اسلام آباد کی مارگلہ ہلز کا مالک کون ہے؟
اسلام آباد کی مارگلہ ہلز کا مالک کون ہے؟
مارگلہ ہلز نیشنل پارک (MHNP) ایک نقشے پر بے ترتیبی سے پھیلا دارالحکومت سے منسلک وہ علاقہ ہے جو 17,386 ہیکٹر پر محیط ہے اور چھتر سے سنگجانی تک پھیلا ہوا ہے اور ٹلہ چروانی کی 1604 میٹر بلند چوٹی سے راول جھیل کے گردونواح میں موجود بستیوں تک اترتا ہے۔ یہ پارک ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے اور 1980 میں پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا نیشنل پارک قرار دیا گیا تھا۔ یہ پہاڑی سلسلہ، جو اسلام آباد کے محافظ فرشتوں کی طرح کھڑا ہے، 40 سے 50 ملین سال پہلے اس وقت وجود میں آیا جب برصغیر ایشیا سے ٹکرایا اور ہمالیہ کے پہاڑ بلند ہوئے۔
یہی زمین اب ایک اور قسم کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ علاقائی، بیوروکریٹک اور تجارتی مفادات ماحولیاتی خدشات کے ساتھ ٹکرا رہے ہیں، اور بنیادی سوال یہ ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا اصل مالک کون ہے اور اس پر کس کا اختیار ہونا چاہیے؟ شاید فلسفیانہ سطح پر، مشہور انگریزی شاعر ولیم ورڈزورتھ نے لیک ڈسٹرکٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایسے ہی کسی سوال کا ایک نہایت عمدہ جواب دے دیا تھا: ”(یہ ایک قسم کی قومی ملکیت ہے ) جس میں ہر اس شخص کا حق اور دلچسپی ہے جس کی آنکھ دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور جس کا دل قدرت سے لطف اندوز ہونے کا ہنر جانتا ہے۔“
نیشنل پارک وہ علاقہ ہوتا ہے جو قدرتی، تاریخی یا ثقافتی اہمیت کے باعث تحفظ کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا قدرتی، نیم قدرتی یا ترقی یافتہ علاقہ ہوتا ہے جو حکومت کی ملکیت میں ہوتا ہے اور عوام کے لیے عام طور پر قابلِ رسائی ہوتا ہے۔ 1969 میں IUCN نے ایک نیشنل پارک کو ایسے علاقے کے طور پر بیان کیا تھا جہاں ماحولیاتی نظام کو انسانی استحصال اور قبضے سے ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچا ہو، اور جہاں پودوں اور جانوروں کی نایاب اقسام، ارضیاتی مقامات، سائنسی، تعلیمی یا تفریحی دلچسپی کے حامل قدرتی پہلو محفوظ کیے گئے ہوں۔ IUCN کے مطابق، جب کسی علاقے کو نیشنل پارک قرار دے دیا جائے تو ملک کے اعلیٰ ترین مجاز ادارے کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد کسی بھی استحصال یا قبضے کو روکنے کے اقدامات کرے، اور ان ان پہلوؤں کا احترام موثر طریقے سے نافذ کرے جن کی بنا پر اس علاقے کو محفوظ قرار دیا گیا تھا۔
آج جب دنیا کا صرف 14.8 فیصد حصہ انسانی منفی اثرات سے محفوظ ہے، تو ایسے نیشنل پارکس کا تحفظ پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ جب قدرتی وسائل کا بے دریغ استحصال پوری دنیا میں تباہی مچا رہا ہے، تو یہ نیشنل پارکس جنگلی حیات کے لیے بہترین محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں فضائی، آبی، صوتی اور روشنی کی آلودگی کے اثرات کو کم سے کم کرنا انتہائی ضروری ہے۔
پاکستان میں کل 37 نیشنل پارکس ہیں، جن میں سب سے قدیم نیشنل پارک ”لال سوہانرا“ (بہاولپور) ہے، جبکہ سب سے بڑا نیشنل پارک ”سنٹرل قراقرم“ (گلگت بلتستان) ہے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو اپریل 1980 میں اسلام آباد وائلڈ لائف (تحفظ، بحالی، حفاظت اور انتظام) آرڈیننس 1979 کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ حالیہ تنازع اس وقت ابھر کر سامنے آیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پارک کے اندر واقع مشہور ریسٹورنٹس، مونال اور لا مونٹانا، اور نیول گالف کورس کو مسمار کرنے کا حکم دیا۔
اس فیصلے کے بعد مختلف مفاداتی گروہ نیشنل پارک کی ملکیت کے بارے میں اپنے اپنے موقف کے ساتھ سامنے آئے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کا دعویٰ تھا کہ پارک اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جبکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے تحت نوٹیفائی شدہ اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ (IWMB) نے خود کو پارک کا اصل نگہبان قرار دیا۔ فوجی حکام نے بھی کچھ علاقوں پر اپنا حق جتایا، جو پرانے ریونیو ریکارڈ میں ”ملٹری گراس فارمز“ کے طور پر درج تھے۔ مزید برآں، 30 سے زائد دیہات بھی اس پارک کا حصہ ہیں۔
2021 میں جب سی ڈی اے نے مونال ریسٹورنٹ کو معاہدہ ختم ہونے کے بعد جگہ خالی کرنے کا کہا تو ریسٹورنٹ نے عدالت سے رجوع کیا اور سپریم کورٹ سے عارضی ریلیف حاصل کر لیا۔ اسی دوران، IWMB نے سی ڈی اے کے خلاف اپنی شکایت درج کرائی۔ عدالت کے فیصلے میں IWMB کو کامیابی ملی، لیکن سی ڈی اے اس فیصلے سے ناخوش تھا اور IWMB کے خلاف اقدامات شروع کر دیے۔
ستمبر 2024 میں مونال کی مسماری کے بعد ، سی ڈی اے اور IWMB کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، اور آخرکار IWMB کو تحلیل کر کے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تحت ایک عبوری بورڈ قائم کر دیا گیا۔ IWMB کی سابقہ چیئرپرسن، رائنا سعید خان نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ”بیوروکریٹک قبضہ“ ہے، جس میں تجارتی مفادات اور سرکاری حکام کی ملی بھگت شامل ہے۔
رائنا سعید خان کا کہنا ہے کہ ”یہ پارک اسلام آباد کے قدرتی ماحول کے لیے نہایت اہم ہے، یہ شہر کے لیے ایک بفر زون کے طور پر کام کرتا ہے اور اس کے جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہاں تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نیشنل پارک کے تحفظ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔“
یہ نہایت افسوسناک ہے کہ رائنا سعید خان اور ان کے ساتھیوں کی نیشنل پارک کو محفوظ بنانے کی انتھک کوششیں اب مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں خطرے میں ہیں، جو صرف مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس قیمتی قدرتی ورثے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے تحفظ اور بہتری کے لیے متحد ہو جائیں، تاکہ اسلام آباد کی یہ قدرتی خوبصورتی محفوظ رہ سکے۔




