زندگی جہد مسلسل: حصہ سوئم


منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل
خیرات میں تو چاند ستارے نہیں ملتے

آج اپنی سالگرہ پر اپنی زندگی کے حالات و واقعات پر جو سلسلے وار کالم لکھنے کا آغازکیا تھا اس کا حصہ سوئم لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنی سالگرہ کے دن کو خوشی کے طور پر مناؤں کہ اس دن دنیا میں میری آمد ہوئی یا اس دن کو سوگ کے طور پر منایا جائے کہ میری زندگی کے شجر سے ایک پتہ مزید کم ہو گیا اب بس میری ایک ہی دعا ہے ”یا اللّٰہ جو سال میرے بیت گئے ان میں جو غلطیاں، کوتاہیاں ہوئیں انہیں معاف فرما اور آئندہ برائیوں اور گناہوں سے محفوظ فرما اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما اور اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار فرما اور جو نعمتیں، رحمتیں اور برکتیں ہمارے پر نازل ہوئیں ان کا شکر ادا کرنے والا بنا اور ان میں اضافہ فرما آمین یا رب العالمین“ ۔

الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے زندگی کی 46 ویں سالگرہ مناتے ہوئے کالم لکھنے کا سوچا تو پروگرام یہی تھا کہ مختصر لکھا جائے لیکن پتہ نہیں کیوں اس بار دل کے کسی گوشہ سے یہ آواز آ رہی تھی کہ یہ لازماً میرا آخری کالم ہے، میری آخری تحریر ہے پتہ نہیں 47 واں یوم پیدائش نصیب ہو یا نہ ہو اس لیے مجھے اپنی زندگی کی تمام کہانی قلم بند کرنی چاہیے۔ بس یہی سوچ کر اپنی یادداشتیں لکھنا شروع کیں۔ میں مقامی و ملکی بہت سے تاریخی واقعات کا عینی شاہد بھی رہا ہوں اگر زندگی رہی تو انشاءاللہ اس سلسلے وار کالم ”زندگی جہد مسلسل“ میں تمام حالات و واقعات شیئر کروں گا۔

الحمدللہ 46 سالہ عمر میں پاک پرودگار نے جس قدر اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ محبت کرنے والے رشتے اور خلوص سے لبریز دوستوں نے زندگی کے ہر لمحے کو خوشگوار بنایا ہے اور کٹھن حالات میں بھی یہ سب میرے دست و باز و بنے رہے۔ اپنی 46 ویں سالگرہ پر میں اپنے ان تمام دوستوں اور خیرخواہوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اپنی نیک تمناؤں سے نوازا۔ عزیز ساتھیوں کی یہ دعائیں میرے لیے کسی سرمائے سے کم نہیں ہیں۔

میرے مطابق میں ‏جیسا ہوں، جیسا بنا دیا گیا ہوں، اب اس سٹیج پر، خود کو بدل نہیں سکتا۔ رویوں اور لہجوں نے شاید، مجھے بہت بدل دیا، اب مزید بدلاؤ مشکل ہے۔ ویسے بھی ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد انسان سب کچھ چھوڑ دیتا ہے، شکایت کرنا، التجا کرنا، ناراض ہونا، روٹھے ہوئے کو راضی کرنا، اور پھر دل ایسا ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی بات کرے تو ٹھیک اگر نہ کرے تو بھی ٹھیک۔ کیونکہ انسان تب تک سب کچھ سمجھ جاتا ہے کہ دنیا جھوٹی، مطلبی اور بے معانی ہے۔

مجھے آج تک پتہ نہیں میری یہ عادت اچھی ہے یا بُری کہ کوئی میرے ساتھ کتنا ہی بُرا کیوں نہ کر لے میری ناراضگی بس کُچھ وقتی سی ہی ہوتی ہے، بس اگلے ہی لمحہ میں اس بندے سے پیار سے بات کرنے کے لئے بے تاب ہوتا ہوں اور میں بُھول جاتا ہوں کہ اُس نے میرے ساتھ کیا کِیا تھا۔

میری زندگی کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے پیار کو نہ پا سکا۔ لیکن سب سے حسین بات یہ ہے کہ جب تک میں اس کا ذکر نہ کرو میری زندگی کی کہانی مکمل نہی ہوتی کیونکہ محبت محض ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک ہی سمت میں دیکھنے کا نام ہے، جہاں دیکھا، بس وہیں دیکھا۔ جسے چاہا، بس اسی کو چاہا۔ جسے سوچا، بس اسی کو سوچا۔ جس سے محبت کی، بس اسی سے محبت کی۔ سمتیں بدلنے والے راہیں بدلنے والے جزیرے بدلنے والے جگہ جگہ پڑاؤ ڈالنے والے محبت کے رموز بھلا کیسے سمجھ سکتے ہیں؟

محبت ابدیت کا علم ہے۔ یہ وقت کے ہر احساس کو غلط ملط کر دیتا ہے آغاز کی ہر یاد مٹا ڈالتا ہے۔ اور انجام کے ہر خوف کو ختم کر دیتا ہے۔ الحمدللہ نہ میں نے آج تک اپنی محبت کو روگ بنایا اور نہ ہی اس کا تماشا بنایا۔ بس دل میں اسے ہمیشہ زندہ رکھا ہے۔ کیونکہ میرا اور اس کا کچھ ایسا قصہ ہے۔ وہ میری زندگی کا بے حد خوبصورت حصہ ہے۔

