کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 عصمت کے دونوں مجموعوں میں ڈرامے، افسانے اور اسکیچ تینوں قسم کی چیزیں شامل ہیں۔ ان میں ڈرامے سب سے کمزور ہیں اور اس کی کئی وجوہ ہیں اول تو یہ کہ ڈرامے کی ٹیکنیک عصمت کے قابو میں نہیں آئی یا یہ کہیے کہ ابھی تک ان کو اس پر قدرت حاصل نہیں ہوئی۔ پلاٹ کو مناظر میں تقسیم کرتی ہے تو ناپ کی قینچی سے نہیں کترتیں۔ یونہی دانتوں سے چیر پھاڑ کر چیتھڑے بنا ڈالتی ہیں چنانچہ پھوسڑ جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی سین جب پھیلتا ہے تو سمٹے بغیر ہی ختم ہو جاتا ہے جیسے گاڑی دو اسٹیشنوں کے درمیان کہیں بھی رک جائے۔ خیر اس قدر نازک مزاجی سے کیا حاصل؟ کھیر نہ سہی دلیا ہی سہی پیٹ بھر جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ ڈرامے کو ڈرامہ نہ سمجھے۔ کہانی سمجھ کر پڑھیئے اور فرض کر لیجئے کہ کہانی نے ڈرامے کا لباس کسی ضرورت سے نہیں بلکہ محض تنوع کی خاطر پہن رکھا ہے۔ لیکن افسوس کہ رواداری سے بھی مشکل حل نہیں ہوتی۔ کہانی کو ڈرامے کی شکل دی جائے تو ایک جبر اپنے اوپر ضرور کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ کہ قصہ اول سے آخر تک مع اپنے نشیب وفراز کے تمام تر افراد قصہ ہی کے اقوال وافعال کے ذریعے بیان کرنا پڑتا ہے مصنف سے یہ آزادی پھر چھن جاتی ہے کہ ساتھ کرداروں کے جذبات، خیالات کو اپنی زبان سے واضح کرتا جائے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پابندی عصمت کے بس کا روگ نہیں۔ افسانہ ہو تو عصمت کو کسی انوٹ یا تیور کے واضح کرنے میں دقّت پیش نہیں آتی۔ انہیں افسانہ نویس کے اس حق سے فائدہ اُٹھانا خوب آتا ہے کہ جب چاہا کیریکٹر سے کچھ کہلوالیا۔ جب چاہا خود کچھ کہہ لیا۔ لیکن جب اپنی زبان بند ہو اور سب کھیل کیریکٹروں ہی کو کھیلنا ہو تو عصمت قاصر رہ جاتی ہے۔ اور ان مجبوریوں میں گھر کر ان کا مطلب اکثر فوت ہوجاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مکالمے بھی پھسپھسے ہوجاتے ہیں اور ان میں اس کردار پن کا نام ونشان تک نظر نہیں آتا۔ جو ان کے افسانوں کے مکالوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔ (پردے کے پیچھے میں کس قدر چستی اور پھرتیلا پن ہے) بعض اوقات تو مکالمہ کچھ ایسا بےجوڑ ہوجاتا ہے کہ یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا واقعہ کیا پیش آیا۔ چنانچہ ان کا ڈرامہ ”انتخاب“ کے واقعات پیشتر اس کے کہ سمجھ میں آسکیں بہت کچھ وضاحت کے محتاج ہیں۔ (یہ نقص ان کے افسانہ ”تاریکی“ میں بھی رہ گیا ہے) ڈرامہ نویس کو تو اجازت نہیں کہ وہ سیدھے منہ ہم سے بات کرے۔ باقی رہے کیریکٹر سو وہ آپس میں الجھی سلجھی گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ (ڈرامہ جوٹھہرا) مگر ہمارے پلے کچھ نہیں پڑنے دیتے۔ ڈرامہ نویس عدم تعاون پر مجبور ہیں اور کیریکٹروں کو تعاون کا سلیقہ نہیں۔ ان حالات میں ڈرامہ کامیاب ہو تو کیونکر؟ پھر ان ڈراموں میں (جہاں تک میری سمجھ میں آئے) عصمت کی کوشش یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ چند اشخاص نہیں چند ٹائپ پیش کریں۔ یعنی ہر شخص ایک طبقہ کا نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ مگر اس کے لئے اشخاص کا اداراک نہیں گروہ کا احساس چاہئے اور عصمت اور گروہ میں وہ انہماک نہیں جو اشخاص میں ہے تو پھر نہ معلوم انہیں یہ مصیبت کیوں مول لی؟

 علاوہ ان سب باتوں کے ان ڈراموں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں عصمت نے جس قسم کے لوگوں کا نقشہ کھینچنا چاہا ہے، ان سے وہ طبعاً گھل مل نہیں سکتیں یعنی وہ مرفہ الحال لوگ جو کہلاتے تعلیم یافتہ ہیں مگر جن کی ترکیب میں تعلیم کم اور بےیافتہ زیادہ ہوتی ہیں۔ جو خوش حالی، بےحسی، انحطاط اور اپنے رنگ وروغن کے بل پر اپنے مشاغل اور اپنی گفتگو میں بےفکراپن اور چمک پیدا کرلیتے ہیں جس کی بدولت وہ ”سمارٹ سیٹ“ کہلاتے ہیں۔ اور کم نصیب لوگ کچھ ان سے نفرت کچھ ان پر شک کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اس طبقے کی بعض حماقتوں اور خود فربیبیوں پر عصمت کو غصہ آتا ہے جس کو وہ بیان کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس کی عشرتوں پر تھوڑا سا رشک جس کو وہ خود بھی نہیں جانتیں لیکن یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس چمکیلے طبقہ کو انہوں نے دور ہی سے دیکھا ہے۔ قریب آنے کا موقع نہیں ملا کہ اس کے نقوش اور خدوخال واضح دکھائی دیتے اور اس کے خوب وزشت اور ظاہر وباطن کا وہ اچھی طرح موازنہ کرسکتیں۔ چنانچہ جب عصمت اس قسم کے کیریکٹروں یا ان کے ماحول کی تصویر کھینچتی ہیں تو نوک پلک کبھی درست نہیں ہوتی۔ چھری، کانٹے، ”ارغنوں“ (یعنی چہ؟) ٹینس، ڈرائنگ روم، ڈنر سیٹ، الم غلم اس قسم کی اصلی اور خیالی چیزیں جمع کرکے ایک کباڑ خانہ سا بنا لیتی ہیں۔ گو ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس سازو سامان سے امیرانہ ٹھاٹھ باندھا جائے اور کچھ اس یقین کے ساتھ اسباب چنتی جاتی ہیں کہ ان کی سادگی پر رشک آتا ہے۔

 کیریکٹروں کی گفتگو اور حرکتیں بھی اس قسم کی ہوتی ہیں کہ جب مصنف ہنسائے تو رونا آتا ہے اور رلائے تو ہنسی آتی ہے۔ ایک تصنع تو ان میں وہ ہے جس کا مصنف کو علم ہے لیکن ایک تصنع ان میں ایسا بھی آجاتا ہے جس سے مصنف خود بےخبر ہے، اور جو دراصل اس کے اپنے تصنع کا عکس ہے یعنی کیریکٹروں کی سطیحت کو تو بے نقاب کرنا ہی تھا اپنی سطحیت بھی ساتھ بے نقاب ہو رہی ہے۔ ایکٹروں سے پہلے کیریکٹر خود ایکٹ کرتے ہیں۔ بات بات پر اپنی زندگی میں تھیٹر کی سی سچوایشن (situation) پیدا کر لیتے ہیں اور کچھ اس طرح بنتے ہیں کہ ان کے تو خیر خود ڈرامہ نویس کے حسن مذاق پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ”سانپ“ میں عصمت نے چند ایسی عورتیں دکھانے کی کوشش کی ہے جو بزعم مصنف ”شکاری عورتیں“ ہیں یعنی وہ رنگین تریا چلتر ہے مردوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ جیسے بلّی چوہے سے کھیلتی ہے۔ لیکن ان کی تھکی ہوئی باتیں سنئے اور ان کی اکتا دینے والی خوش فعلیوں کا تماشا کیجئے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ کسی چوہے کا شکار تو یہ شاید کرلیں لیکن اس سے زیادہ کی امید بےچاریوں سے خام خیالی ہے۔ معلوم ہوتا ہے چند کم عقل چھوکریاں ہیں۔ جنہوں نے کوئی ارزاں قسم کا خوش پوش امریکن فلم دیکھ لیا ہے۔ اور گھر میں دو ایک جگہ صوفے، کرسیاں بچھا کر نقل اتارنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قیاس اس امکان کو بھی ردنہیں کرتا کہ وہ فلم خود مصنف ہی نے دیکھا ہو اور اس کی ارزانی کا احساس اس کو نہ ہوا ہو۔ ایک مکالمہ تو اس ڈرامے میں ایسا ہے کہ اپنے بےساختہ میلوڈرامیٹک اسلوب کی وجہ سے کشتِ زعفران سے کم نہیں۔ رفیعہ کی منگنی غفار سے ہو چکی ہے لیکن اب وہ اس سے نہیں ظفر سے شادی کرے گی۔ غفار کو اس سانحہٴ جانکاہ کا علم یوں ہوتا ہے:

