عابد خورشید کی نظموں کا مجموعہ: یا محبت
”اسلوبیاتی تناظر میں عابد خورشیدؔ کی نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو اُن کے ہاں شعری لفظیات کے انتخاب اور برتاؤ میں ندرتِ خیال اور جمالیاتی دلکشی ہے۔ یہ ایسی شاعری ہے، جس کے اسالیب و استعارات عصری حسیت سے ہم آہنگ ہیں۔ ان فن پاروں کی متنی تشکیل ایک ایسی ہنروری کی آئینہ دار ہے، جس میں لفظ معنیاتی تہ داری اور نئے تخلیقی امکانات کے حامل دکھائی دیتے ہیں“ (حنیف سرمد، ص 20 )
محبت ایک حسین اور لطیف فطری جذبہ ہے، جو احساس کی تمازت میں گہرے رنگ کی مانند ہے۔ عابد خورشید کے ہاں یہ رنگ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے جب وہ محبت کو یا محبت کا درجہ دیتے ہیں۔ عابد خورشید کی نظموں کے مجموعے کا عنوان ”یا محبت“ رومانی وابستگی، روحانی اور صوفیانہ وارفتگی لیے ہوئے ہے جو قاری کی روح کو مسحور، دل کو مسخر اور ذہن کو استغراق میں ڈال دیتا ہے۔ کتاب کا عنوان انفرادیت اور ندرتِ خیال کا عکاس ہے اور عابد خورشید کی نظموں کے لیے موزوں اور مناسب معلوم ہوتا ہے اس عنوان سے شاعر کے احساسات اور جذبات کی گہرائی اور گیرائی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
عابد خورشید کی نظمیں تخلیقی وفور، سرشاری، روحانی آسودگی اور زندگی کی چاشنی سے لبریز ہیں۔ ان میں رجائیت پسندی کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے۔ تخلیقی عمل انتہائی پیچیدہ اور پراسرار ہوتا ہے۔ اسے گرفت میں لانے کا ہنر عابد خورشید خوب جانتے ہیں وہ اس کے ذریعے لمس کی بازیافت ہی نہیں کرتے بلکہ احساسات و جذبات کی متضاد کیفیات کی تجسیم بھی عمدہ طریقے سے کرتے ہیں۔ اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ عابد خورشید کی نظموں میں ذاتی دکھ اور کرب کا اظہار ملتا ہے لیکن وہ اسے یاسیت اور قنوطیت کا رنگ نہیں دیتے بلکہ اسے جینے کی آرزو اور امید سے اس طرح وابستہ کرتے ہیں کہ وہ آفاقی صداقت کے طور پر جلوہ گر ہوتا ہے جو اپنے دامن میں شعور و آگہی کے موتی سمیٹے ہوئے ہے۔ اس سے زندگی کی حقیقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ عابد خورشید کی نظموں کا مطمح نظر زندگی سے فرار نہیں بلکہ ہمت، استقلال اور ثابت قدمی ہے۔ ان میں حیرتوں کا جہان آباد ہے۔ یہ ہمہ وقت کچھ نیا دریافت کرتی ہیں جس سے قاری متجسس رہتا ہے۔ عابد خورشید کشف ذات ہی نہیں کرتے بلکہ اندرونِ ذات کو خارج سے ہم آہنگ کر کے عصری حسیت کے مرقعے تخلیق کرتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی نظمیں عصری حسیت کی حامل ہیں۔
اکیسویں صدی بنیادی طور پر برق رفتاری اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ اس صدی نے انسان کو بے شمار مسائل سے دوچار کیا ہے۔ جہان انسان کو مادی آسائشیں نصیب ہوئی ہیں وہی بہت سے خطرات بھی اسے لاحق ہیں جن کو عابد خورشید نے اپنی نظموں میں بڑی عمدگی سے پیش کیا ہے۔
زمین!
تیری سر سبز پوروں سے لکھا ہوا رزق ہوں میں
مری سب شبیہیں
ترے زرد خوشوں میں ضم ہو چکی ہیں
مری سب ریاضت
مرے چہرے کی ہڈیوں سے عیاں ہے!
مرے جسم سے چِپکے بالوں کی ہر ہر گرہ
ایک دکھ سے بندھی ہے! (ص 49 )
حیات و کائنات کا حسن ضدین میں مضمر ہے۔ عابد خورشید کی نظموں میں ضدین اور ان کے طلسماتی تلازمات اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ موجود ہیں۔
عابد خورشید غم سے راحت، مایوسی سے امید، فنا سے بقا اور اندھیرے سے روشنی تلاشنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔
جب اچانک
رات بھر بھیگی ہوئی اک بیل کی
شاخوں سے میں ٹکرا گیا
بیل جیسے ہنس پڑی
مجھ پر دمکتے موتیوں کو یوں لٹا کر کس طرح سرشار تھی! (ص 39 )
میٹا فزیکل اپروچ نے عابد خورشید کی نظموں کو ایک نیا اور منفرد تناظر فراہم کیا ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”چلو خواہش کا در کھولیں“ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ کریں :
بدن معبد سے ہم باہر نکل کر
نظر سے گرد کے جالے اتاریں
ہر اک روزن سے
ضو بن کر گزر جائیں (ص 23 )
عابد خورشید قدامت پرستی کے قائل نہیں لیکن قدیم فکر سے اکتساب ضرور کرتے ہیں۔ جس سے ان کی نظمیں فکری لحاظ سے روایت سے منسلک رہتے ہوئے اپنی ہیئت اور موضوع میں توازن پیدا کرتی ہیں جس سے ان کا فطری حسن برقرار رہتا ہے۔
جدید معاشرتی اقدار سرمایہ داری نظام کی دین ہیں۔ ان اقدار نے مصنوعی پن کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ احساسات اور جذبات کو شے کا درجہ دے دیا ہے جنھیں خریدا اور بیچا جا سکتا ہے۔ عابد خورشید کی نظم ”شاپنگ“ میں اس کا اظہار ملتا ہے۔
دو مسکانیں دینا بھائی
یہ لو پیسے!
اور ہاں دیکھو
پچھلے ہفتے جیسی نہ دینا
ہونٹوں پر چپکانے سے پہلے ہی
ان کی رنگت پھیل گئی تھی
اک شاپر میں
میٹھی باتوں کے کچھ پیکٹ بھی رکھ دینا
ہنسنے والی آنکھیں ہوں گی؟
دو آنکھیں بھی اس میں رکھ دو
تم نے کہا تھا
اگلے ہفتے گرتے آنسو کا لمس بھی مل جائے گا؟ (ص 25۔ 26 )
نظم کی ہیئت میں موضوع اور فکر کو سمونے کے لیے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے عابد خورشید نے انھیں پیش نظر رکھا ہے۔ الفاظ کے چناؤ، علامات، تشبیہات اور استعارات کے انتخاب میں بڑی لگن، محنت اور ریاضت سے کام لیا ہے۔ انھوں نے معمولی سے معمولی لفظ کو بھی بڑے غیر معمولی اور فن کارانہ انداز میں برتا ہے جس سے فنی پختگی اور فن سے محبت کا ثبوت ملتا ہے۔ عابد خورشید کی نظموں کا مجموعہ ”یا محبت“ ان کو پختہ اور فکر ساز شاعر کے طور پر متعارف کراتا ہے۔


