دہائیوں سے وزیرستان کے اونچی پہاڑوں کے دامن میں دبی بے آواز چیخوں کی داستان
9/ 11 کے حملے کے بعد 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ اور نیٹو نے ”آپریشن اینڈیورنگ فریڈم“ کے تحت افغانستان میں فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ امریکی فضائی بمباری کے نتیجے میں 13 نومبر کو شمالی اتحاد نے امریکی حمایت سے کابل پر اپنی افواج اتارے، اور یوں ایک نئی جنگ چھڑ گئی۔ مگر یہ جنگ صرف افغانستان تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے پشتونخوا، خاص طور پر سابقہ قبائلی علاقوں کو بھی مستقل بدامنی اور عدم استحکام میں مبتلا کر دیا۔
ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ تنازع خطے میں ایسی غیر یقینی صورتِ حال کو جنم دیتا ہے جو آج تک برقرار ہے۔ مختلف گروہوں کی یہاں آبادکاری نے پختونخوا کی سیکیورٹی کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان فوج نے ”وار آن ٹیرر“ کے تحت مختلف فوجی آپریشنز کیے، لیکن ان کارروائیوں نے مقامی آبادی کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔
جنوبی وزیرستان میں ”آپریشن راہِ نجات“ کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، اور ٹھیک پانچ سال بعد ، 2014 میں شمالی وزیرستان کی کھجوری چیک پوسٹ پر ایک ہولناک دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد افواجِ پاکستان کی مسلسل جوابی کارروائیوں نے خطے میں پہلے سے جاری عدم استحکام کو مزید گہرا کر دیا، اور نتیجتاً بے شمار بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں۔
فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والی ان وحشت ناک جھڑپوں نے میران شاہ اور میر علی کے بڑے بازاروں کو کھنڈر بنا دیا، بے شمار عام شہری لقمہ اجل بنے، اور خطے میں ایسا خوف اور دہشت پھیلی کہ لوگ ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ جنگ نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ وہ اپنے ہی گھروں سے بے دخل ہو کر خیسور اور دیگر محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی طرف نکلے، لیکن جنگ کی چنگاریاں وہاں بھی جا پہنچیں اور پورا خطہ اس آگ میں جھلسنے لگا۔
10 جون 2014 کو پورے وزیرستان میں کرفیو لگا دیا گیا، راستے بند کر دیے گئے، اور لوگوں کے لیے اپنے ہی گاؤں میں قید ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ حالات اس قدر سنگین تھے کہ اوپر سے گھروں کے اوپر مارٹر گولے گرانے کی خوف سے بچے اور خواتین درختوں کے سائے تلے پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ خوف اور وحشت کے سائے تلے گزرتے وہ دن اور راتیں قیامت سے کم نہ تھیں۔ 15 جون کو ”آپریشن ضربِ عضب“ کے آغاز کا اعلان ہوا۔ لوگوں نے سوچا کہ شاید اب وہ اس جہنم سے نکل سکیں گے۔
مگر نکلنا بھی کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دس لاکھ، لیکن اصل میں اس سے کہیں زیادہ خاندانوں کو صرف دو دن کی مہلت دی گئی۔ بے سروسامانی کے عالم میں بوڑھے، بچے اور خواتین چیختے چلاتے گھروں سے نکلنے لگے۔ گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے ضروری سامان ہاتھوں میں اٹھائے، ننگے پاؤں، بھوک اور پیاس سے نڈھال قافلے پیدل روانہ ہوئے۔ وہ مناظر جنہیں بیان کرنے کے لیے الفاظ ساتھ نہیں دیتے!
تقریباً تین سال در بدر کی ٹھوکریں کھانے اور بے شمار ذلتیں سہنے کے بعد 2016 کے آخر میں آئی ایس پی آر نے اعلان کیا کہ وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے، اور لوگوں کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ بے چارے، ریاستی محرومیوں کے مارے، اس امید پر واپس لوٹنے لگے کہ شاید اب امن کی فضا میں سانس لینے کو ملے، شاید اب وہ بھی انسانوں کی طرح زندگی گزار سکیں گے۔
مگر واپسی کے دوران ہر ایک فرد، حتیٰ کہ 15 سالہ بچوں تک کو ”وطن کارڈ“ کے نام پر ایک امن کارڈ تھما دیا گیا۔ کئی علاقوں کے لوگ واپس لوٹے اور اپنی مدد آپ کے تحت، مسمار شدہ گھروں اور بازاروں کو دوبارہ تعمیر کرنے میں جُت گئے۔
لیکن ظالم وقت نے انہیں زیادہ مہلت نہ دی۔ 2018 میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات شروع ہوئے۔ مقامی لوگوں نے میر علی چوک پر دھرنا دیا، مگر افسوس، جو نوجوان انصاف کی صدا بلند کر رہے تھے، کچھ ہی عرصے بعد وہ بھی انہی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو گئے۔
600 سے زائد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سینکڑوں افراد مارے گئے۔ تعلیم یافتہ نوجوان، استاد، ڈاکٹر، عام شہری کوئی محفوظ نہ رہا۔ بازار سنسان ہو گئے، گھروں میں سناٹے چھا گئے، اور ایک پورا معاشرہ خوف کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔ روزانہ کہیں نہ کہیں بم دھماکے، فوجی چھاؤنیوں اور چیک پوسٹوں پر حملے، فوج اور طالبان کے درمیان خونریز جھڑپیں۔ وزیرستان ایک انسانی قتل گاہ بن چکا ہے، جہاں ریاستی رٹ دور دور تک نظر نہیں آتی۔
اور سب سے بڑا المیہ؟ یہاں کے مظلوموں کی کوئی آواز نہیں سنتا۔ ہزاروں میل دور فلسطینیوں کے لیے تو آواز اٹھائی جاتی ہے، مگر چند میل کے فاصلے پر اس خطے کے لوگوں پر ٹوٹنے والے مظالم کسی کو نظر نہیں آتے۔ مین اسٹریم ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر کسی کتے کے مرنے کی خبر تو جگہ پاتی ہے، مگر بدبخت وزیرستان میں گرنے والی بے شمار لاشوں اور ہر روز مارٹر گولے اور بموں سے متاثرہ بے گناہ بچوں اور خواتین کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
یہاں صدیوں پرانے پہاڑوں کی گونج میں آج بھی بے آواز چیخیں دفن ہیں، ظلمت میں گھُٹی صدائیں جو شاید کبھی کسی کو سنائی نہ دیں۔


pls keep us updated
do apprise us what are the impacts made in your lives after FATA merger to KPK
and roles the political parties are playing resolving your issues
.
I believe all these sad events were occurred before the merger
.
May Allah bless u all with peace and prosperity. Aameen