رفیعہ۔ نہیں میں تمہاری زندگی برباد نہیں کروں گی۔

غفار۔ (جوش سے) برباد نہیں۔ تم میری زندگی آباد کرو گی۔

رفیعہ۔ نہیں، میں تمہیں نگل جاؤں گی۔ سانپ جو ٹھہری۔

غفار۔ (شدت جوش سے کانپ کر) کیسی باتیں کرتی ہو، تم مجھے نگل بھی جاؤ، تو میرے لئے عین راحت ہوگی۔

خالدہ۔ (رفیعہ کی سہیلی) مگر اب تو رفیعہ نے فیصلہ کرلیا۔

غفار۔ (چونک کر) کیا فیصلہ کرلیا؟

خالدہ۔ یہی کہ وہ تمہیں نہ نگلے گی۔

رفیعہ۔ ہاں اب تو میں ظفر کو نگلوں گی۔

(ظفر پریشان ہو کر مسکراتا ہے)

غفار۔ (سمجھ کر) تو… تمہارا یہ مطلب ہے کہ تم مجھے ٹھکرا رہی ہو!

رفیہ۔ اُونہہ۔ اب تم نے بھی غلیظ شاعری شروع کر دی۔

غفار۔ (پریشانی سے انگلیاں چٹخا کر) اور ظفر تم مجھے دھوکا دیتے رہے۔

ظفر۔ غفار، بچہ نہ بنو، یہ فتنہ تمہارے بس کا نہ تھا۔ شکر کرو کہ میرے ہی اوپر بیتی اور تم بچ گئے۔ تم دیکھنا میری وہ گت بنائے گی کہ توبہ ہی بھلی۔

غفار۔ کاش میری ہی وہ درگت بن جاتی۔

خالدہ۔ مگر غفار سوچو تو…

غفار۔ ایک عرصہ دراز سے بزرگوں نے یہ بات طے کر دی تھی۔

خالدہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ آبائی حق تو تمہارا ہے پر یہاں تو رفیعہ کا معاملہ آن پڑا ہے۔ وہ ایک ضدی ہے!

غفار۔ (اندوہ گیں ہو کر) میں ۔۔جا رہا ہوں (نہایت اداسی سے) رفیعہ! خدا کرےتم خوش رہو۔

