اسرار الحق مجاز: ادبی اہمیت
مجازؔ کی انقلابی اور رومانی نظموں اور غزلوں پر گفتگو کے بعد یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ مجاز کی ادبی اہمیت کیا ہے۔ بالخصوص آج کے سیاق میں، کیا مجاز صرف عہدِ گزشتہ کے شاعر ہیں؟ یا شعری مزاج میں تبدیلی کے بعد آج وہ صرف ادبی تاریخ کا ایک ورق ہیں۔ جس کے بارے میں منظر سلیم نے لکھا ہے : ”یہ نغمے تیزی سے بدلتے ہوئے شعری مزاج کے ساتھ ساتھ پرانے ہوتے جا رہے ہیں کچھ اس زمانے کے ہنگامی اور وقتی موضوعات سے متعلق ہیں جن میں کشش اور نیا پن باقی نہیں رہا۔ کچھ برسوں بعد یہ نغمے اور بھی پرانے ہو کر ماضی کا جزو بن جائیں گے، لیکن جس طرح ماضی کے محل کی بہت سی آوازیں آج ہمارے کانوں میں گونجتی رہتی ہیں، اسی طرح مجاز کی آواز بھی زندہ رہے گی۔“
منظر سلیم کی بات میں کسی قدر سچائی ضرور ہے لیکن یہ بات صرف مجاز تک محدود نہیں ہے۔ اگر ادبی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو محسوس ہو گا کہ زمانے اور وقت نے کسی کو معاف نہیں کیا۔ اپنے اپنے زمانے کے نا جانے کتنے مقبول شاعر ایسے ہیں جن کے نام اب حوالوں کا حصہ بھی نہیں رہے اور جو نام زمانے کی دست بُرد سے بچ گئے ان میں زندگی کی ایسی توانائی اور سکت تھی کہ اس نے خود ماضی کو رد کر دیا۔ وقت ایک سیلاب کی طرح آتا ہے اور پھر اس کے گزرنے کے بعد اسی پر ایک نئی فصل تیار ہو جاتی ہے لیکن کچھ چیزیں اور کچھ آثار باقی رہ جاتے ہیں۔ مجاز کی شاعری کا ایک حصہ ایسا ضرور ہے جو اب تک ماضی کے محل کی گونج بننے کے بجائے تازہ کار ہے اور ہمارے جمالیاتی احساس کی تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے۔
مجاز کی شاعری کے فروغ کا زمانہ وہ تھا جب وقتی موضوعات کا دباؤ زیادہ تھا۔ اس کا جواز بھی تھا، ایک طرف جنگِ عظیم، دوسری طرف ہندوستان کی تحریک آزادی، تیسری طرف بین الاقوامی سطح پر تبدیلیاں، فاشزم کے خلاف قلم کی لڑائی میں ادیبوں کی پیش قدمی اور سوشلزم کی مقبولیت، ساری صورت حال چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی :
شاعر ہو مت چُپکے رہو چپ میں جانیں جاتی ہیں
ایسے میں کوئی کیوں کر علیحدہ رہ سکتا تھا۔ پھر علی گڑھ اس نئی فکر اور روشن خیالی کا مرکز بن گیا تھا۔ شاعروں میں مجاز، جذبیؔ، آل احمد سرور، جانثار اختر، افسانہ نگاروں میں حیات اللہ انصاری، عصمت چغتائی، تنقید میں اختر حسین رائے پوری اپنے ”مضمون ادب اور انقلاب“ کے ذریعہ ادب میں ترقی پسند فکر کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ انقلاب اپنے ادھ کچرے تصور کے ساتھ ادب و شاعری کا مقبول موضوع بنا گیا تھا۔ ان حالات میں تخلیق کیا ہوا ادب ہمیشہ اپنے ساتھ ایک سوال لاتا ہے کہ اس کی ادبی قدر و قیمت کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ وقتی تحریریں مخصوص حالات کا نتیجہ ہوتی ہیں اور ان حالات کے ختم ہونے کے بعد ان کی مدت عمر بھی ختم ہو جاتی ہے، سوائے اس حصہ کے جو اپنے جمالیاتی اظہار میں مکمل ہو اور جس کا موضوع اتنی وسعت اختیار کر لے کہ اپنے زمانے کے بعد بھی اس کا عصری ربط (Relevance) باقی رہے۔ کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کسی شاعر کا سارا کلام وقتی یا سارا کلام ہر عہد میں یکساں طور پر لطف آمیز رہنے والا ہے۔ اس لیے کہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور پسند و ناپسند کے ساتھ ادبی سیاق بھی بدلتا رہتا ہے۔ کبھی غیر اہم چیز بھی وقت گزرنے کے ساتھ اہم ہو جاتی ہے اور اپنے عہد کی بہت اہم چیزیں لوگوں کے لیے باعث توجہ نہیں رہ جاتیں۔ مجاز کی شاعری کا ایک مختصر حصہ ایسا ضرور ہے جسے موضوعاتی یا وقتی کہہ کر نظر انداز کر سکتے ہیں اور اُس وقت بھی شاید اُس کی اہمیت اس سے زائد نہیں تھی کہ وہ مزدوروں اور عوام کا ترانہ بن سکے۔ لیکن یہ معمولی بات نہیں تھی، اس وقت ضرورت بھی اس کی تھی۔ مجاز خود اس غربت اور بیکسی کو دیکھ رہے تھے اور ایک بیدار ضمیر رکھنے والے انسان کی حیثیت سے وہ ان میں شامل ہو گئے تھے۔ ابھی ترقی پسند تحریک کی باقاعدہ ابتدا نہیں ہوئی تھی۔ مجاز ادبی حلقوں اور نوجوانوں میں ”نمائش، نذر، خالدہ، رات اور ریل“ جیسی خوبصورت ترشی ہوئی رومانی نظموں سے خاصی مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔ 1933 ء میں ان کی نظم ”انقلاب“ آئی۔ مجاز کے یہاں متذکرہ نظموں میں بھی فکری اور سیاسی بصیرت کے اشارے موجود تھے لیکن انقلاب میں ان کی آواز، لہجہ اور شعور سب مختلف تھا۔ یہ دراصل صرف مجاز کی آواز نہیں تھی اس میں ہندوستان کے حریت پسندوں کے ساتھ دنیا میں فسطائی قوتوں سے لڑنے والے عوام کی آواز شامل تھی۔ اردو میں اس موضوع پر پہلی نظم کس نے لکھی یہ تاریخ دانوں کا کام ہے لیکن ایک خاص فکری ترتیب، سیاسی بصیرت، معاشی شعور اور آزادی کے تصور کے ساتھ یہ اردو کی اس موضوع پر پہلی نظم ہے۔ یہاں پر نظم کے ارتقا، مزدوروں کے جوش انتظام سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبصرہ مقصود نہیں ہے۔ میں لکھ چکا ہوں کہ اس وقت تک انقلاب کا تصور بہت واضح نہیں تھا۔ لیکن دنیا کی جو صورت حال تھی اس کی طرف مجاز نے اپنے اشعار میں بہت واضح اشارے کر دیے تھے :
فرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہے
ابر کے پردوں میں ساز جنگ کی آواز ہے
آرہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوئے
آگ دامن میں چھپائے خون برساتے ہوئے
اور اس طرح اپنے اگلے اشعار کی ہیبت خیزی اور خون آشامی کا جواز بھی پیش کر دیا تھا۔ اس میں مجاز انقلاب اور آزادی ملک کا جو خواب دیکھ رہے تھے وہ اردو ادب کے لیے نیا تھا۔ اس طرح کی نظموں کی ادبی اہمیت نہ سہی لیکن فکری ارتقا میں ان کی تاریخی اہمیت ضرور ہے۔ مجاز ایک بیدار ذہن شاعر ہیں۔ انھوں نے اپنے عہد کے مطالبات کو ادبی اظہار کا موضوع بنایا، یہ ایک اہم قدم تھا۔ احتشام حسین نے اُن کو روح عصر سے تعبیر کیا ہے۔ مجاز کی کامیابی یا مقبولیت کا یہ سبب نہیں ہے کہ وہ رومان سے انقلاب کی طرف آئے اور انھوں نے مزدور کا گیت لکھا، یا سرمایہ داری کے خلاف نظم لکھی۔ ان کی یہ بڑائی ضرور ہے کہ انھوں نے سرمایہ داری کی لعنت کو محسوس کیا اور انقلاب کی اہمیت کو سمجھا لیکن ان کی بڑائی یا کامیابی اس احساس، فن، انفرادی فکر اور سماجی بصیرت میں ہے جس کے ذریعہ انھوں نے شاعری کا ایک ایسا رخ پیش کیا جس سے کم از کم اردو شاعری اس وقت تک نا آشنا تھی۔
مجاز کے بارے میں یہ بات بار بار کہی گئی ہے کہ مجاز کی ذہنی تربیت شاعری کی کلاسیکی روایت کے سائے میں ہوئی لیکن مجاز کا جو عہد تھا وہ کلاسیکی اور رومانی (عاشقانہ ) شاعری ہی کا عہد تھا اور اس عہد کے بھی شاعروں کی تربیت میں کلاسیکیت کا بہت بڑا حصہ تھا۔ علی سردار جعفری، میر انیس سے اس قدر متاثر تھے کہ خود بھی مرثیے لکھتے اور مجالس میں پڑھتے تھے۔ کیفی اعظمی پر بیک وقت اگر ایک طرف اختر شیرانی کی رومانیت کا اثر تھا تو دوسری طرف جوش ؔ اور اقبالؔ کے آہنگ کا۔ فیضؔ کے یہاں بھی کئی کلاسیکی شاعروں کا اثر نظر آ جائے گا۔ لیکن مجاز کی خوبی ان کے کلام میں الفاظ و تراکیب کا تخلیقی استعمال، ان کا بے تکلف اور بے ساختہ اظہار اور سادہ بیانی ہے۔ مجاز کی یہی خوبی ہے کہ وہ آسمانوں پر پرواز نہیں کرتے زمین سے ان کا رشتہ اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ وہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔ اس حوالے سے ان کی خوبصورت نظم ”خواب ِسحر“ یا ”شکوہ“ کے مطالعے سے ان کی اصل دلکشی اور اس کے حسن کا اندازہ ہو گا۔ جس کی آواز میں صرف اس عہد کی آواز ہی نہیں شامل ہے بلکہ ہر زمانے کا خواب اور احساس شامل ہے اور جب تک انسان اوہام باطل کا شکار ہے یا محبت محروم درماں ہے، اس کا تاثر اور درد انگیزی کم نہیں ہوگی :
مہر صدیوں سے چمکتا ہی رہا افلاک پر
رات ہی طاری رہی انسان کے ادراک پر
آدمی منت کش ارباب عرفاں ہی رہا
دردِ انسانی مگر محرومِ درماں ہی رہا
اور یہ رجائیت، اعتماد اور بھروسا ایک ایسے مایوس کن ماحول میں جب کہ ہر طرف جنگ کے بادل چھائے ہوں، غلامی کی زنجیروں کی آوازیں گونج رہی ہوں، بہت بڑی بات ہے۔ اُردو شاعری میں مجاز کی حیثیت ترقی پسند فکر کے معمار کی ہے۔ ان کے یہاں موضوعاتی شاعری ضرور ہے لیکن انھوں نے ترقی پسند شاعری کا ایک معیار مقرر کیا۔ مشکل یہ ہے کہ مجاز کے بعد بلکہ ان کے زمانے ہی میں شاعری پر سیاست کا غلبہ ہونے لگا۔ بلند آہنگی، اور راست بیانی کو شعری حسن قرار دیا جانے لگا۔ اس شور میں مجاز کی شاعری دبی تو نہیں لیکن اس کی فنی خوبیوں اور خوبصورتی کی طرف توجہ کم ہو گئی۔ مجاز کے یہاں ابتدا میں جس کلاسکیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ در اصل صرف کلاسکیت نہیں بلکہ ایک خاص طرح کی شائستگی اور تہذیب ہے۔ وہ بہت نرمی سے بات کرتے ہیں۔ محبت میں ناکامی کے باوجود وہ محبوب کی بے وفائی کا شکوہ نہیں کرتے۔ وہ پہلے عاشق ہیں جو محبت میں اپنی ناکامی کا الزام محبوبہ کے بجائے زمانے کے قوانینِ کہن اور آئینِ فرسودہ پر رکھتے ہیں۔
مجاز کا شعری سرمایہ بہت نہیں ہے۔ اس کا سبب یہی ہو سکتا ہے کہ ان کی عمر کا دامن تنگ اور زمانہ ان کے ساتھ اتنا بے رحم رہا کہ وہ جن آرزوؤں کے خواب دنیا کے لیے اور خود اپنے لیے دیکھ رہے تھے وہ مکمل نہ کر سکے۔ لیکن انھوں نے جو کچھ لکھا اور اس سے جو مقبولیت انھیں ملی اس کا اعتراف فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، فراقؔ اور جوشؔ سے لے کر نواب جعفر علی خاں اثرؔ، شیخ ممتاز حسین جونپوری اور مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی سب نے اپنے مختلف نظریات اور عقائد کے باوجود کیا۔ میرا خیال ہے کہ اس کا بنیادی سبب مجاز کے احترام فن کے ساتھ ان کا رچا ہوا جمالیاتی احساس، زبان کی سادگی، الفاظ کا خلاقانہ استعمال اور غنائیت کے ساتھ شدید حسیّت، زمینی حقیقت سے اُن کا گہرا رشتہ، ان کی ترقی پسند فکر اور جذبے کا بے تصنع اظہار ہے، جس کی وجہ سے اُن کی شاعری میں آج بھی اثر آفرینی، زندگی اور تازگی کا احساس ہوتا ہے۔



بے حد متاثر کن مضمون !!