وادی سندھ کی تحریر میں مچھلی کی علامت کی تشریح: ایک نیا نقطہ نظر


وادی سندھ کی تہذیب کی دریافت کو ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کی تحریر اب تک ایک ناقابل فہم معمہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے غیر واضح رہنے کی بنیادی وجوہات پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی جا چکی ہے۔ اسی طرح، وادی سندھ کی تحریر میں ”مچھلی“ کی علامت کی تشریح میں بھی ایسی ہی نوعیت کی مشکلات پیش آتی ہے۔

وادی سندھ کی تحریر آج تک ناقابل فہم رہی ہے، حالانکہ اس کی دریافت کے بعد اس کو پڑھنے کی بے شمار کوششیں کی جا چکی ہیں اور تحقیق کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس تحریری نظام کو سمجھنے کے لیے مختلف لسانی تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے، لیکن محققین تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ بعض محققین اسے دراوڑی زبانوں سے جوڑتے ہیں، جبکہ کچھ اسے بعد از دراوڑی (Post Dravidian) تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہ تحقیق وادی سندھ کی تحریر میں موجود ”مچھلی کی علامت“ کو سمجھنے پر مرکوز ہے۔ جہاں ماضی میں زیادہ تر تشریح دراوڑی زبانوں کی بنیاد پر کی گئی ہیں، وہیں یہ تحقیق سندھی زبان پر مبنی ایک متبادل نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ اگرچہ سندھی زبان اب ایک ہند۔ آریائی زبان کے طور پر جانی جاتی ہے، لیکن اس میں ابتدائی دراوڑی (Proto Dravidian) اور دراوڑ (Dravidian) زبانوں کے الفاظ اور لسانی ڈھانچے کی بھرپور موجودگی دیکھی جا سکتی ہے، جن میں بے شمار صوتی مشابہت رکھنے والے الفاظ بھی شامل ہیں۔

1960 کی دہائی سے، متعدد علمی مطالعات نے اس تحریر کے ڈھانچے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے، جن میں خاص طور پر روسی ماہر لسانیات یوری نُوروزوف، فن لینڈ کے ماہر آثار قدیمہ کے ماہر آسکو پارپولا، بھارتی اور دنیا کے دوسرے ماہرین شامل ہیں، جنہوں نے اس کو پڑھنے کے لیے کمپیوٹیشنل اور دیگر سائنسی طریقے اپنائے ہیں (جینر آر میکلناتھ، 2008، صفحہ 55 ) ۔ اگرچہ وادی سندھ کی تحریر کے براہ راست واضح حروف دستیاب نہیں ہیں، لیکن شو۔ ایلیشو کی اسطوانی مہُر (سلنڈر سیل) کی دریافت مستقبل میں اس قدیم نوشتے کو سمجھنے میں ایک امید کی کرن فراہم کرتی ہے (پوسہل، 1996، صفحہ 43 ) ۔

یہ تحقیق دو بنیادی سوالات کا جائزہ لیتی ہے : کیا ہم ”مچھلی“ کی علامت کے ممکنہ معنی کا تعین کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا یہ تشریح وادی سندھ کی تہذیب کے سماج اور ثقافت کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کر سکتی ہے؟ یہ دلیل پیش کی جائے گی کہ مچھلی کی علامت وادی سندھ کی تہذیب میں نمایاں سیاسی اور مذہبی اہمیت رکھتی تھی۔ مزید یہ کہ، اس تجزیے میں اس علامت کو ایک تصوری علامت (Ideogram) کے طور پر دیکھا جائے، جس میں اس کے صوتی پہلو کے بجائے اس کے تصوری مفہوم کو ترجیح دی جائے (سین گُپتا اے، 2023، صفحہ 87 ) ۔