 عصمت اس سین کو کامک سین سمجھ کر لکھتیں تو شاید ڈرامہ نویس میں ان کا نام رہ جاتا۔ لیکن افسوس کہ ان کے ہونٹوں پر مجھے مسکراہٹ نظر نہیں آئی۔ اور جب مصنف نے ہنسانے والی باتیں لکھیں اور خود سے ہنسی کی کوئی بات نظر نہ آئے تو افسوس ہوتا ہے۔کچھ ایسا ہی بے تکا پن ڈراموں کے علاوہ ان افسانوں میں بھی پایا جاتا ہے جن میں عصمت نے ان جدید نما چمکیلے لوگوں کو اپنانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے افسانوں میں نہ پلاٹ کی چولیں ہی ٹھیک بیٹھی ہیں نہ کیریکٹر کا ناک نقشہ ہی درست ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی میں سے کہانیوں کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر جوڑ لئے ہیں۔ اور پیشہ ور افسانہ نویسوں کی طرح رسمی رومان کا رنگ دے کر جھوٹ موٹ ایک بات بنا لی ہے۔ ”پنکچر“ اور ”شادی“ پڑھ کر دل پر یہی اثر ہوتا ہے اور ”میرا بچہ“ میں تو برنارڈ شا کے“‘ آرمز اینڈ دی مین“ کے پہلے سین پر کچھ اس طرح سے ہاتھ صاف کیا ہے کہ شبہ کی گنجائش نہیں۔

 یہ سیلیا اور نیلی اور ”ارغنوں“ اور پارٹیوں کی دنیا عصمت کی دنیا نہیں۔ اس میں وہ اجنبی رہتی ہیں اس کی تہہ کو وہ جب پہنچیں گی۔ تب دیکھا جائے گا۔ فی الحال تو ان کی دنیا وہی ہے جو ان کے بہتر افسانوں یعنی جوانی، ڈائن، نیرا، بھول بھلیاں ، ساس، بیمار اور تل میں پائی جاتی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جس میں عورتیں پردے کے پیچھے سے فقرے چست کرتی ہیں جس میں زینوں پر اور دیواروں کی آڑ میں آنکھ مچولی کھیلی جاتی ہے۔ جس میں نوا ڑ کی پلنگڑیوں پر پٹاریاں رکھی ہیں۔ مہترانیوں کی جوان بہوئیں کمر لچکا کر چلتی ہیں۔ اکھڑلڑکیاں گوبر بنتی پھرتی ہیں اور تلیا میں ڈبکیاں لگاتی ہیں جس میں گلگلے بچے ماں کے پیٹ سے چھپکلی کی طرح چپکے ہوئے چپڑ چپڑ منہ مارتے ہیں اس کے گردو پیش میں وہ اس بے تکلفی اور احساس ہم آہنگی کے ساتھ گھومتی پھرتی ہیں کہ اسی کا ایک جزو معلوم ہوتی ہیں چنانچہ وہ کس سہولت کے ساتھ دوہی چار خط کھینچ کر اس دنیا کو کاغذ پر لے آتی ہیں۔ عصمت کے بہترین افسانوں میں آپ کو فضا اور ماحول کے لمبے لمبے پُرتکلف ڈسکرپشن (Description) کہیں نہ ملیں گے۔ لیکن جو بات ہے وہ ایسے پتے کی ہے کہ اختصار سے تشنگی اور خلاء کی شکل پیدا نہیں ہوتی۔ ”ساس“ کے شروع کے فقرے ہیں:

 ”سورج کچھ ایسے زاویئے پر پہنچ گیا کہ معلوم ہوتا تھا چھ سات سورج ہیں جو تاک تاک کر بڑھیا کے گھر میں ہی روشنی پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ تین دفعہ کھٹولی دھوپ کے رخ سے گھسیٹی اور اے لو پھر پیروں پر دھوپ اور جو ذرا اونگھنے کی کوشش کی تو دھمادہم ٹھٹوں کی آواز چھت پر سے آئی۔ ”خدا غارت کرے پیاری بیٹیوں کو“۔ ساس نے بےحیا بہو کو کوسا جو محلے کے چھوکروں کے سنگ چھت پر آنکھ مچولی اور کبڈی اڑا رہی تھی“۔ دنیا میں ایسی بہوئیں ہوں تو کوئی کاہے کو جئے۔ اے لو دوپہر ہوئی اور لاڈو چڑھ گئیں کوٹھے پر ذرا ذرا سے چھوکرےاور چھوکریوں کا دل آپہنچا پھر کیا مجال ہے جو کوئی آنکھ جھپکا سکے“۔

 اتنے تھوڑی سے الفاظ میں اس سے زیادہ کوئی کیا رنگ بھرے گا اور رنگ بھی ایسے کہ نہ ضرورت سے زیادہ شوخ نہ ضرورت سے زیادہ مدہم۔ یہی حال ”نیرا“ میں کے ایک ٹکڑے کا ہے:

