سفر کینیڈین راکی ماؤنٹینز کے – بینف نیشنل پارک – 2


بینف نیشنل پارک البرٹا اور برٹش کولمبیا کے درمیان کینیڈین راکی ماؤنٹینز کے پہاڑی سلسلے کے ساتھ شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کا علاقہ زیادہ تر دشوار گزار اور پہاڑی ہے، اس کا ایک بڑا حصہ راکیز کی اونچی الپائن چوٹیوں پر مشتمل ہے، اس خطے کے پہاڑ چونے کے پتھر، شیل اور دیگر تہہ دار چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ بینف نیشنل پارک کینیڈا کے قدیم ترین پارک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس پارک نے کینیڈا کے وسیع و عریض قومی پارکس کے نظام کو جنم دیا۔ 17 ویں صدی میں یورپ سے آنے والے لوگوں کے کے ساتھ ابتدائی رابطے کے بعد یہاں کے مقامی لوگوں نے 18 ویں صدی میں یورپی آباد کاروں کے ساتھ کھالوں اور گوشت کی تجارت شروع کر دی۔ دشوار گزار علاقوں کے بارے میں معلومات کی وجہ سے وہ تاجروں، ریلوے اور سرکاری سروے کرنے والوں اور مشنریوں کے لئے بھی راہنمائی کرتے تھے۔ بینف نیشنل پارک کے قیام کے فوراً بعد مقامی لوگوں کو قومی پارکوں سے باہر رکھنے اور روایتی شکار اور اجتماع پر پابندی لگائی گئی۔ گزشتہ 50 سالوں میں اس پالیسی کو تبدیل کیا گیا ہے۔ پارکس کینیڈا نے مقامی لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ جگہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے انتہائی کشش کا باعث ہے۔ یہاں آپ کیمپنگ، ہائکنگ، بائکنگ، بوٹنگ، سکی انگ اور دوسرے ایڈونچر بھی کر سکتے ہیں۔ ہر عمر کے لوگوں کے لئے بینف نیشنل پارک میں قدرت سے قربت حاصل کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ جنگلی حیاتیات کا تحفظ یہاں کے ماحولیاتی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے، اور جانوروں کو کھلے عام پھرتے دیکھنا ہمیں ہمیشہ راحت بخشتا ہے۔ صبح کی جاگنگ کے دوران بینف ایونیو میں ہرن کو گھومتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، یا باؤ ویلی پارک وے پر سڑک کے کنارے ایلک بھی دیکھ سکتے ہیں۔ گریزلی ریچھ اور کالے ریچھ ان پہاڑی چوٹیوں اور وادیوں میں بکثرت موجود ہیں۔ موس، بھیڑیے اور کوگر بھی مقامی جانوروں میں شامل ہیں۔ پارک کی پہاڑی سڑکوں پر گاڑی چلاتے وقت پہاڑیوں کے کنارے بگ ہارن شیپ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی آپ پارک سے گاڑی میں گزرتے ہیں، آپ کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بنائے ہوئے متعدد پل اور سرنگیں نظر آئیں گی۔ یہ کراسنگ جانوروں کو سڑک پار کیے بغیر اپنی رہائش گاہوں اور نقل مکانی کے راستوں کو محفوظ طریقے سے جوڑنے میں مدد کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، جس سے جانوروں اور موٹر سائیکل سواروں دونوں کو محفوظ رکھا گیا تھا۔ 38 انڈر پاسز اور 6 اوور پاسز کے ساتھ بینف نیشنل پارک دنیا میں سب سے زیادہ وائلڈ لائف کراسنگ رکھتا ہے۔

برف پوش راکی ماؤنٹینز کے سفر کے دوران ہم بینف کی چوٹیوں کے اسیر تھے اور دل ان مناظر کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے۔ بینف کے دامن میں ان پہاڑی چوٹیوں کے گلیشیئروں کے یخ پانیوں سے وجود میں آنے والے نالے اور چشموں کی بہتات ہے۔ زیادہ تر علاقہ راکی ماؤنٹینز کی اوٹ میں تراشی ہوئی سڑک سے گزرتا ہے۔ یہاں وقفے وقفے سے بو ریور جو مرکزی دریا ہے۔ اپنی جھلک دکھلاتا رہتا ہے۔ بینف سے 40 کلومیٹر پہلے آرک لیکس کا بورڈ نظر آیا یہ بو ریور کے جنوب میں واقع جھیل ہے جہاں ہزاروں سال سے لوگ انہی راستوں پر پیادہ، گھوڑوں پر، ریل کار اور اب گاڑیوں کے ذریعے آج کی موجودہ ٹرانس کینیڈا ہائی وے پر سفر کرتے ہیں۔

تارڑ کہتے ہیں کہ برف زاروں کو کھولنے میں مہم جو لوگوں کی بیقراری کا کافی ہاتھ ہے۔ بینف شہر میں سب سے چھوٹا پہاڑ ٹنل ماؤنٹین بینف کے لوگوں کو پسند ہے۔ اس پہاڑ تک رسائی آسان ہے۔ اس کی اونچائی 5551 فٹ ہے۔ یہ بینف نیشنل پارک کے سب سے چھوٹے پہاڑوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آس پاس کی وادیوں اور بینف شہر کے خوبصورت نظارے پیش کرتا ہے۔ نقل و حرکت کے اعتبار سے لوگوں کے لئے یہ بہت اچھا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے یہاں ماؤنٹین ٹنل کیمپ گراؤنڈ میں کیمپنگ کے لیے خیمہ لگایا تو جون کے مہینے میں بھی رات کو شدید ٹھنڈ کا سامنا تھا۔ جو شام کو بدن چیرتی تھی۔ ہم نے گرم سلیپنگ بیگ، جیکٹ، ٹوپیاں، دستانے، موزے سمیت سارا لازمی سامان رکھا ہوا تھا۔ رات کو پہاڑوں کی قربت میں آتی سردی سے آنکھ بار بار کھل جاتی تھی۔ بچہ لوگ تو تھوڑی دیر بعد سوتے نظر آئے۔ مگر ہم کچھ دیر بعد جاگ جاتے۔

