ایک اور جھوٹ: حکومت نے سولر پر 18 فی صد سیلز ٹیکس لگا دیا


ہمارے ملک میں صحافت کا حال ویسے ہی پتلا ہے۔ اوپر سے خبروں کو موڑ توڑ کر پیش کرنے کا ایسا چلن چل پڑا ہے کہ لوگ وقت کی کمی کے سبب محض ہیڈلائن پڑھ کر خبر کے بارے میں غلط اندازہ لگا لیتے ہیں اور گھنٹوں غلط بات پر بحث کرتے ہیں۔ لکھنے والے ادھوری معلومات پر کالموں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں اور یوٹیوبرز کا تو کیا کہنا۔

میں بیک وقت دو ایسی ہی باتوں پر تحاریر لکھ رہا تھا کہ ایک تیسری ہیڈلائن نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی وجہ یہی کہ متعدد لوگوں نے مختلف اخبارات یا ویب سائٹ سے اسے مجھے فارورڈ کیا۔

یاد رہے میں جن دو موضوعات پر لکھ رہا تھا (جو لگ بھگ غلط بیانیہ ہیں ) ان میں پہلا قطر نے نواز شریف کے دور میں پاکستان کو انتہائی سستے نرخوں پر ایل این جی فراہم کی تھی جس کو اپوزیشن نے اسکینڈل بنا کر قطر سے تعلقات خراب کر دیے۔ دوسرا 2020 میں ہوابازی کے وزیر کے بیان سے پی آئی اے (اور پاکستان کو ) 220 ارب روپے کا نقصان ہو گیا۔

دونوں اوپری معاملات کو چھوڑ کر اب تیسری خبر کی طرف چلتے ہیں کہ حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ کرنے والوں پر 18 فی صد ٹیکس لگا دیا۔

پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بجلی پیدا کرنے والے ادارے کئی ہیں۔ ان میں واپڈا، سرکاری نیوکلیئر پلانٹ، سرکاری اور نجی تھرمل بجلی گھر شامل ہیں۔ ان سب سے بجلی ایک سرکاری ادارہ ”پیپکو“ حاصل کرتا ہے۔

پیپکو کے نیچے پندرہ سولہ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں قائم ہیں (ڈویژن سمجھ لیں ) انہیں ڈسکوز کہا جاتا ہے۔ ان میں قابل ذکر اسلام آباد، لاہور، ملتان، سکھر، کوئٹہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب پیپکو کے نیچے ہیں۔ کراچی اور ملحقہ علاقوں کو کراچی الیکٹرک دیکھتا ہے جو پیپکو کے نیچے نہیں ہے بلکہ پرائیویٹ کمپنی ہے۔

پیپکو بجلی کو ہر علاقے کے ڈسکوز کی معرفت صارف تک پہنچاتا ہے۔ ہر علاقے میں بجلی کی ترسیل کے مسائل اور لوگوں سے بل کی وصولی متعلقہ ڈسکوز کا کام ہے۔

کسی صارف کو بجلی کے مسائل اور بجلی کی قیمت میں اگر کوئی شکایت ہو تو ایک ادارہ ”نیپرا“ بنایا گیا ہے جو پیپکو کی ہر مہینے خریدی گئی بجلی کا حساب رکھتا ہے اور اگلے مہینوں کے لئے بجلی کی اوسط قیمتوں کا اعلان بھی کر دیتا ہے۔

نیپرا یہ بجلی متعلقہ ڈسکوز کو دے دیتا ہے جو اسی حساب سے بجلی کا بل بناتے ہیں۔ جس میں نیپرا کی طے کردہ بجلی کے نرخ پر سرکاری ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں جو صارف سے بل میں وصول کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں (کراچی کے علاوہ ) کہیں ایک صارف متعلقہ ڈسکو سے بجلی حاصل کرنے کا معاہدہ کرتا ہے اور سالوں سے اسی طرح کام چل رہا ہے۔ یاد رہے یہ شخص اگر 500 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے جو فرض کریں 40 روپے یونٹ ہے تو اس شخص کا صرف بجلی کا بل بیس ہزار روپے بن جائے گا۔

سرکار نے بجلی کی قیمت پر 18 فی صد سیلز ٹیکس عائد کیا ہوا ہے جو تین ہزار چھ سو روپے بن جائے گا۔ (باقی ٹیکسز کو چھوڑ دیتے ہیں ) ۔

چند مہینے پہلے یہی شخص اپنے گھر پر ایک بڑا سا سولر سسٹم لگا لیتا ہے۔ اور متعلقہ اداروں سے نیٹ میٹرنگ کا معاہدہ بھی کر لیتا ہے یعنی اب یہ شخص بھی نجی بجلی گھروں کی طرح ایک ایک چھوٹا سا آئی پی پی بن گیا اور متعلقہ ڈسکوز کو اپنے سولر سسٹم کی اضافی بجلی فراہم کرنے لگا۔ یہاں ایک اہم بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس شخص نے ڈسکوز سے دو معاہدے کیے ہیں ایک نہیں۔ پہلا بجلی استعمال کرنے کا اور دوسرا نجی سولر سسٹم کی اضافی بجلی کو پیپکو (یا متعلقہ ڈسکوز) کو بیچنے کا۔ کچھ عرصے بعد سولر سسٹم (اور نیٹ میٹرنگ کا معاہدہ) رکھنے والے اس شخص کو بجلی کا بل آتا ہے۔

اس صارف کا سولر سسٹم ہر مہینے دھوپ سے چار سو یونٹ بجلی بناتا ہے (جس میں سے وہ دو سو یونٹ خود استعمال کرتا ہے اور باقی اضافی دو سو یونٹ بیچ دیتا ہے ) جب کہ رات کو وہ 300 سو یونٹ بجلی ڈسکو سے خریدتا ہے۔

یوں بل کے مطابق صارف نے (پانچ سو کی بجائے اب) 300 یونٹ بجلی استعمال کی اور 200 یونٹ بجلی اپنے سولر سسٹم سے نیٹ میٹرنگ کی۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ اس صارف کا بل کیسے بنے گا؟
فی الوقت ہم سیلز ٹیکس کے علاوہ تمام دوسرے ٹیکسوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اسلام آباد، لاہور اور ملتان وغیرہ کے ڈسکوز (فرض کریں ) استعمال کیے گئے تین سو یونٹ میں سے (سولر کے ) دو سو یونٹ منہا کرتے تھے اور سو یونٹ کی بجلی کی قیمت 4000 روپے بنا کر اس پر 18 فی صد ٹیکس لگا دیتے تھے جو 720 روپے بن جاتا تھا۔ بل بنا۔ چار ہزار سات سو بیس روپے۔

کچھ ڈسکوز 300 یونٹ کا بل 40 کے حساب سے 12000 بناتے تھے اور نیٹ میٹرنگ خریداری کے ریٹ جو کم ہوتے ہیں (فرض کریں 20 روپے ) یعنی 4000 روپے نفی کر دیتے تھے۔ اور جو حاصل آئے اس پر 18 فی صد ٹیکس لگا دیتے تھے۔ یعنی 8000 اور سیلز ٹیکس کے 1440 روپے (بل بنا 9440 روپے ) یعنی نو ہزار چار سو چالیس روپے کا بل۔

کراچی الیکٹرک اس کے برعکس مختلف کر رہا تھا۔ وہ ایک بل میں دو معاہدوں کے الگ الگ بل بناتا تھا۔

پہلے کے مطابق تین سو یونٹ کا بل 12000 (چالیس روپے یونٹ کے حساب سے بارہ ہزار ) بنا۔ اس پر 18 فی صد ٹیکس لگایا جو دو ہزار ایک سو ساٹھ روپے بنا۔ کل بل چودہ ہزار ایک سو ساٹھ۔

دوسرے حصے میں خریدی گئی بجلی کے دو سو یونٹ 4000 روپے (بحساب 20 روپے یونٹ) میں واپس خرید لئے یوں 14160 میں سے 4000 نکالیں تو بچا دس ہزار ایک سو ساٹھ روپے کا بل۔

کراچی الیکٹرک کے ایک صارف نے جو نیٹ میٹرنگ استعمال کر رہا تھا۔ اس پر احتجاج کرتے ہوئے معاملہ ٹیکس محتسب کی عدالت تک پہنچا دیا کہ کراچی الیکٹرک بھی اسی طرح سے بل بنائے اور سیلز ٹیکس لگائے جیسے باقی ڈسکوز عائد کر رہے ہیں۔

وفاقی محتسب نے صارف، کراچی الیکٹرک اور باقی ڈسکوز کے بیانات سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ کراچی الیکٹرک صحیح کر رہا ہے اور باقی ڈسکوز بجلی کے بل غلط طریقے سے بنا رہے ہیں۔ اور یوں اس وقت لاکھوں نیٹ میٹرنگ والے صارف جو اب تک حکومتی اداروں کو کوس رہے ہوں گے اس تحریر کو پڑھنے کے بعد کراچی الیکٹرک کے اس صارف کو کوسیں گے جو اپنا مقدمہ ٹیکس محتسب کی عدالت میں لے کر گیا تھا۔ ٹیکس محتسب کے بقول اس گھپلے سے لگ بھگ نو ارب روپے کم سیلز ٹیکس جمع ہوا۔

