ملکی سیاست کی خرابیاں قومی پالیسیوں پر اثر انداز ہیں!


حکومت مسلسل تحریک انصاف کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ اب ایک جے آئی ٹی نے سوشل میڈیا پر مہم جوئی کے بارے میں پی ٹی آئی کے متعدد لیڈروں سے سخت سوالات کیے ہیں۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملہ پر پارٹی میں بات کی جائے گی اور عمران خان کو بھی مطلع کیا جائے گا تاہم انہوں نے اداروں سے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

دوسری طرف تحریک انصاف اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد بنا کر حکومت مخالف ملک گیر تحریک چلانا چاہتی ہے تاکہ اس حکومت کو ختم کیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں اب مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور انہیں اس اتحاد میں عملی طور سے شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ نے قومی کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے حکومت نے وفاقی دارالحکومت کے ہوٹلوں کو ہال کرائے پر دینے سے انکار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی اور محمود خان اچکزئی البتہ ایک ہوٹل سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن ایک روز کے بعد ہوٹل نے دوسرے روز کانفرنس جاری رکھنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ تحریک انصاف کے لیڈروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی اور محمود خان اچکزئی نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی قومی کانفرنس کے لئے میڈیا کوریج حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ان لیڈروں نے البتہ اگلے روز ہوٹل انتظامیہ کے انکار کے باوجود کانفرنس اسی ہال میں منعقد کی۔ اس کھینچا تانی کے باوجود تحریک انصاف اور اس کے حلیف کوئی تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اس وقت قومی سیاست تعطل کا شکار ہے۔ اسمبلیوں میں اپوزیشن موجود بھی ہے لیکن وہ کارروائی کا حصہ بننے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ حکومت نے کابینہ میں توسیع کرلی ہے، مہنگائی میں کمی اور رمضان پیکیج کا وسیع پروپیگنڈا کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود عوام یہ طے کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ ملک میں واقعی بنیادی ضرورت کی چیزوں کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ اگر چند اجناس کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو وہ دوسرے شعبوں میں بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کسی گھر کی عمومی مالی صورت حال کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ حقیقی صورت حال یہی ہے کہ اوسط آمدنی والے بیشتر گھرانے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ مصارف میں اضافہ سے کیسے نمٹا جائے۔ ہر گھر کی ضرورتیں تو وہی پرانی ہیں لیکن انہیں پورا کرنے کے لیے گھر میں آنے والی آمدنی کم پڑ رہی ہے۔

ایسی صورت میں مہنگائی میں کمی کے اعلانات اور اس بات پر اصرار کہ اسے حکومت کی کامیاب معاشی پالیسی کا نتیجہ مان لیا جائے، بے معنی محسوس ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر حکومت ایسے چھوٹے چھوٹے پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر ہے جن کے ذریعے عوام میں قبولیت کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور کابینہ میں ان کے بعض رفقا کو بلند آہنگ میں بات کرنے کا شوق ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت مسلسل یہی سمجھ رہی ہے کہ اخباری ضمیموں، اشتہارات اور امدادی پیکیجز کا اعلان کر کے لوگوں کو مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ یہ ہتھکنڈے فرسودہ اور پرانے ہوچکے ہیں۔

تصور کیجئے کہ ایک گھر میں کسی بیمار کا علاج کرانے کے لیے پیسے نہیں ہیں، یا کسی کے پاس بچوں کے اسکول کی فیس نہیں ہے یا مکان کا کرایہ دینے کے لیے وسائل میسر نہیں ہیں۔ لیکن ان کے کانوں میں مسلسل یہ پروپیگنڈا انڈیلا جا رہا ہے کہ ملک اب ترقی کی شاہراہ پر بگٹٹ دوڑ رہا ہے اور تحریک انصاف کی پیدا کی ہوئی خرابیوں پر قابو پاکر اب معاشی انقلاب کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔ ایسے بلند بانگ دعوے سننے والا مجبور شہری خون کے گھونٹ نہیں پئے گا تو کیا کرے گا؟ ملک میں غربت و احتیاج فزوں تر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک سے پہلے 20 ارب روپے کا امدادی پیکیج دینے کا اعلان کیا۔ کئی ہفتے تک اس بارے میں خبریں دی جاتی رہیں۔ شہباز شریف نے خود کئی تقریروں میں اس فراخدلی کے قصیدے بیان کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔

اگر ملک میں مہنگائی کم ہو گئی ہے، اشیائے صرف لوگوں کی دسترس میں آ رہی ہیں اور ملک ہی نہیں بلکہ عام گھرانوں کے مالی حالات بہتر ہو رہے ہیں تو وفاقی حکومت کو بھی امدادی پیکیج کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری تو صوبوں پر عائد ہے اور ہر صوبائی حکومت اپنے وسائل کے مطابق عوام کو ریلیف دینے کا اہتمام بھی کر رہی ہے۔ پھر اس معاملہ میں وفاقی حکومت کیوں ملوث ہو رہی ہے؟

اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ امدادی پیکیج دینے کا اعلان درحقیقت پروپیگنڈا کو موثر اور اشتہاروں کی زبان کو شیریں بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ گویا وفاقی حکومت نے 20 ارب روپے محض اپنی نیک نامی کے لیے صرف کر دیے۔ باقی عام لوگوں کو اس سے کیا فائدہ ہوا اس کا حساب تو ایک سال بعد ہی سامنے آ سکے گا۔ وزیر اعظم خود یہ اعلان کرچکے ہیں کہ گزشتہ سال رمضان پیکیج کی تقسیم کے نظام میں بدعنوانی ہوئی تھی جسے اب دور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ نظام میں پائی جانے والی خرابیاں محض اعلانات اور دعوؤں کے زور پر دور نہیں کی جا سکتیں۔

حکومت آئی ایم ایف کے علاوہ دوست ممالک سے کسی نہ کسی صورت مدد لینے کی کوشش کرتی ہے تاکہ ملکی اخراجات پورے ہو سکیں اور اچانک معاشی بحران سے بچا جا سکے۔ ایک طرف مدد مانگنے کی جد و جہد کی جاتی ہے اور دوسری طرف ملک میں معاشی انقلاب برپا کرنے کی نوید دی جاتی ہے۔ ان دو انتہاؤں میں کوئی تعلق تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ طویل تجربہ اور سیاسی دباؤ کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت نہ تو امور حکومت چلانے میں کسی نئے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور نہ ہی عوام کے ساتھ تعلق و رابطہ کے حوالے سے کوئی قابل اعتبار حکمت عملی تیار کی جا سکی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے علاوہ مسلسل یہ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے ریاست بچانے کے لیے سیاست قربان کردی۔ لیکن کوئی پارٹی لیڈر یا حکومتی نمائندہ اس فقرے کا مطلب سمجھانے سے قاصر ہے۔

یہ کیسی قربانی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اکثریت میں نہ ہونے کے باوجود مرکز اور پنجاب میں بدستور اقتدار میں ہے۔ لیکن سیاست قربان کرنے کا دعویٰ بھی زور شور سے کیا جا رہا ہے۔ اسی صورت حال کو اگر تحریک انصاف کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ کہے گی کہ مسلم لیگ (ن) نے اقتدار لینے کے لیے ملکی نظام، جمہوریت اور انتخابات کے اعتبار کو داؤ پر لگایا اور اب اقتدار سے چمٹ کر مسلسل عوام کی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ ملک کی معاشی، سماجی و سیاسی صورت حال میں یہ بیانیہ عوام کی اکثریت کو درست اور حقیقت کے زیادہ قریب محسوس ہو گا۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی جہاں دیدہ قیادت اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

یہی رویہ اپوزیشن کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ یہ درست ہو گا کہ 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف نے ایک غلط احتجاج کے ذریعے عسکری ادارے کو چیلنج کرنے کی کوشش کی لیکن اس غلطی کو پورے پس منظر میں دیکھنے اور حقیقی مجرموں کو سزائیں دلانے کا اہتمام کرنے کی بجائے سانحہ 9 مئی کو ایک بیانیہ بنانے اور اس کے زور پر تحریک انصاف کو سیاسی منظر نامہ سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ سیاسی پارٹی کے طور پر مسلم لیگ (ن) کو اس معاملہ میں متوازن راستہ اختیار کر کے اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلوں کو کم کرانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس طریقہ سے سیاسی ماحول میں کرختگی کی بجائے نرمی پیدا ہوتی اور اعتماد بحال کیا جاسکتا تھا۔ اب تحریک انصاف کو جس سیاسی عمل میں شامل ہونے اور نظام کو چلنے میں مدد دینے کا جو سبق دیا جاتا ہے، مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں نے اگر خود اس سبق کو پڑھا ہوتا اور عمل کیا ہوتا تو تحریک انصاف خود ہی معتدل رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتی۔ البتہ عمومی سماجی رویہ کے مطابق مسلم لیگ (ن) بھی دوسروں سے وہ سب کچھ طلب کرتی ہے، جس پر وہ خود عمل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یعنی فراخدلی اور وسیع تر قومی مفاد میں مل کر چلنے کا طریقہ۔

اب تحریک انصاف کی قیادت کو سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کے نام پر دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاسی مکالمہ کے تمام راستے بند کیے جا چکے ہیں۔ احتجاج کا حق سلب ہے۔ میڈیا پر معمولی تنقید بھی گردن زدنی ہے۔ معاشی حالات ابتر ہیں۔ حکومت کے پاس خارجہ امور اور علاقائی تعاون کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ امریکی صدر کا ایک بیان اسلام آباد کی مایوسی کو خوشگوار حیرت میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کے بعد اس بات پر سکون کا سانس لیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں تحریک انصاف کی لابی کامیاب نہیں ہو سکی۔ دہشت گردی میں تعاون کے نام پر پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا چہیتا بننے والا ہے۔ ملکی پالیسی اگر انہی بنیادوں پر استوار ہے تو اسے کیسے حکومت کی کامیابی یا دانشمندانہ پالیسی مان لیا جائے۔

وقت کی ضرورت تو یہ ہے کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا ہو اور حکومت ہی نہیں، سب سیاسی پارٹیاں ایک نیا دنگل سجانے کی بجائے قومی مقصد سے چند بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ خارجہ پالیسی کو علاقائی تعاون کی بنیاد پر مستحکم کرنے کی حکمت عملی بنائی جائے۔ نعروں اور الزامات کی سیاست ترک کر کے چیلنجز کو سمجھنے اور حل کرنے کا رویہ اپنایا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی حکومت یا اپوزیشن ابھی تک بلوغت کی اس حد تک پہنچنے کے قابل نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali