کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں (3)

اور جب اس جسم میں طوفان آتا ہے ”اور پیٹھ پر کن کھجورے رینگنے لگتے ہیں“۔ اور دل ودماغ پر اندھی کیفیتیں طاری ہو جاتی ہیں تو یہ عجیب عجیب بیر باندھ لیتا ہے لیکن جسم اپنا بدلہ جسم ہی سے لیتا ہے چنانچہ اس کشمکش کے زیر اثر حلم اور گداز اور ملائمت نہیں پیدا ہوتی۔ کیریکٹر تخیل کے ریشم میں لپٹ کر غنودہ نہیں ہو جاتے بلکہ ان میں کرخت قسم کی اکھڑ، الھٹرپن اور درشت قسم کی شرارتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو چھیڑتے ہیں، دق کرتے ہیں،کچلچا کر کھٹولیوں پر پٹخ دیتے ہیں۔ ننگے جسم پر بدھیاں ڈال دیتے ہیں۔ ہونٹوں کو چٹکیوں سے مسل دیتے ہیں۔ پیر سے پیر دباتے ہیں۔ تھپڑ رسید کرتے ہیں بال پکڑ کر جھٹکے دیتے ہیں۔ دھولیں مارتے ہیں جھاپر کس کس کر لگاتے ہیں، گھسیٹتے ہیں، چچوڑتے ہیں، یعنی دل پر کچھ ہی گزرے جسم کی گرفت کبھی ڈھیلی ہونے نہیں پاتی۔ اور یہ جذبہ شروع سے آخر تک اپنے کھردرے پن اور بدویت کی شان کو نہیں چھوڑتا۔ تو پھر عصمت کے افسانوں کا موضوع جسم ہے؟ نہیں یہ کہنا تو درست نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ افسانے بلاشبہ ادب کے دائرے میں شامل ہیں۔ اور ادب (یا کسی بھی آرٹ) کا موضوع جسم نہیں ہوسکتا۔ یعنی وہ جسم جو علم الاعضا کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ نہ جسم نہ چاند تارے نہ پھول نہ صحرا۔ آرٹ کو ذہنی کیفیات سے سروکار ہے کیونکہ آرٹ کا منصب ذہنی ارادات کا بیان اور بالآخر ان کیفیات کی تربیت ہے۔ یہ سب چیزیں تو محض محرکات ہیں۔ ان میں نہ سہی دوسری سہی۔ اس سے گزر جائیے کہ کس چیز کا نام لیا ہے۔ یہ دیکھئے کہ ذکر کیا ہو رہا ہے۔ اگر ذہنی کیفیات کا دخل نہ ہو تو مصور مصور نہیں ایک کیمرا ہے۔ ادیب ادیب نہیں نقل نویس ہے۔ اور جسم کا وقامع نگار علم الاعضا کا ماہر اورشارح تو بن سکتا ہے ادب پیدا نہیں کرسکتا۔
جو کچھ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ عصمت کی جنسی کشش کی ماہیت واضح کر دی جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے محرکات اور مظاہر کیا ہیں۔ لیکن بحیثیت آرٹسٹ کے عصمت کو پرکھنے کے لئے بالآخر یہ دیکھنا پڑے گا کہ جنسی بھوک سے پیدا ہونے والے جذبات واحساسات کو انہوں نے کس سطح پر ابھارا ہے اپنی مخلوق کو ان سی جو رنگینی بخشی ہے وہ کس رتبے کی ہے اور روح کے لیل ونہار میں ان کا کیا مقام ہے۔ ان سوالوں کا جواب میں مجملاً اوپر ایک دو جگہ دے چکا ہوں اس سے زیادہ تفصیل شاید سودمند نہ ہو ایسی باتوں کو جہاں تک ہوسکے بحث سے مخلصی دلا کر مذاق کے سپرد کر دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ جو آرٹسٹ عصمت کی طرح اپنی مخلوق کو یوں حیوانات کے کنارے تک لے جاتا ہے وہ تلوار کی دھار پر چلتا ہے۔ چنانچہ ان کے مشہور افسانہ ”لحاف“ میں، میں سمجھتا ہوں ان کا قدم آخر اکھڑ ہی گیا ان کی لغزش یہ نہیں کہ اس میں انہوں نے بعض سماجی ممنوعات کا ذکر کیا ہے سماج اور ادیب کی شریعتیں کب ایک دوسرے کے متوازی ہوئی ہیں۔ میلے کے ڈھیر سے لے کر کہکشاں تک سب ہی چیزیں احساسات کی محرک ہوسکتی ہیں اور جو چیز محرک ہوسکتی ہے وہ ادب کے املاک میں شامل ہے آپ جس زمین سے چاہیں شعر کہہ لیں۔ اس سے کیا غرض کہ زمین کون سی ہے غرض تو اس سے ہے کہ شعر کیسا ہے اس لئے اس پر معترض ہونے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے دیسی باتوں کا ذکر کیوں کیا۔ لیکن اس کہانی کی قیمت گھٹ یوں جاتی ہے کہ اس کا مرکز ثقل (یا عسکری صاحب کی اصطلاح میں اس کا ”تاکیدی نقطہ“) کوئی دل کا معاملہ نہیں۔ بلکہ ایک جسمانی حرکت ہے۔ شروع میں یہ خیال ہوتا ہے کہ بیگم جان کی نفسیات کو بے نقاب کریں گے۔ پھر امید بندھتی ہے کہ جس لڑکی کی زبانی یہ کہانی سنائی جا رہی ہے اس کے جذبات میں دلچسپی ہوگی۔ لیکن ان دونوں سے ہٹ کر کہانی آخر میں ایک اور ہی سمت اختیار کر لیتی ہے۔ اور اپنی نظریں امنڈتے ہوئے لحاف پر گاڑ دیتی ہے۔ چنانچہ پڑھنے والا بےچارہ اپنے آپ کو اس قسم کے لوگوں میں شامل پاتا ہے جو مثلاً جانوروں کے معاشقے کا تماشا کرنے کے لئے سڑک کے کنارے اکڑوں بیٹھ جاتے ہیں۔
عصمت نے کچھ تھوڑے سے اسکیچ بھی لکھے ہیں جن میں سے ایک بھی دلچسپی، دّقت نظر اور عصمت کی مخصوص کنایہ بازی سے خالی نہیں۔ لیکن پھر بھی ان میں کوئی ”دوزخی“ کے رتبے کو نہیں پہنچتا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اردو ادب میں اس اسلوب نظر کی مثال نہیں ملتی۔ جو عصمت نے اس اسکیچ میں اختیار کیا ہے۔ ان چند صفحات میں عصمت کچھ اس طرح اپنے پروں کو پھیلا کر اڑتی ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ جاتی ہیں۔ ”میں ایک بہن کی حیثیت سے نہیں عورت بن کر… میں بہن ہو کر نہیں انسان ہو کر کہتی ہوں“۔ انہیں اس عذرخواہی کی ضرورت بھی یوں پیش آئی کہ اپنی دیانت پر تو ایمان تھا پڑھنے والوں کی دیانت پر ایمان نہیں تھا لیکن چند فقروں میں وہ اپنے خلوص اور اپنی جرأت سے پڑھنے والوں کی ہمت بلند کر دیتی ہیں۔ آرٹسٹ کسی کا بھائی نہیں ہوتا۔ کسی کی بہن نہیں ہوتی۔ احساسات اور اقدار کی دنیا میں ایسے رشتے تو محض اتفاقات کا نام ہیں۔ چند لیبل جو نہ معلوم کن چیزوں پر لگے ہوئے ہیں۔ لیبل ہٹا کر دیکھئے تو نیتوں اور وہموں کا امتحان ہوگا۔ اور ذہن جلا پائے گا۔ عصمت نے کس خود اعتماد ی کے ساتھ لیبلوں کو ہٹا کر پھینک دیا ہے اور جو زندگی میں بھی لاش تھا اس کی لاش کو بھی زندہ کر دکھایا ہے۔
مضمون ختم کرنے سے پہلے دو ایک باتیں عصمت کی زبان کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کے لغوی مذاق میں بھی ہمارے لئے
ایک ہدایت ہے۔ عصمت کی انشا پر فارسی اور عربی کا اثر بہ نسبت اردو ادیبوں کے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ او ریہ بےنیازی الفاظ تک ہی محدود نہیں بلکہ ترکیبوں اور فقروں کی ساخت میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان کی تحریر بجز ایک آدھ لاحاصل سی نقالی کی انگریزی تراکیب اور انگریزی اسالیب خیال سے بھی پاک ہے۔ اس زمانہ کے اکثر انشاپردازوں کو بہ وجہ اپنی تعلیم یا ماحول کے اس سے مضر نہیں کہ ان کے کلام میں وقتاً فوقتاً انگریزی کے سر بھی سنائی دے جائیں۔ اردو میں مغربی تلمیحات روز بروز بڑھتی جاتی ہیں۔ چنانچہ عام مصنفوں میں بھی اور کچھ نہیں تو ترجمہ شدہ ترکیبوں کی گٹھلیاں تو اکثر مل جاتی ہیں۔ عصمت انگریزی کے خیر وشر دونوں سے مبرا ہیں۔ یہ تو بتانا ناممکن ہے کہ وہ کیا لطف ہے جو ان کو تحریر میں پیدا ہوجاتا اور اس پاکدامنی کی وجہ سے نہ پیدا ہوا۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کی بدولت وہ ٹھیٹھ اردو کے بہت سے ایسے الفاظ کام میں لے آئی ہیں جو آج تک پردے سے باہر نہ نکلے تھے۔ اور جن کو اب انہوں نے نئے نئے مطالب کے اظہار کے قابل بنا دیا ہے۔ گویا ادھر اردو انشا کو ایک نئی جوانی نصیب ہوئی۔ ادھر خانہ نشین الفاظ کو تازہ ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا۔ عصمت کے فقروں میں بول چال کی سی لطافت اور روانی ہے۔ اور جملوں کا زیرو بم روز مرہ کا سا پھرتیلا زیر وبم ہے۔ اس لئے ان کے فقروں کا سانس کبھی نہیں پھولتا۔ اور ان میں منیشانہ ثقالت اور تکلف نہیں آنے پاتے۔ مختصر یہ کہ الفاظ کے انتخاب اور فقروں کی ساخت ان دونوں رستوں سے وہ انشا کی زبان کو زندگی کے قریب تر لے آئی ہیں جس کے لئے ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے۔ اس نیک کام میں عصمت کے علاوہ چند اور قابل قدر اہل زبان انشا پرداز بھی شریک ہیں۔ (اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کام اہل زبان کے سوا کسی دوسرے کے لئے کچھ ایسا آسان بھی نہیں) لیکن عصمت کے احسان کا بوجھ کچھ اس وجہ سے ہلکا نہیں ہوجاتا۔
عصمت کوئی قدآور ادیب نہیں۔ اردو ادب میں جو امتیاز ان کو حاصل ہے اس سے منکر ہونا کج بینی اور بخل سے کم نہ ہوگا۔ اور یہ مضمون بذات خود اس امتیاز کا اعتراف ہے لیکن بھول نہ جانا چاہئے کہ ہمارا افسانہ ابھی سن رشد یا سنِ بلوغ کو نہیں پہنچا۔ آج کل جب کہ نظروں کو وسعت نصیب ہورہی ہے اور دنیا بھر کا ادب کتاب کی طرح ہمارے سامنے کھلا پڑا ہے۔ اردو ادب کے قدر دانوں میں یہ حوصلہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے ادب کا دنیا کے بہترین ادب سے مقابلہ کرتے رہیں۔ تاکہ تناسب کا احساس کند نہ ہونے پائے۔ مقامی تعصبات کی حقیقت واضح ہوتی رہے اور دل میں امنگ پیدا ہو۔ ہمارے ادب جدید کے پات ضرور چکنے چکنے ہیں لیکن اس میں ابھی بھی بڑے بڑے پھول نہیں لگے۔ اتنی حد بندی کرلینے کے بعد ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہ ہونا چاہئے کہ عصمت کی شخصیت اردو ادب کے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دیئے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی رستے آنکھوں سے اوجھل تھے اس کارنامہ کے لئے اردو خوانوں ہی کو نہیں بلکہ اردو کے ادیبوں کو بھی ان کا ممنون ہونا چاہئے۔
(ساقی دہلی، فروری 45ء)