اب یہاں ایک دل چسپ معاملہ۔ ڈسکوز کے پاس سے جو بجلی اوپر دی گئی مثال میں صارف کو فراہم کی گئی وہ تین سو یونٹ ہے اور قومی خزانے میں تین سو یونٹ کا سیلز ٹیکس جمع ہونا چاہیے۔ اگر ڈسکوز کا پرانا فارمولہ دیکھیں تو تین سو میں سے سو یونٹ کا سیلز ٹیکس تو نیٹ میٹرنگ والا صارف ادا کرے گا۔ جب کہ باقی دو سو یونٹ اس کے قریبی گھروں میں رہنے والے لوگ اپنے اپنے بل میں ادا کریں گے یوں سرکاری خزانے میں اس صورت میں بھی ٹیکس 300 یونٹ کا ہی جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے میں تین سو نہیں بلکہ پانچ سو یونٹ بجلی استعمال ہوئی۔ تین سو یونٹ ڈسکو نے صارف کو دی اور دو سو یونٹ صارف کے سولر سسٹم نے اس کے اہل محلہ کو فراہم کی۔ تو کیا اس اضافی دو سو یونٹ کا ٹیکس قومی خزانے میں نہیں جانا چاہیے؟ جواب ہے بالکل جانا چاہیے۔

یہی نہیں ممکن ہے ایف بی آر یا کوئی اور ادارہ یا شخص بھی ٹیکس محتسب کے پاس دوبارہ جائے اور ان تمام نیٹ میٹرنگ والے صارفین سے اضافی ٹیکس ادا کرنے کا مطالبہ کرے جو ماضی میں ڈسکوز کی نا اہلی یا غلطی سے ان پر عائد نہیں کیا گیا۔ بے شک یہ بارہ قسطوں میں لیا جائے یا چوبیس میں۔

وفاقی محتسب کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خود ڈسکوز اور متعدد سرکاری اداروں اور اسمبلی کے اراکین کو بھی بجلی کے مخصوص یونٹ مفت ملتے ہیں۔ بے شک ان یونٹوں کی بھرپائی صارف سے نہ لی جائے لیکن چونکہ سولر نیٹ میٹرنگ کی طرح ”بجلی تو استعمال ہوئی“ تو اس پر سیلز ٹیکس لگا کر وہ ٹیکس بھی صارف یا متعلقہ ادارے سے وصول کیا جایا کرے۔

جس نو ارب روپے خسارے کی طرف ٹیکس محتسب اشارہ کر رہے ہیں اس میں وہ تمام فری یونٹس پر عائد ہونے والا سیلز ٹیکس بھی شامل ہے۔ جو بہت سارے مفت خوروں کی وجہ سے ممکنہ طور پر وصول نہیں ہو پا رہا ہو گا۔

وہ لوگ جو سولر سسٹم پر نیٹ میٹرنگ کر رہے ہیں یا جو لوگ مستقبل میں نیٹ میٹرنگ پر جانا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے چند باتیں۔

یاد رکھیں نیٹ میٹرنگ صارف کی حیثیت آئی پی پی جیسی ہوتی ہے۔ اگر ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی پی پیز سے گاہے بگاہے معاہدے پر نظر ثانی کریں تو یہ کام آپ کے ساتھ بھی ہو گا۔ دنیا بھر میں بالخصوص یورپ میں سولر سسٹم لگا کر نیٹ میٹرنگ لگ بھگ ختم ہو رہی ہے۔ اور بہت سارے ممالک میں یہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ جس میں غلطی خود صارف کی ہے نا کہ اس ملک (یا بجلی فراہم کرنے یا خریدنے والے ادارے کی) ۔

پاکستان میں بھی یہ کسی بھی وقت (یا کسی بھی شہر میں کسی بھی وقت) ختم ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت مستقبل میں آئی پی پیز سے اضافی بجلی لینے کی پابند نہیں تو خود کو بھی اسی میں شامل سمجھیں۔ اسی طرح مختلف ممالک میں نیٹ میٹرنگ سے بیچی گئی بجلی کو کمائی تصور کیا جا رہا ہے اور ممکن ہے چار سے پانچ فی صد کیپیٹل گین آپ پر بھی عائد ہو جائے جو آپ فروخت کر رہے ہیں۔ ویسے بھی پرانے والے طریقے میں صرف سیلز ٹیکس ہی نہیں کیپٹل گین ٹیکس اور فیول ایڈجسٹمنٹ میں بھی آپ کو مراعات مل رہی تھیں اور یہ ہنی مون پیریڈ بھی اب ختم ہی سمجھیں۔

Facebook Comments HS