اور شواہد دیکھیں۔ اگر کسی چیز کے خلاف مضبوط دلائل موجود ہوں، تو اسے ماننے سے گریز کریں۔
3۔ منطقی مغالطوں سے بچیں : اکثر لوگ دلائل دیتے ہوئے جذباتی حربے (ایموشنل اپیلز) ، شخصیت پر حملے (ہومنیم اڈ) ، اور جھوٹے تقابل (فالس ایکویلینس) کا سہارا لیتے ہیں۔ ان سے خبردار رہیں۔
4۔ ماہرین کی سنیں، مگر آنکھیں بند کر کے نہ مانیں : ہر ماہر سے اتفاق ضروری نہیں، لیکن کم از کم ان کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہو سکتی ہے کہ ہم بنا سوال کیے کسی چیز پر یقین کر لیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی پوری زندگی پرانے عقائد، سماجی بیانیے، یا غلط فہمیوں پر گزار دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں کبھی یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ سوال کرنا سیکھو، تحقیق کرو، اور سچائی کو تلاش کرو۔
اگلی بار جب کوئی آپ سے کہے کہ ”یہ بات بس مانو، اس پر شک نہ کرو“ ، تو رک کر ایک لمحہ سوچیے :
”کیا واقعی؟ کیا میں اپنی عقل کا استعمال کیے بغیر کسی چیز پر یقین کر سکتا ہوں؟“
اگر آپ واقعی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو ہر چیز کو عقل، منطق اور تحقیق کی کسوٹی پر پرکھیں۔ یاد رکھیں جو چیزیں ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہیں، ضروری نہیں کہ وہ سچ بھی ہوں۔ سچائی وہی ہے جو عقل سے ثابت ہو باقی سب بے بنیاد نظریات اور مفروضے ہیں۔

