کہانی: برکت


بڑوں نے سچ ہی کہا ہے عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی۔ یہ زہریلے جملے طلعت کی ساس بول رہی تھی۔ جن کی تمام دوائیوں اور کھانے پینے کا خرچہ طلعت اٹھاتی تھی۔ شوہر جب سے بیمار پڑا تھا تب مجبوراً اس کو گھر سے باہر نکل کر نوکری کرنی پڑی۔ کم تعلیم اور تجربہ نہ ہونے کی بنا پر اس کو ایک معمولی اسکول میں ٹیچر کی جاب ملی۔ اس سے گھر اور بیمار شوہر کے اخراجات پورا کرنا ناممکن تھا۔ اس لئے شام میں کئی بچوں کو ٹیوشن پڑھانا پڑتی۔ گھر میں کوئی دوسری عورت بھی نہیں تھی اس لئے گھر بچوں، ساس اور بیمار شوہر کے سارے کام بھی اس اکیلی کی ذمہ داری تھی۔

اتنی مشقت بھری زندگی کے باوجود تعریف تو دور ساس کے اکثر طعنے سننے پڑتے۔ جس میں سے سب سے اہم تو یہی تھا کہ چونکہ طلعت ایک عورت ہے اس لئے اس کی کمائی برکت سے خالی ہے، اس لئے گھر میں اس کمائی سے اکثر ضرورتیں پوری نہیں ہوتی، جبکہ شوہر کماتا تھا تو اس کی تھوڑی کمائی سے بھی گھر اچھا چلتا تھا۔ طلعت کا دل چاہتا کہ وہ اپنی ساس پر ایسی باتیں کرنے پر ایک تھپڑ دے مارے۔ ایک تو اس کا شوہر ایک ہنر مند آدمی تھا، دوسرا آج کے مقابلے میں مہنگائی بھی کم تھی اور بچے بھی چھوٹے تھے۔ تیسرے خود ساس بیمار نہیں تھی اس لئے شوہر کی کمائی سے خوشحالی تھی۔ مگر اب طلعت کی کم آمدنی اور بے تحاشا اخراجات نے خوشحالی کا نام و نشان مٹا دیا تھا۔ اب گاڑی بمشکل ہی گھسیٹ رہی تھی۔ لیکن طلعت خوش تھی کہ اس کی ”بے برکتی“ کمائی نے اس کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچا رکھا ہے۔

Facebook Comments HS