مارچ، مارچ اور مارچ


muhammad salim gujranwala

مارچ گریگورین تقویم کا تیسرا مہینہ ہے۔

اسلامی یا قمری تقویم کا ہر مہینہ شمسی مہینے میں دس دس دن کے فرق سے تین برس تک رہتا ہے۔ اس کے بالمقابل بکرمی تقویم کے گیارہویں اور بارہویں مہینے پھاگن اور چیت آتے ہیں۔ پھاگن 13 فروری سے شروع ہو کر 13 مارچ تک اور چیت 14 مارچ سے لے کر 12 اپریل تک رہتا ہے۔ 13 اپریل کو بکرمی تقویم کا دوسرا مہینہ بیساکھ شروع ہوتا ہے اور اس ہی دن بیساکھی کا تہوار ہوتا ہے جب گندم کی کٹائی شروع ہوتی ہے۔

مارچ میں دنیا کے شمالی نصف کرہ میں موسم بہار کا آغاز ہوتا ہے اور جنوبی نصف کرہ میں موسم خزاں شروع ہوتا ہے۔ اس مہینے کا نام قدیم رومن دیوتا مارس کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مارس کو جنگ کا دیوتا کہا جاتا ہے۔ قدیم رومن دیومالائی داستانوں کے مطابق مارچ مہینے کے شروع کے پندرہ دنوں میں فصلوں کی کٹائی اور کئی تہواروں کا آغاز ہوتا ہے۔ جنگ و جدل کا آغاز بھی اسی مہینے میں ہوتا تھا۔ غالباً 153 قبل از مسیح میں مارچ سال کا پہلا مہینہ ہوتا تھا۔

مارچ میں موسم بہت زیادہ خوش گوار ہو جاتا ہے۔ سردی کی شدت بہت کم ہو جاتی ہے۔ صبح و شام ہوا چلنے سے فضاء میں ہلکی خنکی آ جاتی ہے۔ دو پہر کے وقت کچھ گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ رات سونے کے لیے سوتی کھیس بہت ہی لطف دیتا ہے اور یہ سوتی کھیس بنا ہی اس موسم کے لیے ہے۔ اوپر چھت پر لگا پنکھا ہلکی ہلکی ہوا دیتا ہے۔ نہانے کے لیے بدستور نیم گرم پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ باہر کھیتوں میں اچھی خاصی ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے اور اوپر اوڑھنے کے لیے رضائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر مارچ میں سردی کی شدت کچھ زیادہ ہی رہ جائے تو بڑے بوڑھے اکثر کہتے تھے کہ سردی جاتے جاتے گھر کے دروازے میں ہی لگ کر رہ گئی ہے۔

مارچ کے مہینے میں موسم بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ درختوں اور پودوں سے خزاں رسیدہ پتے جھڑنے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئی کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ درخت اور پودے تر و تازہ اور سرسبز ہو جاتے ہیں، پھول لہلہا کر اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ مارچ کے مہینے میں ہی ہلکی ہلکی بارش ہوتی ہے جس سے فضاء میں خنکی برقرار رہتی ہے اور اس بارش کو گندم کی تیار ہوتی ہوئی فصل کے لیے سونے کی بارش کہتے ہیں۔ اس بارش سے گندم کے خوشے دانوں سے بھر جاتے ہیں اور موٹے ہو جاتے ہیں۔ گندم کے پکتے ہوئے ان سٹوں کو ہلکی آگ میں بھون کر کھانے کا بہت مزہ آتا ہے۔

مارچ کے پہلے دنوں میں ہی ہرے چنے بھی بازار میں آ جاتے ہیں۔ شوقین لوگ کافی مقدار میں ہرے چنے نکال کر رکھ لیتے ہیں جو بعد میں سالن اور چاول پکانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ تازہ ہرے چنوں کا سالن اور ان سے بنے ہوئے چاولوں کا پلاؤ بہت ہی لذیذ ہوتا ہے۔ ہرے چنے، اس کے پودے کے تھوڑے سے پتے اور ہری مرچ کو ملا کر چٹنی بنائی جاتی ہے جو بہت ہی مزے دار ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ہرے چنے کے پتوں، جنھیں پلی کہا جاتا ہے، کو آلو کے ساتھ ملا کر بجھیا بھی تیار کی جاتی ہے۔ ہرے چنے، پیاز ہری مرچ اور تھوڑے خشک مصالحہ جات کو کوٹ کر اور اس آمیزے کو آٹے میں گوندھ کر مسی روٹیاں تنور میں یا توے پر پکا کر اور دیسی گھی سے چپڑ کر کھائیں، مزہ ہی آ جاتا ہے۔ ہرے چنوں کے بوٹے کو ہلکی آگ میں بھون کر ڈوڈوں میں سے بھنے ہوئے ہرے چنے نکال کر کھانا بھی ایک بہت ذائقے دار ترکیب ہوتی تھی جن کو ہولے کہتے تھے۔

