سب سے بڑا گناہ کیا ہوتا ہے؟ احترام رمضان اور ہماری ہڈ حرامیاں
مولانا طارق جمیل کا ایک کلپ نظروں سے گزرا، جس میں وہ بڑے وثوق اور مکمل روایات کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ کیا آپ جانتے ہو سب سے بڑا گناہ کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ اپنے خطیبانہ رنگ میں چاشنی کا تڑکا لگا کر مزید فرماتے ہیں کہ آپ سمجھتے ہوں گے کہ شاید جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، زنا کرنا، ناجائز حق کھانا، ہیرا پھیری کرنا یا اس کے علاوہ دیگر بڑے گناہ ہوں گے، نہیں میرے بھائیو! یاد رکھنا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ”زبان کے ذریعے سے کسی کو تکلیف پہنچائی جائے“ ۔
اگر اس معیار پر مسلمانوں کو پرکھا جائے تو سب سے پہلے تو اس اصول کی گرفت میں علمائے دین آتے ہیں جو اپنے علاوہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو کامل مسلمان نہیں سمجھتے اور دن رات منبر پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے ہیں، ماضی میں چلے جائیں تو حسام الحرمین، المہند علی المفند اور ایک دوسرے کے خلاف مناظرہ بازی اور بدگمانیوں کے ایک طویل سلسلے ہیں۔
یہ رویہ تو ان کا اپنے ہم مذہبوں کے متعلق ہے لیکن دوسرے مذاہب کے متعلق بھی کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے، عبادات و ریاضت کا مقصد تو من کی کدورتوں کو نکال باہر کرنا ہوتا ہے نا کہ ان پر اترانا، فلاں نماز نہیں پڑھتا اور فلاں روزے نہیں رکھتا وغیرہ اور اسی پیمانے پر انسانوں کو پرکھنے لگتے ہیں اور فیصلہ تک صادر کر دیتے ہیں کہ یہ لوگ گناہ گار یا غیر ہدایت یافتہ ہیں۔ انسانوں کو گناہ و ثواب کے خانوں میں بانٹنے اور اسی بنیاد پر دائرہ ایمان میں داخل یا خارج کرنے کا حکم آپ کو کس نے ودیعت کیا ہے؟ مخلوق ہیں تو مخلوق بن کر رہیں نا خالق کیوں بنتے ہو؟
رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے، اسی ماہ مبارک کے ساتھ ہم مسلمانوں کی ہڈ حرامیوں کا بھی گہرا سمبندھ ہوتا ہے، ہر ڈیپارٹمنٹ میں کام کی رفتار اس وجہ سے سست پڑنے لگتی ہے کہ جناب ہم نے تو روزہ رکھا ہوا ہے، اسی بہانے کی بنیاد پر ڈاکٹر ہسپتالوں سے، اساتذہ تعلیمی اداروں سے، ججز کچہریوں سے، وکلاء چیمبر سے کھسکنے لگتے ہیں، ہاں نجی سلسلے اس اصول سے مبرّا ہوتے ہیں۔ اساتذہ ٹیوشن سینٹر میں اور ڈاکٹرز اپنے پرائیویٹ کلینک میں بالکل ہشاش بشاش ملیں گے کیونکہ تنخواہیں تو اکاؤنٹ کا حصہ بنتی ہیں جبکہ نجی خدمات سے گھر داریاں چلتی ہیں۔
رمضان المبارک کے آغاز سے ایک دن قبل ایک نجی تعلیمی ادارے کا پیغام موصول ہوا، جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ اس مبارک ماہ میں ہم بچوں کو صرف مذہبی تربیت کا کورس پڑھائیں گے باقی مضامین عید کے بعد پڑھائیں گے، آپ بھی پڑھیے اور سر دھنیے۔
” رمضان کے ماہ تمام بچے صرف مذہبی تربیت کا کورس اور سپوکن انگلش کورس کریں گے۔ باقی مضامین عید کے بعد پڑھیں گے۔ اور 27 رمضان تک فائنل ٹیسٹ ہو گا۔ پلیز بچوں کو ان دونوں کورسز میں خوب تیاری کروائیں۔ رمضان کے پورے ماہ کسی بچے کو بھی پانی یا کھانے پینے کی کوئی چیز ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اگر کسی بچے کو کوئی مسئلہ ہو گا تو سکول میں موجود پانی دے دیا جائے گا۔ پلیز ہم مسلمان ہیں رمضان کا احترام ہم پر فرض ہے۔ شکریہ“ ۔
یاد رہے کہ اس نجی ادارے میں سات سال سے کم عمر بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ چھوٹے بچوں کا ہی سکول ہے، سوال یہ ہے کہ اس قدر سخت اصولوں سے معصوم ذہنوں میں مذہب یا خالق کے متعلق کیا تصور قائم ہو گا؟ چار، پانچ یا سات سال کی عمر تک تو بچے کو دودھ اور صحت مند خوراک کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، عمر کے اس حصے میں بچے پانی، ٹافی یا بسکٹ کی صورت میں کچھ نا کچھ مانگتے ہی رہتے ہیں، اس قدر سختی سے تربیت تو ممکن نہیں ہو سکتی ہاں مذہب یا خالق کے متعلق باغیانہ سا رویہ ضرور پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کا مذہبی تعلیم سے تو کنسرن ہی نہیں ہونا چاہیے، انہیں تو صرف وہی نصابی کام دیانتداری سے کروانا چاہیے جو ان کی ذمہ داری کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے اور اسی مقصد کے لیے والدین اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں، رہی مذہبی تعلیم و تربیت تو یہ حصہ والدین پر چھوڑ دینا چاہیے وہ جس حساب سے مرضی یا عقیدے کے مطابق تربیت کرنا چاہیں کریں۔
دنیا بھر میں دینی و دنیاوی تہوار منائے جاتے ہیں لیکن ان تہواروں کا مقصد اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے نظریں چرانا یا فرار کا راستہ اختیار کرنا نہیں ہوتا، ہم تو ثواب کے نام پر باؤلے ہی ہو جاتے ہیں، افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم مذہب کی آڑ میں اپنے فرائض منصبی سے روگردانی کرنے لگتے ہیں، ثواب کا میٹر تو آن ہو جاتا ہے لیکن فرائض سے غفلت کی قیمت تو متعلقین کو ہی چکانا پڑتی ہے۔
جناب ثواب ضرور کمائیں لیکن اپنے خرچے پر، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹیں نا کہ دوسروں کی، اپنے ثواب کے چکروں میں معصوم بچوں کے ساتھ ظلم مت کریں جو بیچارے ابھی ثواب و گناہ کی تفریق سے بھی بے نیاز ہیں۔ مذہبی انداز میں میٹھی میٹھی باتیں کرنا تو دنیا کا آسان ترین کام ہوتا ہے، امیج و شہرت اور داد خوب ملتی ہے اور لوگ باگ بھی پارسا سمجھنے لگتے ہیں لیکن جناب سب سے مشکل ترین کام اپنے حصے کا جینوئن کام کرنا ہوتا ہے جس کام کی والدین یا ریاستی ڈھانچہ آپ کو تنخواہوں کی صورت میں ادائیگی کرتا ہے۔
اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں دنیاوی تعلیم کے لیے ہوتی ہیں نا کہ مذہبی تعلیم کے لیے، مذہبی تعلیم کے لیے مذہبی ادارے کافی ہیں، ہر شخص کو اپنے حصے کا کام ہی خشوع و خضوع سے کرنا چاہیے۔