یخ ہواؤں کا جھونکا جب بھی خیمے کے باہر دستک دیتا تو ہم سردی سے کانپتے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے بیگم کے مشورے پر 20 ڈگری سینٹی گریڈ والے سلیپنگ بیگ لیے تھے جس نے ہماری جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آدھی رات کو جب خیمے سے باہر نکل کر دیکھنے کا ارادہ کیا تو بیگم نے سرزنش کی کہ اپنا نہیں تو دوسرے افراد پر رحم کیا جائے۔ اور ایڈوینچر سے باز رہا جائے۔ بالآخر علی الصبح خیمے سے باہر نکلے تو کھلے آسمان اور خنک فضا نے دلی تسکین دی۔ ان راتوں کا تجربہ اور پھر سورج نکلنے کا منظر یقیناً روح اور جسم کی لیے ضروری ہے۔ دن کو سورج خوب آب و تاب سے چمکتا تھا اور تپش خاصی زیادہ تھی۔ شہر میں ہیٹ ویو کی وارننگ تھی۔ عجب سماں تھا کہ دن کو شدید گرمی اور رات کو سردی۔ سورج دن کو شدید گرمی برساتا تھا کہ سن سٹروک کا خدشہ لاحق ہو جاتا تھا۔ اور بچہ لوگ گرمی گرمی کرتے تھے۔ اس کیمپ گراؤنڈ میں بار بی کیو کا عمدہ انتظام موجود ہے۔ لکڑیاں لانے، مل کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنے اور مارش میلو کو بار بی کیو کرنے میں سب نے خوب لطف اٹھایا۔ کیمپ گراؤنڈ میں نہانے کا اپنا ہی مزا ہے۔ ہم بھی یہاں سے رخصت ہوتے وقت دوسرے مسافروں کی طرح دل میں حسرت قیام رکھتے تھے۔ ان تمام یادوں کو سمیٹ کر نکلنا آسان نہیں مگر بندہ مجبور کیا کرے۔

کینیڈین راکی ماؤنٹینز کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلے سبزہ، درختوں اور عالیشان پہاڑوں کے جھرمٹ میں بینف شہر استقبال کرتا ہے۔ ان پہاڑوں کی وجہ سے شام کو خنکی ہو جاتی ہے۔ رات کے وقت یہ چوٹیاں چاند کی روشنی میں پر شکوہ انداز میں دمکتی تھیں اور اس کی چوٹیوں پر پڑی برف منعکس ہو کر چمکتی تھی۔ اس کی مخصوص نیلی جھیلیں گلیشیئر کے یخ پانیوں سے کھیلتی ہیں۔ گلیشیئر جھیلیں نیلی کیوں ہوتی ہیں؟ گلیشیئر کے پگلنے کے عمل سے گلیشیئر جھیلیں بنتی ہیں۔ جوں جوں گلیشیئر زمین پر حرکت کرتا ہے، یہ نیچے کی زمین کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔ مسلسل کٹاؤ بیشمار بڑے سوراخوں کی تشکیل کا باعث بنتا ہے۔ گلیشیئر سے پگھلنے والا پانی رفتہ رفتہ ان سوراخوں اور خالی جگہوں کو بھر دیتا ہے جو گلیشیر کی وجہ سے ایک جھیل کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ جیسے جیسے گلیشیئر حرکت کرتا ہے، یہ اس جگہ پر موجود معدنیات پر کیمیائی عمل کے نتیجے میں اثر انداز ہوتا ہے۔ معدنیات جھیل کے نچلے حصے میں مٹی کی شکل میں آباد ہیں۔ ان میں سے کچھ چٹانی مٹی پانی میں رک جاتی ہے۔ جو اس پانی کو نیلا رنگ بخشتی ہے۔

جب ہم کیلگری سے سہ پہر کو بینف جانے کے لیے نکلے تو ڈوبتے سورج کے وقت بینف میں پہنچے۔ یہ مناظر آپ پر جادو کر دیتے ہیں۔ اس کے حسن کا طلسم آپ کے دل میں راحت کا سماں کرتا ہے اور چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔ بینف سنٹر آف آرٹس اینڈ کریٹیوٹی کی دوسری منزل کی لابی سے باہر دیکھا تو رنڈل ماؤنٹین ( 9675 فٹ) دکھائی دیا۔ یہ پہاڑی سلسلہ بارہ کلو میٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ پہاڑوں کی دیواریں آہستہ آہستہ آپ کے اعصاب پر چھا جاتی ہیں ان کی عظمت کے آگے انسان بونا نظر آتا ہے۔ راکی ماؤنٹینز کا جلال اور دبدبہ فضا میں نمایاں ہے۔ پہاڑ، پانی اور فطرت کے نظارے اپنی طرف بلاتے ہیں۔ یہ برفانی چوٹیاں قدرت کی صناعی کا خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہیں۔ اور قدرت کی کبریائی کی تسبیح دکھائی دیتی تھی۔

Facebook Comments HS