فرسٹ ائر فول: ایم بی بی ایس کہانی۔ قسط نمبر نو


تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

مرزا غالب خوش نصیب نکلے کہ جو سنا تھا وہ ہوا نہیں۔ پر ہماری ایسی قسمت کہاں تھی؟ ہر طرف سے خبریں مل رہی تھیں کہ سینئر لڑکیاں اپنے ہتھیار تیز کر رہی ہیں۔ کسی بھی وقت دھاوا بولا جائے گا اور نئے پنچھیوں کو آٹے دال کا بھاؤ بتایا جائے گا۔ سب لڑکیاں اس ناگہانی کے تصور سے ہی سہمی بیٹھی تھیں۔ ہمیں کچھ اشتیاق تھا اور کچھ اس ناگہانی سے نمٹنے کا چیلنج کہ دیکھیے کیا ہوتا ہے؟ اور آخرکار وہ رات آ گئی۔

شوخ، چنچل، نڈر لڑکیوں کے غول نے ہمیں گھیر لیا۔ چاروں طرف ہنسی، قہقہے اور پھبتیوں کا طوفان اور بیچ میں کانپتے ہاتھوں، لرزتے جسم، زرد رنگت اور چہرے پہ اُڑتی ہوائیاں لیے ڈری سہمی لڑکیاں۔

وہ سب بیٹھ گئیں اور ہم سب لائن حاضر۔ ایک ایک کر کے پیشی ہوئی سب کی ان کے سامنے۔ لگتا تھا ملک الموت حساب لینے آیا ہے۔ جس کا بھی نمبر آتا، اس سے نام اور شہر پوچھا جاتا۔ کچھ لڑکیاں نام پہ پھبتیاں کستیں، باقیوں کے قہقہے چھت کو پھاڑتے۔ ہجوم کے بیچ کھڑی لڑکی خود کو ہونق محسوس کرتی کہ کیا کروں اب؟ پھر کچھ الٹی سیدھی فرمائش کی جاتی کہ یہ کر کے دکھاؤ؟ انکار کرنے کا تو یارا ہی نہیں تھا۔ چار و ناچار کرنا پڑتا۔

ہماری ایک دوست کو گانا سنانے کا کہا گیا اور اس رات کے بعد پانچ برسوں تک وہ جہاں سے گزرتی۔ کہیں نہ کہیں سے کوئی آواز آتی اے جذبہ دل۔ کیونکہ اس نے گانا گایا تھا۔ اے جذبہ دل گر میں چاہوں۔ ایک اور دوست کو کہا گیا کہ پیٹ نکال کر حاملہ عورت کی طرح چلو۔ اور اس کے بعد کئی مہینوں تک اس سے پوچھا جاتا رہا کہ ڈلیوری ہوئی کہ نہیں؟

ایک اور لڑکی کو اداکار ننھے کی نقل کرنے کا کہا گیا اور ایک کو جمعیت کی طرف سے چندہ جمع کرنے کا حکم دیا گیا۔ سچ پوچھیے تو کچھ لوگوں کی گت بنتی دیکھ کر ہمیں بھی ہنسی آئی مگر دل ہی دل میں۔ آخر کار ہماری باری بھی آ ہی گئی۔

کیا نام ہے؟
طاہرہ۔
ہوئے اوئے۔ طاہرہ سید آئی ہے بھئی۔ گانا سنو اس سے۔ ایک نے سیٹی بجائی اور دوسری نے مشورہ دیا۔
گانا گانا تو مجھے نہیں آتا۔ ہم نے جواب دیا۔
کیوں نہیں آتا؟ سیکھا کیوں نہیں؟
کہاں سے آئی ہو؟ مختلف آوازیں۔
پنڈی سے۔

اچھا اچھا پنڈ سے۔ اوہ بھئی پنڈ سے آئی ہے یہ۔ لاچا کیوں نہیں پہنا تم نے؟ اچھا تم پنڈ کی لڑکیوں کی طرح ناچ کر دکھاؤ۔

ناچنا تو مجھے نہیں آتا۔ ہماری ہٹ دھرمی عروج پہ تھی۔
تو تمہیں کیا آتا ہے؟
کچھ بھی نہیں۔ ہم نے کندھے اچکا کر جواب دیا۔
اوہ سنو بہنو! کچھ بھی نہیں۔ اسے کچھ بھی نہیں آتا۔ اسے داخلہ کس نے دے دیا۔ سفارشی ہو گی۔

ہم ڈھٹائی سے کھڑے دیکھتے رہے۔ سوچ لیا تھا کہ ان کی کوئی فرمائش پوری نہیں کرنی۔ باقی سب فرسٹ ائرز ہمیں آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھیں کہ ہم کیسے مقابلہ کر رہے ہیں؟

اوہ سنو۔ سنو۔ یہ طاہرہ سید نہیں، طاہرہ نقوی ہے۔ چلو کسی ڈرامے کے ڈائیلاگ سناؤ۔
ہم ڈرامہ نہیں دیکھتے۔
تم کرتی کیا ہو آخر؟
کچھ بھی نہیں۔

اب سب سوچ میں پڑ گئیں کہ ہمیں کیسے زیر کیا جائے؟ یہ دیکھ کر ہم ہنس پڑے اور کہا کہ ہم اپنی مرضی سے آپ کی تسکین کے لیے کچھ کر کے دکھا دیتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے ہم ہال کمرے کے ایک کونے سے دوسری طرف جاگنگ کرتے ہوئے دوڑے۔ بالوں کی اونچی پونی لہراتے ہوئے۔

اگلا ہفتہ یونہی گزرا۔ کبھی دوپہر میں، کبھی شام ڈھلے۔ فرسٹ ائر فول بنتے ہوئے۔ کسی نے ہنسی ہنسی میں برداشت کیا، کسی نے جھنجھلا کر، کسی نے تاؤ کھاتے ہوئے اور کسی نے چھپتے ہوئے۔

کچھ عرصے بعد ہمیں بھی یہ سب چالاکیاں آ گئیں اور ہم بھی گھاگ ہو گئے۔ اب ہم اس انتظار میں تھے کہ کب فرسٹ ائرز آئیں اور ہم ان سے گن گن کر بدلہ اتاریں۔ اب سمجھ میں آتا ہے یہ سب وقت کا چکر ہے۔ آج ہم جہاں ہوتے ہیں، کل وہاں کوئی اور ہوتا ہے، پرسوں کوئی اور۔ کھیل رکتا نہیں اور وقت ٹھہرتا نہیں بس کیلنڈر پہ ہندسے بدل جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS