سنہ 1884 کی برلن کانفرنس: افریقی غلامی کا سیاہ باب


عام طور پر بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاسی نظام میں بین الاقوامی معاہدوں کی ہی بین الاقوامی تعلقات کے مضمون کی روح اور نفس مضمون کے طور پر تدریس کی جاتی ہے۔ عموماً تدریس کے دوران ان معاہدوں کو غیر سیاسی طور پر تجریدی (Abstract) انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے ان معاہدوں کے سیاسی، معاشی، تجارتی یا عسکری سیاق و سباق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان معاہدوں کے جاری کردہ اعلامیے طاقتور اور فاتح کے نقطہ نگاہ سے تشکیل دیے جاتے ہیں جس سے اکثر ان معاہدوں کے پس منظر، ان کی حقیقت اور ان کے اثرات کی درست اور مکمل تفہیم حاصل نہیں ہو پاتی۔

بین الاقوامی تعلقات کے اس عمومی تدریسی طریقے میں ان معاہدوں کو صرف قانونی یا رسمی معاہدے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ یہ معاہدے دراصل عالمی طاقتوں کے سیاسی اثر و رسوخ، تجارتی مفادات، مقبوضہ اقوام کے معاشی استحصال اور طاقتور ریاستوں کی عسکری حکمت عملیوں اور ان کے کالونیل مفادات کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان ہونے والے معاہدوں کے پیچھے ہوس ملک گیری، لوٹ مار، قبضہ گیری، اقتصادی فوائد اور عسکری و جغرافیائی حکمت عملیوں کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں ایک گہری اور مکمل تنقیدی بصیرت حاصل ہو سکے۔

مروجہ غیر سیاسی تجریدی تدریس کے طریقے کے برعکس اگر ان معاہدوں کو ان کے اصل عالمی سیاسی اور اقتصادی سیاق و سباق میں رکھا جائے تو حقیقت پسندانہ انداز میں ان کی پیچیدگیوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔

عام طور پر ان بین الاقوامی معاہدوں کو عالمی اور علاقائی سطح پر نئے انتظام کی تشکیل، نئی قوانین سازی اور دیگر امور کی ترتیب و تدوین کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ معاہدے بڑی طاقتوں کی کشمکش، آپسی لڑائیوں، قبضہ گیری کے لیے کی جانے والی جنگوں، وسائل کی لوٹ مار، معدنیات کی بندر بانٹ سمیت زمینوں، سمندروں اور دریاؤں کی ملکیت کے حصول کو ریگولیٹ کرنے، Formalize کرنے اور لیگل فریم ورک میں لانے کا نام ہے۔ یہ معاہدے عالمی طاقتوں کی بربریت، تشدد، جنگوں، لوگوں کو غلام بنائے جانے اور قتل عام کو ادارہ جاتی (Institutionalized) کر دیتے ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں کے تناظر میں اگر ہم ”برلن کانفرنس۔ 1884“ کو دیکھیں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ اس کانفرنس کے نام سے افریقہ اور افریقی عوام پر کیا جانے والا ظلم 1884 میں اس وقت شروع ہوا جب پرتگال کی فرمائش پر یورپی طاقتوں نے بسمارک کی قیادت اور میزبانی میں برلن میں ملاقات کی جسے برلن کانفرنس کا ایک خوبصورت اور خوشنما نام دیا گیا۔ کیونکہ پرتگال خود سے ہزاروں میل دور کانگو میں ہزاروں سال سے رہنے والے امبوتی، باکا اور باتوا قبائل کی ملکیت دریائے کانگو کے بیسن پر قبضے کا دعویدار تھا۔ ظلم و بربریت اور افریقی غلامی کی یہ کانفرنس 15 نومبر 1884 سے لے کر 26 فروری 1885 تک برلن میں جاری رہی۔

برلن کانفرنس میں 14 ممالک کے نمائندے اور سفارتکار شریک ہوئے۔ ان میں سے چار ممالک فرانس، جرمنی، برطانیہ، اور پرتگال پہلے سے ہی افریقہ کے زیادہ تر علاقوں پر قابض تھے اس لیے وہ سفارتی زبان میں اہم فریق (ناجائز قبضہ گیر) تھے۔

بیلجیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم نے بھی اپنے نمائندے بھیجے تاکہ ”انٹرنیشنل کانگو سوسائٹی“ کی منظوری حاصل کی جا سکے جو ایک ایسی تنظیم تھی جس کا مقصد کانگو بیسن پر اس کی ذاتی حکمرانی قائم کرنا تھا۔ تین ماہ کی گفت و شنید کے بعد یورپی کا لونائزرز نے 38 دفعات پر مشتمل غلامی کے نئے قوانین یعنی جنرل ایکٹ پر دستخط کیے اور اس کی توثیق کی۔ جس نے افریقہ کی کالونائزیشن اور مختلف یورپی طاقتوں کے درمیان افریقہ کی تقسیم کو قانونی حیثیت دی اور اس کا حتمی فیصلہ کیا۔

یورپی قبضہ گیروں نے افریقہ کے لیے نئی کالونیوں کا ایک پیچیدہ نقشہ تیار کیا جو موجودہ مقامی قوموں پر فوقیت رکھتی تھی۔ تاہم افریقہ میں آج کالونیل دور کی جو سرحدیں تسلیم کی جاتی ہیں وہ برلن کانفرنس کے بعد دوطرفہ مذاکرات اور پہلی عالمی جنگ ( 1914۔ 1918 ) کے بعد حتمی شکل میں آئیں جب سلطنت عثمانیہ اور جرمن سلطنتیں ختم ہو گئیں اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کا خاتمہ ہوا۔

اس کے علاوہ، برلن کانفرنس کے جنرل ایکٹ نے دریائے کانگو اور دریائے نائیجر کے بیسنز پر آزاد تجارت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا۔ اس نے بیلجیم کے بادشاہ لیوپولڈ کی ”انٹرنیشنل کانگو سوسائٹی“ کو بھی تسلیم کیا۔ یعنی وہ علاقے جو آخرکار لیوپولڈ کے زیر قبضہ آئے جنہیں ”کانگو فری اسٹیٹ“ کے نام سے جانا جاتا ہے نو آبادیاتی دور کی بدترین بربریت کا شکار ہوئے جہاں لاکھوں افراد کو ربڑ کے کھیتوں میں موت کی سزائیں دی گئی اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے۔

افریقی علاقوں پر ”یورپی قبضہ گیر کانفرنس“ اور اس کے بعد ہونے والے کئی دوطرفہ مذاکرات کے نتیجے میں افریقہ کی تقسیم کچھ اس طرح عمل میں لائی گئی۔

فرانس کے زیر قبضہ علاقے : سینیگال، مالی، برکینا فاسو، موریطانیہ، گبن، کانگو جمہوریہ، چاڈ، وسطی افریقی جمہوریہ، جبوتی، گنی، کوٹ ڈی آئیور، بینن، نائیجر، تیونس، الجزائر، مراکش۔

برطانیہ کے زیر قبضہ علاقے : ساؤتھ افریقہ، زمبابوے، بوٹسوانا، کینیا، زمبیا، ملاوی، نائجیریا، گھانا، سوڈان، مصر، صومالی لینڈ۔

پرتگال کے زیر قبضہ علاقے : موزمبیق، انگولا، گنی بساؤ، کیپ و ردے

جرمنی کے زیر قبضہ علاقے : نمیبیا، تنزانیہ، روانڈا، برونڈی، کیمرون، ٹوگولینڈ (ٹوگو)

بیلجیم کے زیر قبضہ علاقے : کانگو فری اسٹیٹ /جمہوریہ کانگو

اٹلی کے زیر قبضہ علاقے : صومالیہ، اریٹیریا، لیبیا۔

سپین کے زیر قبضہ علاقے : گنی (ریو مونی) ، مغربی صحارا

(اس کے علاوہ سیوٹا (Ceuta) اور میلیلا (Melilla) اسپین کے دو خود مختار شہر ہیں جو شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع ہیں۔ یہ علاقے جغرافیائی طور پر افریقہ میں ہیں لیکن آج بھی اسپین کے زیر کنٹرول ہیں۔ دونوں شہر افریقہ کی حدود میں ہونے کے باوجود اسپین کے زیر قبضہ ہیں، آج بھی اسپین کے خود مختار سرحدی علاقے کے طور پر جانے جاتے ہیں )

برلن کانفرنس افریقی علاقوں پر یورپی ملکیت کا نقطہ آغاز تھی۔ اس کانفرنس کے بعد ہونے والے کئی دوطرفہ معاہدات کے نتیجے میں افریقہ کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ لائبیریا وہ واحد ملک تھا جو تقسیم نہیں ہوا تھا کیونکہ اس نے امریکہ سے آزادی حاصل کی تھی۔ ایتھوپیا کو اٹلی نے عارضی طور پر فتح کیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمن اور عثمانی سلطنتوں کے زوال کے ساتھ افریقہ کا وہ نقشہ ابھرا جو آج کے افریقہ سے قریب تر تھا۔ افریقہ، افریقی عوام، ان کی ثقافت، تہذیب اور زبانوں کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے انہیں مختلف نو آبادیاتی مقبوضہ جات میں تقسیم کیا گیا۔ افریقہ کے وسائل لوٹے گئے، افریقی ثقافت کو ملیا میٹ کیا گیا۔ نو آبادیاتی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو کچل دیا گیا۔ اس تقسیم کا مقصد یورپی طاقتوں کے تجارتی، اقتصادی اور سیاسی مفادات کی تکمیل تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افریقی ممالک کی سرحدوں کو یورپ کی مرضی کے مطابق مرتب کیا گیا۔ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ ان مصنوعی نو آبادیاتی سرحدوں میں رہنے والی مختلف قوموں، زبانوں اور ثقافتوں کا آپس میں کیا تعلق تھا۔ اس عمل نے افریقہ میں سیاسی اور سماجی انتشار پیدا کیا۔ جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ افریقہ کے مختلف ممالک میں نسلی، لسانی، قبائلی تصادم اور جنگوں کی سب سے بڑی وجہ نو آبادیاتی دور میں کیے جانے والے اقدامات ہیں۔ نو آبادیاتی طاقتوں کی جانب سے زبردستی مصنوعی سرحدوں کی تشکیل نے مختلف افریقی نسلی گروپوں کو نہ صرف تقسیم کیا بلکہ مختلف گروپوں کو ایک ساتھ رہنے پر مجبور کیا۔ جس کے نتیجے میں آزادی کے بعد بھی ان کے درمیان تنازعات اور کشیدگیوں کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ نو آبادیاتی طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحت پورے افریقہ کے سوشل آرڈر کو تہہ و بالا کیا۔ نو آبادیاتی حکمرانی نے ان خطوں کی معیشت، سماجی ڈھانچے اور سیاسی نظاموں پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔ پوسٹ کالونیل ممالک اکثر داخلی تنازعات، معاشی مشکلات، اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں۔

نو آبادیاتی قبضے نے افریقہ کے مستقبل کو اس طرح سے متعین کیا جو آج کے افریقہ پر گہرے جیو پولیٹیکل اثرات مرتب کرتا ہے۔ نو آبادیات کی وجہ سے افریقہ سیاسی ٹکڑوں میں بٹا ہوا، تقسیم در تقسیم ورثہ کا حامل ایک خطہ بن چکا تھا جسے نہ تو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا تھا اور نہ ہی اسے تسلی بخش طریقے سے چلایا جا سکتا تھا۔ نو آبادیاتی پالیسیوں اور تقسیم کے اثرات اتنے گہرے تھے کے آزادی کے بعد افریقہ بھر میں خانہ جنگیاں پھوٹ پڑیں اور کئی مقامات پر فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔ دنیا کے جن خطوں پر نو آبادیاتی طاقتوں نے قبضہ کیا اور وہاں جس طرح کا نو آبادیاتی انتظامی، سیاسی، معاشی، تعلیمی اور قانونی ڈھانچہ مرتب کیا آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ان خطوں میں نو آبادیاتی ورثہ کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ نو آبادیاتی نظام کے گہرے سائے آج تک ان ممالک کا پیچھا کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS