ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک


تبصرہ نگار: دعا عظیمی

بہت عرصے سے سن رہی تھی کہ ڈاکٹر سہیل کی سیکر سالک بن کر روایت کی دھرتی پر اترنے والی ہے۔ تصوف میں استعمال ہونے والی یہ دونوں اصطلاحات میرے لیے ہمیشہ سے پرکشش رہی ہیں۔ بڑا عرصہ مجذوبیت کو سالک سے اوپر کا درجہ دیتی رہی پھر سمجھ میں آیا کہ مجذوب کی نسبت سالک کا درجہ بہت بلند ہے۔

مجذوب اپنی مستی میں مست خدا کی ذات کی جلوہ گری میں خاکستر ہوجاتا ہے وہ جذب کرنے کی محدود صلاحیت رکھتا ہے۔ کب کیا اس کی سکت سے زیادہ ہو پتہ نہیں چلتا۔ کبھی کبھی عام سی بات پر مرغِ بسمل کی طرح تڑپ کر جان سے بھی جا سکتا ہے۔ عالمِ بے خودی میں ہوش و خرد سے دیوانہ، مست۔ ملکوتی جوہر کا ایک بھی لشکارہ برداشت نہیں کر سکتا۔ سورج کی ایک کرن اسے مار دینے کے لیے کافی ہوتی ہے کوہ ِطور سرمہ بن جاتا ہے۔ اور سالک وہ جو سورج کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر دیکھے تو روشنی دامن میں بھر لے اور اک جہان کو منور کر دے۔ سالک وہ جس کے ضبط کی گرہ مضبوط ہو، جس کے صبر کا دامن وسیع ہو، جس کا ظرف بے کنار ہو۔ جو رکے تو کوہِ گراں، جو چلے تو جاں سے گزر جائے مگر بے خوف و خطر آتشِ نمرود کو گل و گلزار بنا ڈالے مختصراً یہ کہ اقبال کے اس شعر کی تفسیر ہو

تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نا کر قبول

سالک بننا راہِ سلوک پر سفر کرنا عام انسان کے بس کا کھیل کہاں؟ بڑا دل گردہ بڑا ویژن چاہیے۔ ایک نظریہ تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زندگی راہِ سلوک ہے اور اس پر رذائل سے بچ بچا کر چلنے والا ہر مسافر سالک ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نہ تسلیم کرنے والا نہ ماننے والا بلکہ رد کر دینے والا کس طرح اپنے اجداد کے وارڈروب سے نہایت اپنے پن اور بے تکلفی سے بنا کسی روک ٹوک کے اپنے پورے حق کے ساتھ لفظ سالک کا پیرہن چنتا ہے اوڑھتا ہے اسے آرام سے زیبِ تن کرتا ہے۔ کس شانِ بے نیازی سے بڑی سہولت کے ساتھ سوٹڈ بوٹڈ ہو کے فیملی آف ہارٹ بنا کے پارٹیاں اٹینڈ کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ خالصتاً صوفیانہ اصطلاح کو اک نئی وضع عطا کر دیتا ہے اور خضر کے صوف میں لپٹ کر دنیا کو بتاتا ہے کہ اوصاف کسی ایک مذہب کی میراث نہیں ہیں۔ کسی بھی بڑے انسان کو، کسی بھی درویش کو، کسی بھی صوفی کو، کسی بھی عقیدے کے لیبل کی ضرورت نہیں۔

جب سالک راہ سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو اسے ایک شے کی راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ وہ ہے اس کا من اس کی ذات کا اپنا سچ، اس کے تن من پر بیتا ہوا ہر ہر لمحہ، تجربے، مجاہدے اور مشاہدے مکاشفے کی عطا۔ سالک میں بیان کرتے ہیں۔

”محبت کیا ہے۔
جب ہم
کسی کی چاہت میں گرفتار ہوتے ہیں
تو ہمارے اندر
ایک نئی حساسیت اور نیا شعور پیدا ہوتا ہے
جب ہم کسی کی الفت کے اسیر ہوتے ہیں
تو ہمارے اندر
ایک نئی روحانیت اور رومانویت پیدا ہوتی ہے
جب ہم کسی سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں
تو ہم
تیسری انکھ سے دیکھنے
اور
تیسرے کان سے سننے لگتے ہیں ”

ڈاکٹر خالد سہیل نے زندگی کی سرگوشی کو تیسرے کان سے سنا ہے اور تیسری آنکھ کی بدولت اپنی زندگی میں آنے والے ہر کردار کو اس کی صفت سے منسوب کر کے اسے پہچانا ہے اس کی مناسبت سے ہر ایک کو الگ الگ عنوان عطا کیا ہے۔
انہوں نے اپنی والدہ اپنے والد اپنی ہمشیرہ بھانجوں بھانجیوں حتیٰ کہ اپنی زندگی میں آنے والے بے شمار کرداروں کو اس روپ سے یاد کیا ہے جس کا نمایاں رنگ انہیں اس ہستی کے پیالے میں نظر آ یا ہے۔