مارچ سکولوں کے تعلیمی سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ فروری سے لے کر پندرہ مارچ تک سکولوں کے امتحانات کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ مارچ کے بقیہ سولہ دن، یعنی 31 مارچ تک امتحانی نتائج اور جلسۂ تقسیم انعامات کے انتظار میں گزر جاتے تھے۔ ان سولہ دنوں میں بچوں اور بڑوں کے رسائل و جرائد اور ڈائجسٹ خوب پڑھے جاتے تھے اور دیگر گھریلو سرگرمیوں میں مشغولیت رہتی۔ امتحانات اگر اچھے ہوئے ہوتے تو نئے کپڑے اور ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لے کر سکول جاتے، اگر فیل ہونے کا خدشہ ہوتا تو عام کپڑے پہن کر چلے جاتے۔ اس زمانے میں اسمبلی میں سارے بچوں کے نتائج کا اعلان ایک ساتھ ہوتا تھا، ہر جماعت کے پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن اور ناکام ہونے والے طلبہ کا نام پکارا جاتا تھا اور باقی سب کامیاب ہیں، کا اعلان ہو جاتا تھا۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں سکولوں میں نئی جماعتوں کی پڑھائی کا آغاز ہو جاتا۔ نئی کتابیں اور کاپیاں خرید کر ان کی جلدیں کروا لیتے اور کاپیوں پر خاکی کاغذ چڑھا لیتے۔ کم وسائل والے طلبہ پاس ہونے والے طلبہ سے پرانی کتابیں لے کر اپنا کام چلا لیتے تھے۔ مارچ کے مہینے میں ہی میلہ بہاراں، میلہ مویشیاں اور مختلف قسم کی نمائشیں اور کھیلوں کے مقابلے منعقد کئیے جاتے ہیں۔

مارچ کے مہینے میں بہت سے عالمی یوم بھی منائے جاتے ہیں جن کا مختصر تذکرہ مندرجہ ذیل ہے۔

یکم مارچ کو شہری دفاع کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد شہریوں کو شہری دفاع کی اہمیت اور اس کے طور طریقوں سے آگاہی دینا ہوتا ہے۔

8 مارچ کو مشترکہ طور پر یوم نسواں اور گردوں کی بیماریوں سے آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔ خواتین کے کردار کی اہمیت سے تو کسی کو انکار نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ گردوں کی صحت کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

15 مارچ کو حقوق صارفین کا عالمی دن ہے۔ جس کا مقصد حقوق صارفین سے آگاہی اور ان کا تحفظ ہے۔

21 مارچ کو یوم شاعری قرار دیا ہے گیا ہے تاکہ شعراء کو بھی اہمیت مل جائے۔

21 مارچ کو ارتھ آور بھی منایا جاتا ہے جس میں ایک گھنٹے کے لیے تمام بتیاں بند کر کے کرہ ارضی کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنانے کا اعادہ کیا جاتا ہے۔

22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد کرہ ارضی پر پانی کی مقدار کو بچانے اور اس کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے کوششوں کو بڑھانا ہوتا ہے اور عوام کو آگاہی دینا ہوتا ہے۔

23 مارچ کو پاکستان میں قرار داد پاکستان کی منظوری کی یاد میں یوم پاکستان منایا جاتا ہے۔ اس دن مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو قومی اعزازات بھی دیے جاتے ہیں۔

24 مارچ کو بطور عالمی یوم انسدادِ تپ دق منایا جاتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو تپ دق کی وجوہات علامات، علاج اور خطرناکی کے متعلق علم و آگاہی دی جا سکے اور اس طرح تپ دق کی روک تھام ہو جائے۔

31 مارچ کو لاہور میں شاہ حسین کے عرس کی تقریبات کے حوالے سے میلہ چراغاں منعقد ہوتا ہے۔

علم نجوم کے اعتبار سے 19 فروری سے 20 مارچ تک پیدا ہونے والے افراد برج حوت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ شمسی چکر کا آخری اور بارہواں برج ہے جس میں سورج 19 فروری سے لے کر 20 مارچ تک رہتا ہے۔ برج حوت میں پیدا ہونے والے افراد تصوراتی، وہمی اور لچک دار ہوتے ہیں۔ یہ جن سے محبت کرتے ہیں ان سے وفا دار بھی ہوتے ہیں۔ یہ تصورات میں اپنی زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان کی گفتگو نہایت عمدہ اور میٹھی ہوتی ہے۔ آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔ ہاتھوں کے اشارے سے گفتگو کرتے ہیں۔ دریا اور سمندر کے کنارے رہنا پسند کرتے ہیں اور ان کا خوش قسمتی نمبر 7 ہوتا ہے۔ برج حوت کی علامت دو مچھلیاں ہیں۔

Facebook Comments HS