جیسے لہور لہور ہے، ویسے تارڑ، تارڑ ہے
راوی جو لاہور شہر کے کنارے بہتا تھا خشک ہو چلا ہے مگر معلوم ہوتا ہے وہ راوی کہیں تارڑ کی شخصیت اور اس کی تحریروں میں سمٹ آیا ہے۔ جس کے کنارے آباد ہیں، جس کا پانی شفاف ہے جو سننے دیکھنے اور پڑھنے والوں کو سیراب کیے جاتا ہے۔
جیسے لہور لہور ہے ویسے ہی تارڑ، تارڑ ہے۔
سعادت حسن منٹو کے بعد تارڑ وہ واحد لکھنے والا ہے جس کے ہاں زندگی اور تجربات کا تنوع ہے۔ تارڑ نے اتنا لکھا ہے کہ سنجیدہ ادب والے اور پاپولر ادب پڑھنے والے اپنے اپنے ذوق کا تشفی بخش سامان مہیا کر سکتے ہیں۔ میرے جیسے عاشق خال خال ہیں، میں تارڑ صاحب کا عاشق انہیں پڑھ کر نہیں بلکہ سُن کر ہوا تھا۔ ہم وہ ہیں جن کے بارے میں خدا فرماتا ہے ”اور وہ جو بغیر دیکھے ایمان لائے ہیں۔“ تین کم مشہور سفرنامے لاہور آوارگی، لاہور دیوانگی اور نیپال نگری، میری پڑھت کا حصہ رہے ہیں۔ معلوم نہیں اس دیگ کے باقی دانوں کا ذائقہ کب نصیب ہو۔
بھلا ہو جناب وقار احمد کا جو تارڑ صاحب کو ایکسپریس چینل کی اسکرین پر اُٹھا لائے۔ داستان گو اب داستان نہ سُنائے گا تو کیا کرے گا۔ تارڑ اُردو دنیا کا سب سے بڑا داستان گو ہے۔ کچھ ادیب طبعتاً خاموش ہوتے ہیں، کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صفحہ قرطاس پر قوس قزح پیدا کر سکتے ہیں مگر گفتگو میں ویسی خوبی نہیں رکھتے۔ جیسے محمد حسن عسکری، جیسے عبداللہ حسین۔ تارڑ کے ہاں دونوں خوبیاں ہیں۔ ایک تقریب میں تارڑ کے یارِ غار جناب عبد اللہ حسین نے ٹھیک ہی تو کہا تھا: بھئی میں تارڑ جیسی گفتگو نہیں کر سکتا کیونکہ تارڑ نے تے گلاں دا کھٹیا کھادا اے۔ ”
جناب سجاد اظہر نے مستنصر حسین تارڑ کے بارے میں ایک جملہ لکھا تھا: ”یہ خس و خاشاک زمانے کا واحد ہرا بھرا آدمی ہے۔“ تارڑ صاحب کی شخصیت کو اس سے بہتر جُملے میں سمویا نہیں جا سکتا۔
تارڑ صاحب آپ کو ادب کے نوبل انعام کی ضرورت نہیں، آپ اُردو دنیا کے واحد ادیب ہیں جس کے نصیب میں اتنی محبتیں جیتے جی آئی ہیں۔ ان محبتوں کے آگے ایسے تمام ایوارڈ تقاریب ہیچ ہیں۔ ماڈل ٹاؤن لاہور کے پارک میں واک کرتے، سگریٹ سُلگاتے، ایکسپریس نیوز کی سکرین پر قصے سناتا دیکھ کر ہم عجب سرشاری اور کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ آپ کو پچاسیواں جنم دن مبارک، آپ یوں ہی چہکتے اور مہکتے رہیں۔


