سرداراں بی بی: ایک باہمت اور با اثر خاتون
تصویریں نا صرف بولتی ہیں بلکہ اپنے وجود کا برملا اظہار بھی کرتی ہیں۔ اس بات کا تجربہ مجھے گزشتہ سال ہوا جب معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل، جو کینیڈا سے کراچی میرے گھر آئے تھے، میرے اسٹوڈیو میں لگی میری دادی کی تصویر دیکھ کر پوچھنے لگے۔ ”یہ کس کی تصویر ہے؟“ میں نے جواب دیا، ”یہ میری دادی کی تصویر ہے، جو اب اس دُنیا میں نہیں رہیں۔ وہ 5 مارچ 2016 کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو چکی ہیں۔“ تصویر کو بغور دیکھتے ہوئے ڈاکٹر خالد سہیل نے کہا، ”آپ کی دادی کی آنکھوں اور چہرے کے تاثر سے لگتا ہے کہ وہ بہت با اثر اور مضبوط شخصیت کی مالک تھیں۔“ میں نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا، ”جی بالکل، دادی ایسی ہی تھیں۔ ہمارے گھر میں ان کا اختیار دادا سے زیادہ تھا۔“
دادی کی زندگی اور جدوجہد:
میری دادی، سرداراں بی بی، 1914 ء میں سیالکوٹ چھاؤنی کے قریب گاؤں پنووال میں ایک کیتھولک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ وہ اپنے 11 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ بعد ازاں، وہ 1960 ء کی دہائی میں جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کے گاؤں 270، لوریتو میں آباد ہوئیں۔ وہ ایک بہادر اور نڈر خاتون تھیں جنہوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو ہمت اور جرات سے عبور کیا۔ وہ صاف گو، سخت مزاج اور انسان دوست تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی تین نسلیں دیکھیں۔ ان کا مشغلہ کھیتی باڑی اور گھریلو ذمہ داریوں کی انجام دہی تھا۔ دادی کا مشنری فادروں اور سسٹروں کے ساتھ گہرا تعلق تھا، اور وہ ان کے کاموں میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ طویل بیماری کے بعد وہ 5 مارچ 2016 ء کو ہمیشہ کے لیے خُداوند میں سو گئیں۔
دادی کی شخصیت اور میرے احساسات:
دادا کے بارے میں لکھتے ہوئے محض الفاظ نہیں، بلکہ میرا پورا وجود، رُوح اور جذبات قلم کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ لیکن دادی کے بارے میں میں نے بہت کم لکھا اور بات کی ہے۔ اب 5 مارچ کو ان کی نویں برسی کے موقع پر، ان کے متعلق کچھ لکھنے کا ارادہ کیا۔ دادی کی شخصیت باوقار، سخت گیر اور تیز مزاج تھی، جبکہ دادا اس کے برعکس، نرم دل، نرم گفتار اور دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ بچپن میں دادی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ہم کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ کچھ عرصہ دادی ہمارے پاس کراچی میں رہیں، لیکن ہمارے درمیان وہ گہرا تعلق قائم نہ ہو سکا جو دادا کے ساتھ تھا۔ جب میں شعور کی منزلوں میں داخل ہوا اور گاؤں جانا شروع کیا، تب تک دادی کافی ضعیف ہو چکی تھیں۔ آخر کار، 5 مارچ 2016 ء کو 102 سال کی عمر میں وہ اس دُنیا سے رخصت ہو گئیں۔
نئی نسل اور خاندانی اقدار:
میں سمجھتا ہوں کہ ہم شاید آخری نسل ہیں جسے دادی، دادا، نانی اور نانا کی محبت ملی۔ ہمیں ان رشتوں کی قدر اور ان کے لمس کا احساس ہوا، لیکن نئی نسل شاید اس قیمتی تجربے سے محروم رہ گئی ہے۔ یہ تحریر صرف میری دادی کی یاد میں نہیں بلکہ ان تمام بزرگوں کی عظمت کا اعتراف بھی ہے، جنہوں نے اپنی زندگیاں دوسروں کے لیے وقف کر دیں۔ دادی کا آخری وقت تکلیف دہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ 90 کی دہائی کے آخر یا 2000 کے قریب، وہ چھت کی لپائی کے دوران سیڑھی سے گر گئیں، جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس میں راڈ ڈالا گیا، جس کے بعد انہیں چلنے پھرنے میں دشواری ہونے لگی۔ بڑھاپے میں ان کے لیے سننا، دیکھنا اور سمجھنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ میرے والد صاحب نے آخری وقت میں کراچی سے گاؤں جا کر اپنی والدہ کی خدمت کی بھرپور کوشش کی، لیکن شاید جتنی توجہ اور دیکھ بھال انہیں درکار تھی، وہ ہمارا خاندان فراہم نہ کر سکا۔ یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ دادی نے ویران صحرائی علاقے میں دادا کے ساتھ مل کر گھر کو آباد کیا۔ گھریلو ذمہ داریاں اور کھیتی باڑی کے کام وہ اس قدر خوش اسلوبی سے نبھاتی رہیں کہ دادا کو اپنے سیاسی اور سماجی کاموں میں آسانی رہی۔ لیکن شاید ان کی سخت گیری اور مزاج کی تیزی کے باعث، انہیں وہ عزت اور مقام نہیں ملا جو دادا کو ملا۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی مرد کی کامیابی کو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن عورت کی قربانی اور محنت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شاید ہمیں صدی لگ گی یہ سمجھنے میں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کی انتھک محنت شامل ہوتی ہے۔ دادی نے آخری دم تک بیماری کا مقابلہ کیا، لیکن خود کو اندر سے کمزور نہ ہونے دیا۔ شاید زندگی کی سختیوں نے انہیں اتنا مضبوط بنا دیا تھا کہ تکلیفیں انہیں توڑ نہ سکیں۔
عجیب رسم ہے، ریتوں کا شہر ہے یہ بھی
جو محنتوں سے بنا، وہ مکاں کسی کا نہ تھا
(افضل گیلانی)




