آخر محمد رضوان کی تسبیح ہی کیوں بری لگ رہی ہے؟
”کھیل کے میدان میں لڑنے والے دو فریقوں میں فاتح ایک ہی ہوتا ہے، اور یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بہتر منصوبہ سازی، کھیل کی مہارت، جیت کا عزم اور مضبوط اعصاب ہوں۔ نہ کہ وہ جو تسبیح، وظائف کثرت سے کرتا ہو۔“ یہ وہ تنقید ہے جو پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم پر چیمپئنز ٹرافی 2025 سے پہلے مرحلے میں باہر ہو جانے کے بعد ہو رہی ہے۔ ان سے ملتے جلتے الفاظ میں یہی بات ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر کہی جا رہی ہے۔ جو کہ درست بھی ہے۔
سلیکشن کمیٹی نے جو غلطیاں کیں سو کیں، لیکن جو ٹیم سیلیکٹ ہو کر میدان میں اتری اس نے اپنا کتنے فیصد دیا؟ یہ ایک اہم سوال رہا۔ وہ شاید جماعت میں سہ روزہ، چالیس روزہ لگانے کی منت مان کر آئے تھے۔ کیوں کہ شائقین نے دبئی میں ہونے والے پاک بھارت میچ کے دوران محمد رضوان کو ڈریسنگ روم میں تسبیح ہاتھ میں لیے دیکھ لیا تھا۔ اسے لے کر توپوں کا رخ اس کی طرف موڑ دیا گیا ہے کہ یہ ٹیم کو اللہ توکل چلا رہے ہیں، ان کے پاس کوئی گیم پلان نہیں تھا۔ یہ تنقید بھی بہرحال اپنی جگہ درست ہے۔
پر کیا یہ محمد رضوان اکیلے ہیں جو تسبیح گھما کر پانسے پلٹنے کی امید رکھتے ہیں یا کوئی اور بھی ہے جسے لوگوں نے دل و دماغ میں بسایا ہوا ہے اور وہ اس کی طرف سے ہانک دی گئی بڑھک کے آگے کوئی اور بات نہیں سنتے بھلے وہ کتنی منطقی کیوں نہ ہو؟ جس نے تسبیح کلچر کو نئے سرے سے متعارف کروایا؟ جو ساڑھے تین برس اقتدار کے نشے میں ٹُن تھا اور عوام کو تسبیح دکھاتا تھا، تقریریں سناتا تھا۔ کیا اس کے پاس کوئی گیم پلان تھا کہ ملک کو کیسے چلانا ہے؟ کیا عوام نے اس سے پوچھا کہ تمہاری ٹیم کے پاس کیا مہارت ہے؟
یہاں پر عوام کا رویہ دوغلا ہے۔ اگر انہیں ملک کے لیڈر کی تسبیح پر بھروسا تھا تو کھیل کے لیڈر کی تسبیح پر اعتراض بے جا ہے۔ انہیں رضوان کی تسبیح پر تب اعتراض کرنا تھا جب وہ کسی ”اسلامک ٹچ“ والے کی تسبیح سے متاثر ہونے کے بجائے اس سے مسائل کے حقیقی حل کا سوال کر چکے ہوتے۔ یہ کہنے سے قبل کہ: ”تسبیح سے میچ نہیں جیتا جا سکتا،“ انہیں یہ اعتراف کرنا تھا کہ ”تسبیح سے ملک بھی تو نہیں چلایا جا سکتا۔“ انہیں کسی ریاست مدینہ کے ٹکٹ پر کابل کو مڑ جانے والی بس پر سوار ہی نہیں ہونا تھا۔
مجھے لگتا ہے رضوان صاحب بھی اسی غلط فہمی میں پکڑے گئے ہیں، کیوں کہ انہوں نے تو عوام کا مزاج ماپ لیا تھا کہ یہ ’شو مین‘ پر نثار ہو جانے والے لوگ ہیں۔
رضوان کو خوب معلوم ہے کہ قوم کو کیا اچھا لگتا ہے، وہ کون سی باتوں پر اعتبار کرتی ہے اور عقل و منطق سے کتنی علیک سلیک رکھتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے حقیقی آزادی دلانے والے کو معلوم ہے۔
کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستانی کسی بھی مذہبی فریب میں آ جاتے ہیں اور با آسانی آ جاتے ہیں؟
”پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں۔“ کہنے والے نے یہ کہہ دیا۔ بیرونی حقائق پر نظر نہ کی کہ اس نور میں بسیرا کرنے والے کتنی تاریکی میں رہ رہے ہیں۔ انہیں پورا انسان ہی نہیں مانا گیا، وہ ”سب ہیومن“ (ذیلی انسان) کی کیٹگری میں آتے ہیں۔ انسان تو کوئی اور ہی ہیں۔ نہ یہ دیکھا کہ آخر اس نور نے ”عروج“ کب حاصل کیا تھا؟ (میرے والد نے ایک روز قومی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زوال شروع ہو چکا ہے۔ میں نے کہا؛ ابا! زوال انہیں آتا ہے جن کے پاس عروج رہا ہو، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے زوال در زوال کی راہ پکڑ رکھی ہے۔ ”)
پوری قوم کو جو پیشین گوئیاں، روحانی اصول، تعویذ گنڈے دیے گئے اس نے قبول کر لیے اور کبھی سوال نہ اٹھایا کہ آخر یہ ثابت کس طرح ہو رہے ہیں۔
”قدرت کا نظام ہے کہ کبھی وہ جیت جاتے ہیں، کبھی ہم۔“ یہ محض ایک ثقلین مشتاق کی نفسیات نہیں تھی، یہ پوری قوم کی نفسیات ہے۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ ثقلین مشتاق ہیں۔ ہم نے ہر چیز کو ”اللہ کی چاہت، اللہ کی رضا“ پر چھوڑ رکھا ہے۔ ہم نے اس بات پر غور کرنا گوارا نہیں کیا کہ مومن اور کافر دریا میں پھینک دیے جائیں تو زندہ اسی نے بچنا ہے جس نے تیرنا سیکھا ہو۔
مختصراً یہاں سوال محض ایک محمد رضوان کی تسبیح پر نہیں اٹھنا چاہیے، باقی نامی گرامی لوگوں سے بھی ہونا چاہیے، اور اپنی اپنی زندگی میں ہر ایک کو تسبیح پر تب بھروسا کرنا چاہیے جب اس کے پاس ”گیم پلان“ ہو۔
رہی بات کھیل کے اندر مذہبی احکامات اور تعلیمات کے اظہار اور عمل کی تو یہ پر امن انداز میں ہو سکتی ہے۔ ہم ماضی میں کئی غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی دیکھ چکے ہیں جو میدان میں سینے پر صلیب بناتے تھے۔ تسبیح، ٹوپیاں، سجدے، صلیبیں۔ ایک خاص مذہب سے تعلق کا سگنیچر ظاہر کرتے ہیں۔ پر یہ سب اسی وقت اچھا لگتا ہے جب آپ فاتح ہوں، یا فائٹر ہوں، مخالف کو چیلنج کر رہے ہوں۔ نہ کہ اس وقت جب آپ ٹُلّے مار رہے ہوں۔ اس وقت آپ صرف اپنا اور اپنے مذہب کا ٹھٹھا اڑوا سکتے ہیں، اس کی تبلیغ نہیں ہو سکتی۔


محمد رضوان یا عمران خان ہی نہیں آپ سے بھی پوچھنا چائے کہ آپ اس وقت کیا سو رہے تھے جب بے نظیر نے بحیثیت وزیراعظم تسبیح استعمال کرنا شروع کی تھی۔ یکایک سر پر دوپٹہ رکھنا شروع کردیا تھا۔
بیگم صفدربھی کم نہی رہیں۔
–
کسی کی بھی تسبیحات کی حقیقت اس وقت عیاں ہوتی ہے جب آپ اسے عام زندگی میں دیکھیں۔ کیا اس وقت بھی سر پر دوپٹہ ہے اور کیا اس وقت بھی ہاتھ میں تسبیح ہے۔
میں نے تو ایسے مشہور مولوی بھی دیکھے ہیں جو ڈرائنگ روم میں مفت کی ملے تو چسکیاں لگا کر نہ پینے والوں پر پھبتیاں کس رہے ہوتے ہیں۔
–
مذہب ہر کسی کا اپنا مسئلہ ہے۔ کھلاڑی کا کھیل اس کی تسبیح سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔
انضمام کے دور میں ٹیم میں آنے کے بعد ہر کھلاڑی کے لئے داڑھی لازمی ہوچکی تھی سوائے ایک کھلاڑی کے جس کی پرفارمنس اتنی طاقت ور تھی کہ کلین شیو بھی اسکا کچھ نہ کرسکا یہ مصباح الحق تھا۔ بعد میں یا اب جو بھی ہے وہ اور بات ہے۔
–
بہرحال حالیہ سیاست دانوں اور حکمراںوں میں تسبیح بے نطیر نے شروع کی تھی۔ یہاں بات 1988 کے بعد کی ہورہی ہے۔