عجیب داستاں ہے یہ

سیکر نے اپنی زندگی کی کہانی کو دلچسپ انداز میں قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل ایک روشن دماغ انسان ہیں سو ہر پہیلی کو سلجھا لیتے ہیں۔ انہوں نے مشکل زندگی کو مہربان محبوبہ بنا لیا ہے۔

”زندگی محبوبہ کی طرح مہربان ہے۔“ اس دلچسپ جملے کے خالق یعنی سالک کا زندگی اور محبوبہ دونوں کے بارے میں نظریہ عام انسانوں کی نسبت فرق ہے۔ شاید ان کی محبوبہ اور زندگی دونوں مغربی ہیں ورنہ مشرق میں نہ ہی زندگی اور نہ ہی محبوبہ مہربان ہیں بلکہ کج ادا اور نخوت بھری ہوتی ہیں۔ روایت کی زمین پر یہی تصور ہمیں شعرا نے، ادبا نے اور دانشوروں نے دیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے ڈاکٹر صاحب کو اپنی زندگی اور محبوبہ اس لیے مہربان نظر آتے ہوں کیونکہ وہ خود مہربانی کی صفت سے متصور ہیں بلکہ سراپا مہربانی ہیں۔
خیر سانجھ پبلشر سے ان کی کتاب سالک کی گونج چاروں اطراف میں پھیلی ہوئی تھی۔

کتاب اپنی اصل صورت میں انگریزی زبان میں آج سے آٹھ برس پہلے ڈاکٹر صاحب کے کریٹیو لیبر روم سے نکل کر وجود میں آ چکی تھی لیکن اپنے پورے آٹھ برس کے بعد وہ سالک کے نام کے ساتھ سانجھ پبلیکیشنز سے تیار ہو کر باہر نکلی تو میرے جیسے قاری نے انگلی منہ میں داب لی۔ اللہ اللہ اتنی پیاری کتاب، سائز میں طباعت میں، صفحات میں، نوے گرام کا پیپر ریشمی سا نرمگیں بالکل منفرد۔ کافی ٹیبل بک۔

دراصل سالک جو خضری سچ کی تلاش کی کہانی ہے۔ سرِورق اور شکل صورت سے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے بازیچہ اطفال ہو بچوں کی کچھ کتابیں بڑی پرکشش ہوا کرتی ہیں تاکہ بچوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔ دلفریب سرورق، سبز فضا میں نیلگوں پانیوں پہ تیرتی مچھلی اور اس پہ ایک مسلم کردار خضر۔ میرے خیال میں دریا یہاں دانائی کا مچھلی زندگی کا خضر راہنمائی کا اشارہ ہے۔ نیلا رنگ روحانیت اور سبز پاکیزگی اور شانتی کا اظہار ہے۔ صابر نذر صاحب نے اس کے ٹائٹل کو بنایا ہے۔ عظمیٰ بنت عزیز نے تصاویر کا اہتمام کیا ہے۔ ترجمہ خود ڈاکٹر سہیل نے فرمایا ہے۔

انتساب سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے مسافروں کے نام ہے۔

صفحات کا معیار خصوصی ہے۔ بلاشبہ تصویروں کے لیے خاص صفحات ہی استعمال ہوتے ہیں۔ کتاب کو چار چاند لگانے کے لیے خضر کی مختلف تصاویر کا اہتمام ہے۔ صفحہ نمبر اٹھارہ دیکھیے۔

”یہ خضر کا پڑھنے کا کمرہ تھا۔ وہ بالکنی میں شام کو بیٹھ کر سبز چائے پیتا اور کتابیں پڑھتا۔ وہ اپنی بالکونی سے جھیل دیکھ سکتا تھا۔ کئی صبحیں ایسی بھی تھیں جب اس کا دل جھیل کے کنارے لمبی سیر کرنے کی سرگوشی کرتا اور

وہ سیر کے دوران
جھیل کی
لہروں
آبی پرندوں
اور
سورج کی کرنوں
سے مسحور و محفوظ ہوتا۔ ”
یہ تو نثر کی خوبصورتی کا ذکر ہے۔

لیکن کتاب ایک ایسی کیفیت کی ترجمان ہے جسے ڈاکٹر سہیل ٹرانس کہتے ہیں۔ یہ استعارے کی زمین میں لکھا گیا دیکھنے میں کسی ناولٹ جتنا طویل ہے مگر درحقیقت اس میں ایک سرگزشت ہے تماثیل اور استعارے کی زبان میں بڑے بڑے راز کھولے ہیں۔ دھرتی کو روایت کہا ہے اپنی والدہ کی صورت میں انہیں مذہب کی تفہیم کچھ اس طرح ہوئی کہ مذہب انسان کو دو چیزیں دیتا ہے محبت اور احساسِ گناہ وہ اپنے والد کی صوفیانہ طبیعت کی وجہ سے انہیں تصوف کا نام دیتے ہیں۔ وہ دانائی کے روپ کو اپنی نانی ماں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ یہ صفات کے چہرے ہیں جن سے وہ زندگی میں ملے ہیں۔

