عورت کی آزادی سرمایہ داری کے شکنجے سے نکلنے کی جدوجہد
آٹھ مارچ کا دن جب آتا ہے تو مغرب کی چمک دمک میں لپٹا ہوا ایک ایسا تصور ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے جو عورت کی آزادی کو بس ایک ”انفرادی انتخاب“ کے دائرے میں قید کر دیتا ہے۔ لیکن ہم جو تاریخ کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اس کے نبض شناس بھی ہیں جانتے ہیں کہ آٹھ مارچ کی بنیاد محنت کش عورتوں کی بغاوت کی صدا سے گونجی تھی۔ وہ عورتیں، جو فیکٹریوں کے دھوئیں میں گھری سرمایہ داروں کی استحصالی مشین میں پس رہی تھیں انہوں نے جب 1908 میں نیویارک کی سڑکوں پر نعرے بلند کیے تو ان کے مطالبات بڑے واضح تھے کم اوقاتِ کار بہتر اجرت اور ووٹ کا حق۔ یہ جنگ جس نے بعد میں 1917 کے روسی انقلاب میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ دراصل محنت کش طبقے کی بغاوت کی گونج تھی۔
1917 کے روسی انقلاب کے بعد جب محنت کشوں نے زار شاہی کے استحصالی نظام کو الٹ کر تاریخ کا دھارا موڑ دیا تو عورتوں کے حقوق کی جدوجہد بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔
بالشویک پارٹی نے نہ صرف عورتوں کی مساوی حیثیت کو قانونی طور پر تسلیم کیا بلکہ 1921 میں روسی کمیونسٹ پارٹی (بولشیوک) Russian Communist Party Bolshevi نے باضابطہ طور پر آٹھ مارچ کو محنت کش عورتوں کے عالمی دن کے طور پر اپنایا۔ یہ دن اب صرف ایک احتجاجی مظاہرے کی علامت نہیں رہا بلکہ انقلابی جدوجہد اور سوشلسٹ سماج میں عورت کے حقیقی کردار کی پہچان بن گیا۔ یہ وہی انقلاب تھا جس نے عورت کو ووٹ کا حق، زچگی کی سہولیات مساوی تنخواہ اور گھریلو کام کو سماجی طور پر تسلیم شدہ محنت کا درجہ دیا وہ سب کچھ جو سرمایہ دار ممالک میں دہائیوں بعد بھی خواب ہی رہا۔
سوشلسٹ فیمنزم عورت کی آزادی کو صرف قانونی یا ثقافتی تبدیلیوں تک محدود نہیں دیکھتا بلکہ اسے محنت کش طبقے کی وسیع تر جدوجہد کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس کے برعکس لبرل فیمنزم زیادہ تر انفرادی آزادیوں اور اصلاحات پر زور دیتا ہے جو یقیناً اہم ہیں لیکن یہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی ساخت کو چیلنج کیے بغیر مکمل آزادی فراہم نہیں کر سکتیں۔
سوشلسٹ نقطہ نظر سے عورت کی غلامی کی جڑیں محض روایات یا دقیانوسی تصورات میں نہیں بلکہ معاشی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔ جب تک دولت اور پیداوار کے وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز رہیں گے محنت کش عورتیں استحصال کا شکار رہیں گی۔ وہ فیکٹریوں کھیتوں گھروں اور دفاتر میں کام تو کریں گی مگر ان کی محنت کی اصل قدر سرمایہ دار کے کھاتے میں جائے گی۔ چنانچہ سوشلسٹ فیمنزم کا مطالبہ صرف عورتوں کے حقوق کی نہیں بلکہ ایک ایسے سماج کی تشکیل کا ہے جہاں استحصال کی کوئی بھی شکل باقی نہ رہے چاہے وہ صنفی ہو یا طبقاتی۔
آٹھ مارچ اگر واقعی عورتوں کے لیے ایک بامعنی دن بننا ہے تو اسے محض تقریبات اور بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں ان محنت کش عورتوں کو یاد رکھنا ہو گا جو نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا بنی ہوئی ہیں بلکہ معیشت کا پہیہ بھی چلا رہی ہیں۔ سوشلسٹ فیمنزم ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل آزادی صرف انفرادی ترقی میں نہیں بلکہ اجتماعی نجات میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایک ایسے نظام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جہاں مساوات کوئی رعایت نہ ہو بلکہ زندگی کی بنیادی حقیقت ہو۔


