ستھرا پنجاب یا خوشحال پنجاب؟


حالیہ دنوں پنجاب حکومت نے ”ستھرا پنجاب“ کے نام سے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت نہ صرف شہروں بلکہ دیہات میں بھی صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک اچھی کاوش ہے کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا دیہات میں بسنے والے کسانوں کے لیے صفائی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟

آج پنجاب کا کسان شدید مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی، فصلوں کی کم قیمت، زرعی مداخل (کھاد، بیج، زرعی ادویات) کی بڑھتی ہوئی لاگت، اور حکومت کی عدم توجہی نے کسان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ دن رات محنت کے باوجود نقصان اٹھا رہا ہے اور زراعت سے منہ موڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

کسان کی حالتِ زار۔ زراعت کی تباہی

ماضی میں پاکستان ایک زرعی ملک کہلاتا تھا، جہاں گندم، چاول، کپاس، گنا اور دیگر اجناس وافر مقدار میں پیدا ہوتے تھے۔ مگر آج یہ حال ہے کہ ہم کپاس، گندم، دالیں، چینی اور دیگر زرعی اشیاء بیرون ملک سے منگوا رہے ہیں۔ زرعی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ سے قیمتی زرمبادلہ ضائع ہو رہا ہے، جو کہ ہم اپنے کسانوں کی خوشحالی کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔

کپاس، جو کبھی پاکستان کی پہچان تھی، آج بیرون ملک سے منگوائی جا رہی ہے کیونکہ ہمارے کسان کو اس کی پیداوار کا جائز معاوضہ نہیں ملتا۔ چاول اور گندم کے کاشتکار مہنگی کھاد اور بیج خرید کر بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔ گنے کے کسان کو اس کی فصل کی قیمت وقت پر نہیں ملتی، جس کی وجہ سے وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

کیا صفائی کسان کی پہلی ترجیح ہے؟

دیہات میں صفائی کی بہتری ایک اچھا اقدام ہے، لیکن کیا ایک بھوکا، پریشان حال کسان صفائی کی طرف دھیان دے سکتا ہے؟ اگر ایک شخص کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لالے پڑے ہوں، اس کے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہ ملے، وہ مہنگی تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے محروم ہو، تو اس کے لیے صفائی کتنی اہمیت رکھے گی؟

کسان کو سب سے پہلے یہ یقین چاہیے کہ اگر وہ محنت کرے گا، تو اس کا معاوضہ اسے بروقت اور مناسب ملے گا۔ جب کسان خوشحال ہو گا، تب ہی وہ صفائی اور دیگر سہولیات کی طرف توجہ دے سکے گا۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھوک اور غربت کا شکار ہو گا تو حکومت کے صفائی کے منصوبے اس کے لیے کسی کام کے نہیں ہوں گے۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

حکومت اگر واقعی پنجاب کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنانا چاہتی ہے تو اسے کسان کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی ہوگی:

کسان کی محنت کا صلہ اسے ملنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اجناس کے نرخ ایسے مقرر کرے جو کسان کے اخراجات اور منافع کو مدنظر رکھیں۔

کھاد، بیج، زرعی ادویات اور مشینری پر سبسڈی دی جائے تاکہ کسان اپنی پیداوار بڑھا سکے۔

ہمیں بیرون ملک سے زرعی اجناس درآمد کرنے کے بجائے اپنے کسان کو سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ وہ زیادہ پیداوار دے سکے اور ملک کو خودکفیل بنائے۔

نہری پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور ٹیوب ویل کے لیے بجلی کے نرخ کم کیے جائیں تاکہ کسان آسانی سے اپنی زمین سیراب کر سکے۔

جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ذریعے کسان کو زیادہ پیداوار کے طریقے سکھائے جائیں، تاکہ وہ عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کر سکے۔

دیہات میں معیاری تعلیمی ادارے اور اسپتال بنائے جائیں تاکہ کسان کی اگلی نسل بھی ترقی کر سکے۔

پنجاب کو حقیقی معنوں میں ”ستھرا“ بنانے کے لیے سب سے پہلے اسے ”خوشحال“ بنانا ہو گا۔ جب کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے گا، جب اسے جدید زراعت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جب وہ اپنی زمین پر کام کر کے مطمئن ہو گا، تب ہی وہ اپنی زندگی کے دیگر پہلوؤں جیسے صفائی، ماحولیات اور ترقی پر توجہ دے سکے گا۔

اگر حکومت واقعی پنجاب کو بہتر بنانا چاہتی ہے، تو اسے نمائشی منصوبوں کے بجائے زراعت کی ترقی پر فوکس کرنا ہو گا۔ جب کسان خوشحال ہو گا تو پورا پنجاب خوشحال ہو گا، اور پھر یہ خود بخود ”ستھرا پنجاب“ بھی بن جائے گا!

Facebook Comments HS