وادی سندھ کی تحریر میں مچھلی کی علامتوں کی متعدد تشریحات پیش کی گئی ہیں۔ ایک نمایاں نظریہ یہ ہے کہ مچھلی کی علامت کی اصطلاحی تشریح، ستارے، فلکی دیوتاؤں اور دراوڑی الفاظ مِن (min) ( ’مچھلی‘ ) اور من/وِن (min/vin) کو اصطلاحی طور پر تشریح چمکنا، دمکنا اور جگمگانا ’کی گئی ہے یہ تشریح بھارتی فلکیاتی اور مذہبی روایات کے مختلف عناصر سے مطابقت رکھتی ہے، جن میں سیاروں کی پرستش، ویدک ستاروں کا کیلنڈر اور نئے سال کی علامتیں شامل ہیں۔

مزید یہ کہ بھارت میں فلکیاتی ذاتی ناموں اور قطبی ستارے (North Star) کی تشریح کی گئی ہے جو سندھی زبان میں بھی موجود ہے۔ وادی سندھ میں دیویوں کی پرستش کے شواہد کو بھی اس علامت کے تناظر میں جانچا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ماہرین کے مطابق وادی سندھ کے قدیم آثار امری سے ملنے والے مٹی کے برتنوں پر ”مچھلی“ اور ”ستارے“ کے مشترکہ نقوش ان تشریحات کی مزید حمایت کرتے ہیں (پارپولا، اے۔ 1994، صفحات 179، 182، 183، 201، 240 ) ۔

رابرٹ ( 1976، صفحہ 196 ) دلیل دیتے ہیں کہ یہ لسانی جڑ کئی دراوڑی زبانوں میں محفوظ ہے۔ لفظ ”وِن“ آسمان کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ”من (min)“ سے ماخوذ ہے، جس کا اصطلاحی مطلب ہے ”صاف ہونا“ ، جبکہ ”مِن“ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی ”ستارہ“ اور ”مچھلی“ وغیرہ اور یہ ”مِن“ سے نکلا ہے اور ”چمکنا“ کے معنی میں بھی کام آتا ہے۔ اسی طرح، تامل زبان میں ”ویجّی“ (vejjī) سیارہ زہرہ (Venus) اور چاندی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو ”وین“ (ven) سے نکلا ہے، جس کا اصطلاحی مطلب ہے چاندی جیسا سفید۔

تاہم، عمومی طور پر، سنسکرت سے ماخوذ الفاظ کو قدیم دراوڑی جڑوں سے الگ کرنے میں کوئی خاص دشواری نہیں ہوتی۔ صرف چند ایسے معاملات ہیں جن میں یہ ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا کچھ مخصوص الفاظ کا ماخذ سنسکرت ہے یا دراوڑی۔ مثال کے طور پر، ”نیر (Nir)“ (پانی) اور ”مِن“ (مچھلی) دونوں زبانوں کے اجزاء کے طور پر دعویٰ کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ دونوں الفاظ دراوڑی زبان کے ہیں (رابرٹ، سی۔ 1976، صفحہ 45 ) ۔ سندھی میں ”نیر (Nir)“ کا مطلب پانی اور آنسو ہے۔ یہ لفظ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ کرشنا مورتی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دراوڑی دور سے پہلے پروٹو دراوڑی (Proto۔ Dravidian) زبانوں میں ”Nir“ ”پانی“ کے لیے استعمال ہونے والا لفظ تھا، جو آج بھی سندھی زبان اور دراوڑی زبانوں میں یکساں طور پر موجود ہے (کرشنامورتی، 2003، صفحہ 46 ) ۔ اسی طرح، سندھی زبان میں لفظ ”مین“ (meen) اپنی جڑیں پروٹو دراوڑی (Proto Dravidian) کے لفظ ”مِن“ (min) سے جوڑتا ہے، جس کے معنی ”مچھلی“ اور اصطلاحی معنی ”چمک“ ، ”روشنی“ ، اور ”سیارہ“ یا سیارے کے ایک مخصوص جھرمٹ کے ہیں (بلوچ، 1988، صفحہ 2760 ) ۔

اس کے علاوہ بلوچ ( 2006، صفحہ 657 ) لکھتے ہیں کہ سندھی میں ”مینا“ (meen) کا مطلب ”آسمان“ ، ”نیلا رنگ“ ، ”سونے اور چاندی پر نقش و نگار“ ہے، اور ”مینا کاری“ قیمتی دھاتوں پر کی جانے والی رنگین، چمکدار کندہ کاری کو بھی کہا جاتا ہے، جو تمام چمک اور جگمگاہٹ کی علامت ہیں۔ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ پروٹو دراوڑی (Proto Dravidian) زبان میں ”مچھلی“ کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ”مین“ (mīn) آج کے بھارت کی زبانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال میں ہے اور کئی دراوڑی زبانوں میں ”چمک“ ، ”روشن“ ، اور ”قیمتی پتھر“ جیسے معنی دیتا ہے۔

لسانیاتی طور پر، یہ **Proto۔ Dravidian کی جڑ ”مین“ (mīn) سے جڑا ہوا ہے، جو ”چمکنا“ اور ”چمک بکھیرنا“ کے معنی رکھتا ہے۔ علامتی طور پر، اسے ستاروں، جگنوؤں، روشنی، اور مچھلی کی آنکھ کے پتھروں سمیت دیگر چمکدار اشیاء سے منسلک کیا گیا ہے (آنسومالی، بی۔ 2023، صفحات 1۔ 3 ) ۔

پارپولا کے مطابق، ”7 + مچھلی“ یا ”مچھلی + 7“ ** ( ’ایلو + مین‘ / ’elu + min‘ ) کا مطلب ”سات ستارے“ ہے۔ تامل میں یہ Ursa Major (سات ستاروں والا اوتار) کے لیے استعمال ہوتا ہے، جسے بھارت میں ”سات رشی (Seven Sages) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بھارت میں اسی سے ملتا جلتا ایک تصور پایا جاتا ہے، جہاں سات مچھلی کی شکل کے رشیوں کی پوجا کی جاتی ہے (پارپولا، اے۔ 1994، صفحہ 275 ) ۔

سندھی زبان میں بھی ”من“ یا ”مین“ (min/meen) کا مطلب مچھلی ہے، جب کہ ”کَتی“ (Katti) لفظ سات ستاروں کے جھرمٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”کَتی“ آسمان میں سات ستاروں کا ایک جھرمٹ ہے، جو گرمیوں کے موسم میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سندھی زبان میں ”کَٹی“ کاشتکاری کے ایک مخصوص موسم کو بھی کہا جاتا ہے (بلوچ، این۔ اے۔ 2006، صفحہ 483 ) ۔ اس موسم میں، جب ”کَٹی“ کا جھرمٹ آسمان کے وسط میں نمودار ہوتا ہے، تو کسان روایتی طور پر فصلوں کی کاشت کا آغاز کرتے ہیں۔ اس تشریح یا معنی کے پس منظر میں اور سندھی زبان کے لسانی اور ثقافتی نقطہ نظر سے، ”7 + مچھلی“ یا ”مچھلی + 7“ کی تشریح ممکنہ طور پر ”کَتی“ کے مفہوم سے مطابقت رکھتی ہے۔

اسی طرح، ”3 +مچھلی“ تین ستاروں کی علامت ہے، جو تامل میں مرگاشرا (Mrigashira) کے برج (asterism) سے مطابقت رکھتی ہے (پارپولا، اے۔ 1994، صفحہ 275 ) تامل ناڈو میں، یہ جھرمٹ ”سات رشیوں کے مہینے (Month of the Seven Sages) سے منسلک ہے۔ سندھ اور سندھی زبان میں، اسے“ ٹریڑو (treru) یا ”ٹرَیلھو (trelhu) کہا جاتا ہے، جو“ تین ستارے ”یا“ ایک قطار میں تین ستاروں کی قطاریں ”کے معنی دیتا ہے (بلوچ، 2006، صفحہ 150 ) ۔ اس تناظر میں کہہ سکتے ہیں کہ سندھی زبان میں 3 +مچھلی کی علامت ٹریڑو (treru) کی علامت ہے۔

اگرچہ اس بات کا موضوع سے براہ راست تعلق نہیں ہے، لیکن یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ”رتی (ratti) سونے ناپنے کے لیے ایک وزن کی اکائی ہے اور آج بھی پورے بھارت میں سونے کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوتی ہے (آنسومالی، بی۔ 2022 ) ۔ اگر یہ علامت“ رتی (ratti) ”کی تشریح ظاہر کرتی ہے، تو اسی طرح سندھ بلکہ پورے پاکستان اور بالخصوص سندھی زبان میں بھی“ رتی ”لفظ قدیم زمانے سے موجود ہے اور سونے کے وزن کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے اور آج بھی رائج ہے۔ سندھی زبان میں رتی گندم کے فصل کی بیماری بھی ہے تو رتی کے حوالے سے محاورے بھی موجود ہیں۔

اس علامت کی ”رتی“ کے طور پر تشریح کے مطابق وادی سندھ کی تحریر میں ”2 + رتی“ یا ”رتی + 2“ کی علامتیں بھی ہیں جس کی سندھی زبان میں تشریح اور مطلب دو رتی کی قدر یا قیمت کو ظاہر کر سکتا ہے۔

موہنجو دڑو کی M۔ 410 مہر کے نقش کے مطابق، ایک مگرمچھ کو مچھلی کھاتے یا نگلتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو پانی سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، یہ مہر قیمتی پتھروں، جواہرات، آنکھ کی شکل والے پتھروں، یا ستاروں سے کسی بھی قسم کا تعلق ظاہر نہیں کرتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مگرمچھ فطری طور پر پانی اور مچھلی کے شکار سے جڑا ہوا ہے، لیکن جواہرات یا منکوں کو کھانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ نہ ہی یہاں تشریح ستارے کی علامت ہو سکتی ہے اور نہ ہی یہاں کسی ستارے کے ساتھ کوئی علامتی اشارہ بھی ملتا ہے۔

لہٰذا، ”مین“ یا ”مین“ (min/meen) کی تشریح کو جواہر یا ستارے کے مفہوم میں دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگرچہ سندھی زبان کو ہند۔ آریائی زبانوں کے خاندان کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس کی جڑیں پروٹو ڈراوڑی Proto Dravidian اور دراوڑی زبانوں تک پہنچتی ہیں۔ وادی سندھ کی تحریر میں مچھلی کی علامت کی تشریح، Proto Dravidian اور دراوڑی الفاظ جیسے نیر ( (nīr من (min) ، اور مِن (min) یا مین (meen) کی مدد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ دراوڑی اور پروٹو دراوڑی لسانی عناصر سندھی زبان میں اب تک برقرار ہیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سندھی ابتدا میں ایک دراوڑی زبان تھی، لیکن آریائی اور سامی زبانوں کے طویل مدتی اثر کی وجہ سے بالآخر یہ ہند۔ آریائی گروہ کا حصہ بن گئی۔

چنانچہ، وادی سندھ کے تحریری نظام میں مچھلی اور دوسری علامات کے ساتھ ساتھ گہرے مطالعاتی تناظر میں سندھی زبان وادی سندھ کی تحریر کو سمجھنے میں ایک اہم وسیلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے دراوڑی زبانوں سے لسانی روابط اور تاریخی تسلسل سمجھنے سے محققین وادی سندھ کی تحریروں کے معنی اور علامتی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ جس طرح آسکو پارپولا نے تامل زبان کے پیش نظر وادی سندھ کی تحریر پڑھنے کی کوشش میں ہے اس طرح دوسری دراوڑی زبانوں کے علاوہ مستقبل میں کی جانے والی تحقیق میں دوسری دراوڑی زبانوں کے ساتھ سندھی زبان کو بھی شامل کیا جائے۔ کیوں کہ سندھی میں دراوڑی لسانی اور ثقافتی عناصر شامل ہیں۔ وادی سندھ کی تحریر کے رازوں کو حل کرنے میں سندھی زبان نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

 

Facebook Comments HS