قومی کرکٹ ٹیم اس قوم کی عکاس ہے
کرکٹ سے دل اٹھائے ہوئے کوئی ڈیڑھ دو دہائیاں گزر چکی ہوں گی، یاد بھی نہیں آ رہا کہ آخری بار پورا میچ کب اور کن ٹیموں کے درمیان دیکھا تھا، ہاں البتہ خبروں، دوستوں اور سوسائٹی میں ہونے والی گفتگو سے کرکٹ کے بارے میں سننے کو ملتا ہے۔ میرے یار دوست آج کل بہت پریشان ہیں کہ بھارت نے پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے باہر کر دیا ہے۔ انڈین کرکٹ ٹیم ایک بڑی مایہ ناز ٹیم ہے لیکن میرے دوستوں کو یاد نہیں یا شاید معلوم نہیں کہ ایک ورلڈ کپ میں غالباً 2007 میں پاکستان کو ایک ایسی ٹیم نے ورلڈ کپ سے باہر کر دیا تھا جس کا آج نام و نشان بھی نہیں ہے۔ اور یہ صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے قومی ٹیم کے باب وولمر نامی غیر ملکی کوچ ہوٹل کے کمرے میں انتقال کر گئے تھے، لیکن قومی ٹیم کے ایک بھی کھلاڑی کو ایونٹ سے باہر ہونے کی کوئی شرمندگی تھی اور نہ ہی کوچ کی موت کا دکھ تھا۔ انضمام الحق ٹیم کے کپتان تھے انہوں نے ٹیم کی شکست اور کوچ کی موت کو قوم کا مقدر قرار دیتے ہوئے پریس کانفرنس کا اختتام کیا۔
92 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے 96 میں سیمی فائنل اور 99 میں فائنل کھیلا جبکہ 2003 کے ورلڈ کپ میں بھی بہترین میچ کھیلی تھی۔ جب انضمام الحق نے راشد لطیف کو آؤٹ کر کے ٹیم کے کپتان بنے تو انہوں نے ٹیم کا بیڑا ہی غرق کر دیا، نیٹ پریکٹس کے بجائے گراؤنڈ میں مذہبی اجتماعت شروع کیے، جس جس کھلاڑی نے گراؤنڈ میں ہونے والی اس ایکٹویٹی سے اختلافات کیا ان کو قومی ٹیم سے ہی باہر کر دیا گیا، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ورلڈ کپ 2007 کے پہلے ہی راؤنڈ میں پاکستانی ٹیم کے واپسی کے ٹکٹ بک ہوئے۔ پھر یونس خان کی قیادت میں اس ٹیم نے تھوڑا کچھ کم بیک تو کیا لیکن اس کو بھی غیر مذہبی کا ٹھپا لگا کے کیپٹنسی سے ہی فارغ کیا۔ اس کے بعد اس ٹیم کو بنگلہ دیش اور افغانستان جیسی ٹیموں سے بھی مار کھانی پڑی لیکن پھر بھی اپنا قبلہ درست نہ کر سکی۔
یہاں چیئرمین، سلیکٹرز اور کھلاڑی سبھی سفارش پر بھرتی ہوتے ہیں، ہر سیاسی جماعت نے پی سی بی کو اپنی سیاسی جماعت کے چندے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ مشرف کے دور حکومت میں ایک جنرل صاحب چیئرمین تھے، زرداری اور نواز شریف نے بھی اپنے ہی بندوں کو پی سی بی کے چیرمین لگا دیا، محسن نقوی صاحب میں ایسی کیا خوبی ہے پورا ملک ہی اس کو حوالہ کیا گیا ہے۔ اس ملک کی سب سے بڑی بدبختی یہ ہے کہ یہاں ہر بندہ اپنا پیشہ چھوڑ کے دوسرے پیشوں میں اپنی خدمات انجام دینے کا شوق رکھتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ اس سے ملک اور اداروں کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔
اس ملک کے نظام کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی بدانتظامی ہے، کوئی ڈسپلن نہیں ہے، کوئی قانون نہیں ہے ایک لابی آتی ہے وہ جو چاہے کر سکتے ہیں بے شک قوم اور ملک کو نقصان ہی کیوں نہ ہو ان کو اس چیز سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
رکی پونٹنگ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں انہوں نے تین بار مسلسل ورلڈ کپ جیتا ہے، جب پاکستانی کھلاڑی ہوٹل کے روم میں اپنے اگلی میچ کی جیت کے لیے دعائیں کر رہے ہوتے تھے تو رکی پونٹنگ اپنی ٹیم کے ساتھ اگلی میچ کے لیے حکمت عملی بنا رہے ہوتے تھے۔ وہ اپنی ٹیم کو اپنی اور مخالف ٹیم کی پچھلے میچ کی ویڈیو ریکارڈنگ دکھا کے ان کی کمزوریوں کو پوائنٹ آؤٹ کر کے اگلے دن گراؤنڈ میں اترتے تھے اور میچ جیت جاتے تھے۔ جبکہ پاکستانی ٹیم اس عقیدے کے ساتھ ایونٹ میں جاتی کہ وہ دعاؤں سے ایونٹ جیت جائیں گے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان میں میرٹ کتنا ہے، ٹیم میں ہم آہنگی کتنی ہے، ٹیم کی سلیکشن کیسی ہے۔
پاکستان کی شکست کے بعد پاکستان کے سابق کرکٹر راشد لطیف کا بیان وائرل ہوا تھا جس نے دل کو چھو لیا، ان کا کہنا ہے کہ محسن نقوی خود میرٹ پر نہیں، ٹیم کیسی ہوگی؟
آپ مانیں یا نہ مانیں یہ قومی ٹیم اس قوم کی عکاسی کرتی ہے۔

