یوم نسواں پہ کچھ اچھے مردوں کو سلام
عام عورت چاہے وہ ورکنگ ہو یا خاتون خانہ مجھے ہمیشہ مصلحت کی دریدہ چادر اوڑھے جبر کی مختلف صورتیں سہتی یہی کہتی ملتی ہے ”تم جانتی ہو یہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں“ یہ اعتراف نہیں اعتراف شکست ہے ؛ مرد کی بدزبانی پہ، اس کی پینترے بدلتی بلکہ کینچلی بدلتی فطرت اور بے وفائی پہ۔ یہ اعتراف شکست ہے اس کے رکھے ناروا سلوک پہ اور یہ سب سہ کر ہم اپنی بیٹیوں کو بھی یہی مصلحت بھری دانش سکھاتے سجھاتے ہیں ”سن بیٹی یاد رکھ۔ مرد ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔“
جب سے مگر ایسے دو تین صاحبان سے پے در پے واسطہ پڑا ہے اور ایسے صاحبان یقیناً دو تین نہیں یقیناً کافی مقدار میں ہوں گے تو اس یوم نسواں پہ دل چاہتا ہے کہ اک سلام تو ان کی خدمت میں عرض کر ہی دوں۔ آپ حیرت سے پوچھتے ہیں، یوم نسواں پہ کسی مرد کو خراج تحسین؟ جی بالکل یہی عرض کیا میں نے۔ یوم نسواں کا مقصد انسان کی ان دو اصناف کے درمیان جنگ تھوڑا ہی ہے۔ وہ دو اصناف جو ایک دوسرے کے وجود کو مکمل کرتی، ڈھانپتی اور اوڑھتی ہیں، ایک دوسرے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
اس دن کا مقصد تو بس پدرشاہی سماج کی سامراجیت کو للکارنا تھا اور احساس دلانا مقصود تھا کہ بالمقابل جسے روندا جا رہا ہے وہ بالکل تمہارے جیسا ہی انسان ہے اسی طرح سوچتا، سانس لیتا کھاتا پیتا، بدنی ذہنی روحانی ضروریات کے ساتھ جنما ہے۔
اس اٹل حقیقت کو سمجھنے اور ادراک کرنے والے مرد ہر دور ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہے جنھوں نے اس کچلی ہوئی عورت کو اپنے پندار کی کرچیاں سمیٹ کر پورے وقار سے کھڑے ہونے میں مدد دی، کبھی شفقت پدری کی صورت، کبھی بھائی جیسے تناور پیڑ کی صورت اور کبھی شریک سفر کی چھاؤں کی صورت کبھی خود سے جنمے بیٹے کی شکل میں جب یہ راہ کے کانٹے چننے لگے۔ اس یوم نسواں پہ پے درپے ایسے کچھ صاحبان سے مل کر دل چاہتا ہے کہ آج اک سلام اک اعتراف ان کی نذر ہی کردوں۔
یہ مرد بھی تو اس پدر شاہی سماج میں ہم جیسی مجبور غلام ذہنیت کی عورتوں کی کوکھ سے جنم لیتا ہے گود میں پرورش پاتا ہے، انہی محاوروں، سلینگ، طعنوں تشنوں، اسی ماحول میں جوان ہوتا ہے جہاں پل پل اسے احساس دلایا جاتا ہے بیٹا مرد بن مرد، گویا مرد نہ ہو گیا کوئی خونخوار درندہ ہو گیا، جسے طاقت، اختیار، ظلم اور جبر کی چاٹ لگی ہو اور جس کے پاس یہ صلاحیت جتنی زیادہ ہے اتنا ہی وہ معاشرے میں کامیاب ہے اور یہ بے ہنگم معاشرہ جسے معاشرہ نہیں ہجوم کہنے کو جی چاہتا ہے کہ جہاں کسی قانون کی پاسداری نہیں، جہاں مذہب، اخلاق قانون سب انسانی استحصال کے لیے استعمال ہوتے ہوں تو اس ہجوم میں یہ ہمارے جنمے بیٹے، ہمارے بھائی، ہمارے باپ، ہمارے شوہر اس معاشرے کے عام مرد، طاقت اور قوت و اختیار کے اظہار کے ساتھ ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔
اور انہی مردوں میں کچھ ایسے لوگ ایسے انسان آپ کو ٹکرا جاتے ہیں جو اپنے گھر کی ایک مضبوط عورت جو پورے وقار، پورے قد سے کھڑی ہے اپنا فعال کردار ادا کر رہی ہے، خاموشی سے اس کی ڈھال بنے ہوئے ہیں۔ یہ خود خاموشی سے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے ہیں اور اپنی صاحبہ کو مکمل اعانت اور تحفظ و اعتماد عطا کر رہے ہیں۔ یہ لفظوں میں نہیں اپنے عمل سے کہتے ہیں تم چلو جیسے چلنا چاہو میں ہوں نہ تمہارے ساتھ۔
اور جب یہ آپ سے ملتے ہیں تو ایک جھینپی جھینپی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے کہیں گے ”آپ جانتی تو ہیں ہماری میڈم کو شوق ہے ورنہ ضرورت تو نہیں ہے مگر میں کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے آپ کو شوق ہے تو آپ کیجیے جو آپ کو کرنا ہے۔“
اور گو کہ یہ بڑا متنازعہ سا جملہ ہے، اس پہ بہت بحث اور بات کرنے کو دل چاہتا ہے۔
شوق۔ کام۔ کام کی ضرورت۔ عورت کے کام کی ضرورت کو کب تسلیم کیا جائے گا!
کیا اس معاشرے کو فعال ورکر کی صورت عورت کی احتیاج نہیں؟
کیا استاد، ڈاکٹر، نرس اور دیگر روایتی پیشوں کے علاوہ سماج میں عورت کی افرادی قوت سے انکار کیا جا سکتا ہے؟
وہ کھیتوں میں بھی ہے، تندور پہ بھی بیٹھی ہے، ہوٹل ڈھابے پہ بھی، صفائی بھی کر رہی ہے، ویٹر بھی ہے ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں بھی ہے، ایسے بہت سے شعبے ہیں جہاں عورت ورکر ہی درکار ہے۔
تو پھر آفس میں، ادب میں اور دیگر غیر روایتی شعبوں میں اس کے کام کو شوق کہہ کر اس کی اہمیت کم کیوں کی جائے۔ کیوں سماج یہ گنجائش اپنے اندر پیدا نہ کرے کہ عورت بطور انسان اپنی دی ہوئی صلاحیتوں سے اسی طرح فائدہ اٹھائے جیسے کہ مرد اور اس کے کام کو شوق نہیں بلکہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
نہیں مگر نہیں ایسے جوانوں پہ ان کی شرمندہ سی مسکراہٹ پہ پیار آتا ہے۔ آخر وہ صدیوں کی عادت و روایت کی زنجیر سے بندھے ہیں، اسی معاشرے کے انسان ہیں۔ انسان جسے کمزور پیدا کیا گیا، یہ وہ باہمت لوگ ہیں جو اس زنجیر کو توڑ کر نہ سہی کمزور کر کے اپنی عورت کو راستہ اور گنجائش دیتے ہیں، اس کے کام اس کی صلاحیت کو عزت دیتے ہیں اور اس کی خاطر لوگوں کے طعنے تشنے سنتے ہیں۔
ان اچھے مردوں کو ایک سلام تو بنتا ہے۔