خضر نے اپنی نانی کو دانائی کے روپ میں کیونکر دیکھا ساتھ ہی مثال بھی دے دی۔ دوستی کے طور پر اپنی بہن عنبر کو دیکھتے ہیں کیسے انہوں نے دوستی کے چہرے کو نام دیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے ہاں دوستی کا تصور کتنا محترم ہے۔ ایمان کا تصور ان کے ہاں اور طرح پرورش پایا۔

یہاں دلچسپ موازنہ کروں گی۔ ایک اور محترم ادیب کی سوانح عمری پڑھی تو اس میں نمازِ استسقا سے ایمان کی پختگی جڑی ملی جب کہ اس کے برعکس یہاں نمازِ استسقاء سے سائنس تک، دلیل تک کا سفر دیکھنے کو ملا یہی تنوع زندگی کا حسن ہے۔

اس میں درج ہے کہ وہ اپنے اعتقاد سے کس طرح ہجرت کرتے ہیں۔

سوال تو بنتا ہے خضر نے اپنا نام خضر کیوں رکھا اس کی ایک تاویل یہ ہے کہ خضر کا جو کردار مقدس صحیفے میں آیا ہے وہ ایک ایسا کردار ہے جو رفعت میں، بلندی میں، دانائی میں یکتا ہے جو وقت کے پیغمبر کو راہنمائی دے رہا ہے۔ جو کھوئے ہوؤں کو منزل کا راستہ بتاتا ہے۔ جو ان سوالوں کے جواب دیتا ہے جو کسی حکمت کے باعث پیغمبر موسیٰؑ پر آشکار نہیں ہوتے۔ خضر نے شاعری کے روپ میں اپنے دل کی آواز سنی۔ دریا کنارے وہ خود پر منکشف ہوا۔ زندگی اسے تحفے کی مانند لگی۔ آزادی کا احساس اس کی روح میں اتر گیا۔ من کی گہرائیوں میں اسے سراغِ زندگی ملا۔ اس نے چند دانشمندانہ فیصلے کیے۔ اس نے زندگی کے دکھوں کو سکھ میں بدلنے کا خواب دیکھا اور زندگی بھر اس کی تعبیر میں رنگ بھرتا رہا۔

مجھے صفحہ نمبر تینتالیس میں یہ سطور سچی لگیں۔

”خضر کو یہ جان کر حیرت ہوئی روایت کی سرزمین میں ڈیٹنگ ممنوع تھی اور جنسی تعلقات کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اس سرزمین میں تمام رومانوی تعلقات کو صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔“

میرے تصور میں روایت کی سرزمین اچانک ایک ایسے مذہبی ادارے کی شکل میں ابھری جہاں رہبانیت کے سبب راہباؤں کو پادریوں کو راہبانیت کے سبب فطری تعلق ممنوع ہیں جس کے نتیجے میں پیدا شدہ کرداروں میں ناجائز تعلقات پرورش پاتے ہیں۔ منافقت کا سفید لباس پہنے راہبائیں مذہبی عہدیداروں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی ہیں مگر پکڑے جانے کا ڈر نہیں ہوتا کیونکہ یہاں کا یہی چلن ہے۔ مقدس ہونے کا دعویٰ اپنی جگہ اور فطرت منافقت کا سہارا لے کر اپنی جگہ ہاتھ پکڑ کر چلتی رہتی ہے۔

سعادت حسن منٹو سے کیے گئے سلوک کو دیکھ کر خضر نے جانا کہ کس طرح سچ بیان کرنے والے کو اپنے آدرشوں کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

کتاب جہاں ڈاکٹر خالد سہیل کی ذاتی زندگی کو بیان کرتی ہے وہیں ان کے تصورات میں شفافیت کا آئینہ ہے۔ وہ کچھ سوالات بھی کرتے ہیں

”کیا انسانیت تشدد کی اس تاریک رات کی کوکھ سے پرامن صبح پیدا کرسکے گی یا خانہ جنگیوں اور مہلک ہتھیاروں سے اجتماعی خودکشی کر لے گی۔“

سیاحت کے عنوان تلے انہیں چین میں ایک بزرگ خاتون ملی جو کنفیوشس کے سنہری قول سے متاثر تھی۔
دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو
جیسا کہ تم چاہتے ہو
وہ تمہارے ساتھ کریں۔ ”

خضر نے سچائیاں میں ایک سچ بیان کیا
دنیا میں اتنے سچ ہیں جتنے انسان
اور
اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی آنکھیں

ڈاکٹر خالد سہیل خضر کے روپ میں ایک ایسے کردار ہیں جو مختلف لباسِ مجاز میں دنیا میں ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔ ان کی انفرادیت اپنی جگہ مگر ان کی صفات کو کہیں نا کہیں کسی نا کسی روپ میں اس دنیا میں رہنا ہی ہے جیسے گدلے پانیوں میں کنول تیرا کرتے ہیں۔ کنول کی مانند ڈاکٹر خالد سہیل ہر زمانے میں سالک بن کے زندگی کی زلفِ گرہ گیر کھولتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

  • 02/03/2025 at 10:38 شام
    Permalink

    "Dua Azeemi’s reflections on Khizar’s character serve as a testament to the profound impact of Khalid Sohail’s writing on readers.”

Comments are closed.