میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب


میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

میر تقی میر کا یہ شعر ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے اور ایسے لوگوں کے لئے بولا جاتا ہے جو ایسے لوگوں سے مسائل کے حل کی توقعات وابستہ کرتے ہیں جو ان مسائل کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہی شعر میں نے چند ماہ پہلے پشاور کے واحد پانچ ستاری ہوٹل میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے منعقدہ تقریب میں اس لئے دہرایا کیونکہ سابقہ فاٹا کے مسائل پر منعقدہ اس تقریب میں مقررین کی اکثریت ان حضرات پر مشتمل تھی جو گزشتہ تین دہائیوں سے قبائلی علاقے کو جوں کے توں رکھنے اور وہاں کے مسائل کے ذمہ دار تھے مگر وہ ڈھٹائی کی حد تک آج بھی حالات کا رونا روتے ہیں اور وہاں موجود مسائل کا ذکر کر کے کالے قانون ایف سی آر کے دور کو آج سے بہتر سمجھتے اور خود کو قبائلی عوام کا ہمدرد گردانتے ہیں۔

بظاہر تو فاٹا انضمام کو واپس کرنے کا مطالبہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے 2021 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب وہ افغان طالبان کی ثالثی میں پاکستانی حکام سے براہ راست مذاکرات کر رہے تھے۔ اس کے بعد ہمیں تو اب تک یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ نہ صرف وہ مذاکرات ناکام ہوئے تھے بلکہ نئی فوجی قیادت نے جنرل فیض اور عمران خان کی وہ پوری پالیسی تبدیل کردی ہے۔ جس کے تحت سو کے قریب گرفتار مطلوب افراد کو خیر سگالی کے طور پر رہا کیا گیا تھا اور سینکڑوں کی تعداد میں مسلح افراد سوات اور دیر میں نمودار ہوئے تھے۔ لیکن حیرانی اس بات پر ہو رہی ہے کہ 2018 میں کی گئی پچیسویں آئینی ترمیم یعنی فاٹا انضمام کو رول بیک کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ انہی لوگوں کی بار بار اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن کو سابقہ فاٹا کا مفاد پرست طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ جن میں بدنام زمانہ چند ملک صاحبان اور سابقہ پارلیمنٹیرین کے علاوہ کچھ ریٹائرڈ بیوروکریٹ بھی شامل ہیں۔

انہی حضرات نے پچیسویں آئینی ترمیم یعنی فاٹا انضمام کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی ہوئی ہے۔ اور واقفان حال خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ مفاد پرست طبقہ سپریم کورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لئے زمین ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ سابقہ فاٹا کی پسماندگی، تباہی اور بد امنی کے ذمہ دار یہ سابقہ عہدیدار اب بھی مختلف ناموں سے تعلیمی اداروں میں تقریبات منعقد کر رہے ہیں اور عوام میں مایوسی پھیلانے کی خاطر باجوڑ سے وزیرستان تک بات چیت کے لئے بطور خاص ان افراد کو مدعو کیا جاتا ہے جو ایف سی آر کے حامی اور انضمام کے مخالفین سمجھے جاتے ہیں۔ یہ عوام کو انضمام کے فوائد گنوانے کی بجائے موجودہ نظام سے بدظن کر رہے ہیں ان میں مایوسی پھیلاتے ہیں اور خود کو عوام کا ہمدرد بتا کر سابقہ نظام کے قصیدے پڑھتے ہیں۔

ان میں سے کچھ لوگوں کا تعلق تو جمعیت العلما اسلام سے ہے اور کچھ آزاد پارلیمینٹیرین رہے ہیں۔ ان دونوں سے تو کوئی شکوہ نہیں کیونکہ یہ روز اول سے انضمام کے مخالف رہے ہیں مگر ان حضرات میں باجوڑ اور کرم سے پیپلز پارٹی کے سابق پارلیمنٹیرین اور ضلع خیبر سے تحریک انصاف کے سابق وفاقی وزیر بھی نامعلوم وجوہات کی وجہ سے ان کے ہمنوا بن چکے ہیں۔ یہاں پر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سے بجا طور پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ وہ انضمام اور پچیسویں آئینی ترمیم پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں کہ کیا پارٹی کے یہ ذمہ دار عہدیدار پارٹی پالیسی کے مطابق انضمام کو رول بیک کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں یا یہ لوگ ذاتی مفادات کے لئے کسی اور کی زبان بول رہے ہیں؟

اس کے علاوہ انضمام کے لئے جدوجہد کرنے والے دس جماعتی سیاسی اتحاد کو ایک مرتبہ پھر متحرک ہونے اور اس نازک دور میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کو آگے آ کر اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور ایک واضح اور دو ٹوک موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ سیاسی اور جمہوری لوگ اتنی آسانی کے ساتھ پچیسویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے، 50 لاکھ قبائلی عوام کو واپس ایف سی آر کے کالے قانون کے حوالے کرنے اور کرپشن کے بلیک ہول میں گرانے کی اجازت دیں گے۔ یقیناً وہ ایسا نہیں کرنے دیں گے کیونکہ یہ ان سب کی سمجھ بوجھ اور فہم و فراست کا سوال ہے۔

Facebook Comments HS