 ”چھوٹے تال سے گزر کر پلیا پر سے ہوتے ہوئے دونوں ننھے منے بیوپاری شہر کی سڑک پر چلنے لگے۔ یہ کم بخت جاڑا تو اب کے ایسا دانت پیس کر پیچھے پڑا تھا کہ نرم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ گرمی تو جیسے تیسے کٹ جاتی ہے چاہو جتنا نہاؤ، پیاؤ پر سے ٹھنڈا پانی جتنا چاہو پی لو۔ نہ کپڑے کی ضرورت نہ کچھ۔ رمو کو تو دھوتی کا بھی مرہون منت نہ ہونا پڑتا تھا۔ سیاہ سوت کا ڈورا جو اس کے کچری جیسے پیٹ پر ے پھسل کر کولہے کی ہڈیوں پر مزے سے ٹک جاتا تھا۔ ضرورت سے زیادہ تھا۔ مزے سے تلّیا میں ڈبکی لگائی، کناروں پر اکڑوں بیٹھ گئے او رلُو کے چھپاکوں سے سوکھ گئے“۔

 اور اس سے بھی مختصر یہ کہ:

 ”اندھیری سنسان راتیں جیسے تیسے کٹنے لگیں۔ بیجھڑ کی روٹیاں اور لوٹا بھر مٹھا حاصل کرنے کے لئے سارے گھر کو دن بھر تیرے میرے کھیت میں جتے جتے گزر جاتی۔ نیرا گھاس چھیل لاتی، بھینسوں کو بھی دن لگے اور دودھ چرانا شروع کر دیا۔ کون دیکھتا بھالتا۔ کانجی ہاؤس میں ہی ایک توضبط ہوگئی دوسری بیاہنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ بھینس جب بوڑھی ہوجاتی ہے تو پتہ بھی نہیں چلتا۔ نہ اس کی کمر جھکے نہ بال کھچڑی ہوں“۔

 ان اقتباسات میں پانچ پانچ چھ چھ فقرے ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ اس لئے ان کو یہاں نقل بھی کر لیا۔ ورنہ اسی قسم کے ایک ایک دو دو فقروں کے کنائے تو کئی جگہ ہیں۔

 یہ دنیا بیشتر مفلسوں اور اکھڑوں کی دنیا ہے۔ بہرحال! امیروں، نفاست پسندوں اور تراشیدہ لوگوں کی دنیا نہیں۔ اس میں فاقے ہیں غلاظتیں ہیں (اور غلاظتوں کا حال عصمت کتنی برہم ہو کر اور برہمی کے مزے لے لے کر بیان کرتی ہیں)جہالتیں ہیں، بدزبانیاں ہیں، ہاتھا پائیاں ہیں، بیماریاں ہیں، ڈھیروں بچے ہیں، لیکن پھر بھی ان میں زندگی کا ایک خط ہے جو دبائے نہیں دبتا، امنگیں اُبھرتی ہیں، جوانی اپنے کرشمے دکھاتی ہے۔ ذہن میں شرارتیں چٹکیاں لیتی ہیں اور نفس انسانی کا پہلو ان زور آزمائی کرتا ہے جن افسانوں کو میں نے بحث کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان میں آپ کو بہت بڑی بلندی یا بہت پُر معنی گہرائی نظرنہ آئے گی۔ عمیق امن، خاموش آسودگی یا مسرت عالیہ کہیں نہ ملے گی۔ نہ وہ حزن وملال ہی ملے گا جو کہر کی طرح دل پر جم جاتا ہے اس میں ٹریجیڈی کی کوشش ہے نہ کامیڈی کی۔ لیکن انسانی خون آپ کو رگوں میں دوڑتا نظر آئے گا اس طرح دوڑتا ہوا جیسے پہاڑی ندی کا پانی دوڑتا ہے۔ لبالب اور ابلتا ہوا اور ٹکراتا ہوا اور رستہ چیرتا ہوا۔

(ساقی دہلی، فروری 45ء)

جاری ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Comments are closed.