نفسیاتی مسائل: خاموش بیماری، سماجی بے حسی اور ہمارا اجتماعی رویہ


نفسیاتی مسائل دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں یہ ایک ایسی ”خاموش بیماری“ ہے جسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ بہت سے لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں، مگر یا تو وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے، یا اگر تسلیم کر بھی لیں تو کسی سے شیئر کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ اس خوف سے کہ لوگ انہیں ”پاگل“ کہہ کر مسترد نہ کر دیں، وہ چپ چاپ اپنی تکلیف سہتے رہتے ہیں، پھر یہ سلسلہ خوف کے ساتھ وسوسوں سے ہوتا ہوا شدید قسم کی بے سبب پریشانیوں کو چھوتے ہوئے ڈپریشن کے آخری مرحلے تک پہنچ جاتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات موت کو ہی آخری حل سمجھنے لگتے ہیں۔

یہ بیماری ایک مخصوص طرزِ زندگی یا حالات کی پیداوار ہو سکتی ہے اور آج کل اس کے عام ہونے کی وجوہات بہت ساری ہیں مگر گھر سے لگنے والا یہ مرض باقی ذرائع سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیوں کہ گھر ہی وہ مسکن ہوتا ہے جہاں انسان سب سے زیادہ ہر حوالے سے خود کو محفوظ و مطمئن محسوس کرتا ہے لیکن اگر سلسلہ وہیں سے ہی شروع ہو تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اس کیفیت میں مبتلا متاثرہ افراد اکثر خود کو محدود کر لیتے ہیں، تنہائی اختیار کر لیتے ہیں، بات چیت سے کتراتے ہیں، سماجی تعلقات ختم کر دیتے ہیں، یا حد سے زیادہ چڑچڑے اور غصے والے بن جاتے ہیں۔ ان کا پروفیشنل اور گھریلو زندگی سے لگاؤ کم ہوتا چلا جاتا ہے، اور وہ اندر ہی اندر ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں جسے کوئی نہیں دیکھ پاتا یا شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔

ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نفسیاتی بیماریوں کو قابلِ علاج نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ جدید سائنس اور اسلامی تعلیمات دونوں اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ مگر ہمارا معاشرتی رویہ اس قدر زہر آلود ہو چکا ہے کہ لوگ علاج کروانے کے بجائے اپنی تکلیف کو چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ذہنی دباؤ، ڈپریشن یا کسی اور نفسیاتی مسئلے کا ذکر کرے تو اسے تسلی دینے کے بجائے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور یوں وہ مزید تنہائی میں چلا جاتا ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب یہی لوگ زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں تو وہی معاشرہ جو انہیں دھتکارتا رہا، ان کی موت پر آنسو بہانے لگتا ہے۔ جنازے میں شریک ہونے والے اکثر لوگ تعزیت کے دوران ان کے ”پاگل پن“ کی حرکات اور رویوں کو یاد کر کے افسوس کا اظہار کرتے ہیں، اور ان کی مغفرت کی دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر یہ دکھاوا اس وقت کسی کام کا نہیں ہوتا۔ اگر یہی ہمدردی اور توجہ زندگی میں دی جاتی تو شاید وہ شخص وقت پر مدد لے کر ایک عام انسان کی طرح اپنی زندگی گزار سکتا تھا۔

ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ نفسیاتی مسائل عام بیماریوں کی طرح ہیں اور ان کا علاج ممکن ہے۔ کسی کو ”پاگل“ کہہ کر اس کا مذاق بنانے کے بجائے، اگر ہم اسے سنجیدگی سے سنیں، اس کی مدد کریں، اور اسے یہ باور کروائیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے، تو شاید ہم کئی قیمتی جانوں کو بچا سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم خاموش بیماریوں کو مزید خاموش نہ رہنے دیں اور اپنے اردگرد موجود افراد کی مدد کے لیے قدم بڑھائیں اور آج سے ہی کوشش کریں اپنے ارد گرد رشتہ داروں میں دوستوں میں یا جہاں آپ کام کرتے ہیں وہاں اگر کسی ایسی کیفیت سے منسلک کوئی فرد ملے تو اس کو سب سے پہلے وقت دیں اس کو سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں یہ ایسی کیفیت سے نکلنے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS