جیل بیتی۔ 3

”غبارِ خاطر“ اور ”محاسنِ کلامِ غالب“ پہ کیے گئے کچھ شوخ تبصروں کے حوالے سے یاد آیا کہ ڈگر سے ہٹ کے کہی گئی بات کتنی بھی دل کو لبھانے والی کیوں نہ ہو، کم ہی سراہی جاتی ہے۔ جیسے عبدالحمید عدم کا یہ کہنا کہ غالب وہ شاعر ہیں جن کے دیوان کا پہلا ہی شعر مہمل ہے۔ اس کی جو تشریح انہوں نے خود کر رکھی ہے وہ بھی تحقیق سے کھری ثابت نہیں ہوتی۔ ایران کی تاریخ میں ایسا کوئی دور نہیں گزرا جب ملزمان کو کاغذی پیرہن میں ملبوس منصفین کے حضور پیش کیا جاتا ہو اور فیصلہ اس کاغذی لبادے پہ لکھا جاتا ہو۔
یہاں اس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ،
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
غالب عجوبہ شخصیت کے مالک تھے، ایسے مختلف کہ اپنے بارے میں اشارتاً بزبانِ ذوق یہ تک بیباکی سے کہہ دیا
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں
پطرس بخاری کہا کرتے تھے کہ دراصل انہیں یوں کہنا چاہیے تھا۔
ہم طرفدار ہیں غالب کے سخن فہم نہیں
میری یادداشت میں جو زندانی ادب تازہ ہو پایا وہ مکمل تو نہیں، بس کچھ مشہور کتب ہی کا ذکر ہو گا۔ ان میں دو کتابیں پنڈی سازش کے اسیران کی ہیں۔ زیادہ مشہور فیض اور ان کی بیگم ایلس فیض کے باہم لکھے گئے خطوط ہیں جو ”صلیبیں میرے دریچے میں“ کے عنوان سے شائع ہوئے اور اچھی پذیرائی پائی۔ انہی ایامِ اسیری پہ ظفر اللہ پوشنی نے ”زندگی زندہ دلی کا نام ہے“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ آپ پنڈی سازش کیس کی پندرہ سزا یافتہ شخصیات میں سب سے کم عمر قیدی تھے۔ تب فوج میں کپتان تھے۔ آپ نے عمرِدراز پائی اور 2021 میں 95 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان ہی کی طرح کے ایک یارِ ایامِ اسیری میجر اسحٰق کی وفات پر فیض نے کہا تھا۔
لو تم بھی گئے ہم نے یہ سمجھا تھا کہ تم نے
باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور
دورِ حاضر کے ہمارے دو مشہور سیاستدانوں کی کتابیں بھی ان کے ایامِ اسیری کا احاطہ کرتے ہوئے سامنے آئیں۔ انہیں کچھ زیادہ پذیرائی نہ مل پائی۔ ان میں یوسف رضا گیلانی کی کتاب ”چاہِ یوسف سے صدا“ اور شیخ رشید احمد کی ”فرزندِ پاکستان“ شامل ہیں۔
ایام اسیری میں سیاستدانوں کی لکھی گئی کتابوں میں اعتزاز احسن کی کتاب ”انڈس ساگا“ ایک بڑی تحقیقی کاوش ہے جس میں دلالت کے ساتھ یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ وہ علاقے جو اب پاکستان کہلاتے ہیں قدیم ادوار سے ہی بقیہ ہندوستان سے مختلف تہذیب رکھتے تھے۔ قتیل شفائی یاد آ گئے۔
میری اک پہچان رہی ہے اس پہچان سے پہلے بھی
پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
ہماری سیاست، صحافت اور شعر و ادب میں یکساں نامور شورش کاشمیری کی کتاب ”پسِ دیوارِ زنداں“ مشہور کتب میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی تحریر کچھ ایسی پر اثر ہوتی تھی کہ بھٹو صاحب نے ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ میں لکھا کہ اگر اعلیٰ نثر پارے اور مقبول تقاریر معیارِ سیاست ہوتیں تو میری نسبت شورش کاشمیری اور عطا اللہ شاہ بخاری زیادہ کامیاب اور مقبول راہنما ہوتے۔
شورش نے اپنے بارے میں ایک جگہ کیا کہا یہ بھی سن لیجیے۔
فضا میں رنگ ستاروں میں روشنی نہ رہے
ہمارے بعد یہ ممکن ہے زندگی نہ رہے
(جاری ہے )


خوب