مختصر یہ کہ میں اپنی محبت کو
جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں
نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے
نہ خال و خد کا جمال اس میں نہ زندگی کا کمال کوئی
جو کوئی اس میں ہنر بھی ہو گا
تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے
نہ جانے پھر کیوں
میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصور میں اڑ رہا ہوں
خیال میں خواب و خلوت ذات و جلوت بزم میں شب و روز
مرا لہو اپنی گردشوں میں اسی کی تسبیح پڑھ رہا ہے
جو میری چاہت سے بے خبر ہے
کبھی کبھی وہ نظر چرا کر قریب سے میرے یوں بھی گزری
کہ جیسے وہ با خبر ہے
میری محبتوں سے
دل و نظر کی حکایتیں سن رکھی ہیں اس نے
مری ہی صورت
وہ وقت کے دائروں سے باہر کسی تصور میں اڑ رہی ہے
خیال میں خواب و خلوت ذات و جلوت بزم میں شب و روز
وہ جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتی ہے
مگر نہیں جانتی یہ وہ بھی
کہ ایسا کیوں ہے
میں سوچتا ہوں وہ سوچتی ہے
کبھی ملے ہم تو آئینوں کے تمام باطن عیاں کریں گے
حقیقتوں کا سفر کریں گے

یہ حقیقت ہے کہ الحمدللہ میں نے زندگی میں کسی سے جلنا نہیں سیکھا۔ بلکہ اپنا الگ راستہ چنا اور محنت و مشقت کو اپنا شعار بنایا۔

میری اپنی ذاتی زندگی کا سب سے بہترین اصول۔ کوئی بھی انسان یا رشتہ، دوستی تعلق، اپ پہ کسی بھی معاملے میں بدگمان ہو تو بس، ایک بار وضاحت کر دیں، اگلی بار پھر بدگمانی / شکایت / سوال جواب ہوتو سکون سے گہری سانس لیں، نرمی سے جواب دیں ”اللہ حافظ، اپنا خیال رکھیں“ اور خاموشی اختیار کر لیں۔ ختم تعلق، ختم رشتہ، ختم احساس کرنا۔ زندگی آسان اور سکون۔ تکلیف دینے والے لوگوں اور رشتوں سے جلد از جلد دامن چھڑا لیں اور آگے بڑھ جائیں۔ اللہ کی بنائی دنیا بہت وسیع ہے، وہ رحیم ہے اور رحم کو پسند کرتا ہے اور ظلم کو یقیناً ناگوار چیزوں میں شامل رکھتا ہے۔ اس لیے ناخود پہ ظلم کریں نا کسی کو کرنے دیں۔

میں بچپن سے ہی اللہ کی رضا پر راضی رہا ہوں اور اس بات پر پختہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے اگر مجھے اپنا پہلا پیار نہ مل سکا تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے صابر و شاکر بیوی دے دی جس کے بہترین تعاون اور اخلاق کی بدولت الحمدللہ ہماری ازدواجی زندگی بہت پرسکون اور آئیڈیل ہے میری شریک حیات ہی میری دکھ سکھ کی ساتھی اور میری بہترین دوست ہے اور وہ بالکل مشرقی عورتوں کی طرح مجھ سے شدید محبت کرتی ہے اور اکثر مجھ سے اس طرح مخاطب ہوتی ہے

تجھے اس قدر ہیں شکایتیں
کبھی سُن لے میری حکایتیں
تُجھے گر نہ کوئی ملال ہو
میں بھی ایک تُجھ سے گلہ کروں
نہیں اور کُچھ بھی جواب اب
میرے پاس تیرے سوال کا
تُو کرے گا کیسے یقیں میرا
مُجھے تو بتا دے میں کیا کروں
یہ جو بھولنے کا سوال ہے
میری جان یہ بھی کمال ہے
تُو نمازِ عشق ہے جانِ جاں
تُجھے رات و دن میں ادا کروں
تیرا پیار تیری محبتیں
میری زندگی کی عبادتیں
جو ہو جسم و جاں میں رواں دواں
اُسے کیسے خود سے جُدا کروں
تُو ہے دل میں، تُو ہی نظر میں ہے
تُو ہے شام تُو ہی سحر میں ہے
جو نجات چاہوں حیات سے
تُجھے بھولنے کی دعا کروں

آئیں آج آپ میرے ساتھ عہد کریں کہ آپ بھی میری طرح تنہائی میں بیٹھ کر خود سے سوال کریں گے کہ آپ کے مرنے کے بعد کتنے لوگوں کی زندگیوں کو فرق پڑے گا؟

جو بھی جواب آئے بس آپ میری طرح عزم کر لیں کہ آج کے بعد ہمارے مرنے سے جن لوگوں کو فرق پڑے گا ان کا خیال رکھیں اور کوشش کریں ان کے لیے ہمارے بعد آسانیاں ہوں اور جو ہماری فکر نہیں کرتے ہم بھی آج کے بعد ان کی فکر کرنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ مجھے تو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ زندگی جتنی تیزی سے گزر رہی ہے، ذمہ داریاں اتنی زیادہ بڑھتی جا رہی ہیں اور جسمانی طاقت بڑھاپے کی طرف گامزن ہے۔ ایسے میں بس ایک سہارا رب العزت کا ہے۔ جس کی طرف جانا ہے۔ وہاں کی سوچ آتی ہے تو نیک عمل سے وجود خالی نظر آتا ہے۔

بس پھر دل سے دعا نکلتی ہے کہ یا اللہ معاف کر دینا، بخش دینا اور اپنے فضل سے نوازنا آمین یا رب العالمین۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS