درد کا رشتہ
ایک تو زندگی کا سفر ہے جو موت کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے اور ایک موت نامی حقیقت کے ساتھ آگہی کا سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ جو دوسرا سفر ہے یہ درد کے رشتے سے عبارت ہے اور اس رشتے سے ہر کوئی بندھا ہے جس نے کسی اپنے کو کھویا ہو۔
ہمارے ہاں اس درد کے رشتے کے اظہار کو افسوس یا افسوس کرنا کہتے ہیں۔ جس طرح وقت کے ساتھ باقی باتیں بدلی ہیں اسی طرح افسوس کی بھی صورتیں بدل گئی ہیں۔ میرا تو خمیر گاؤں سے اٹھا ہے اس لیے بات بے بات زندگی کی فلم ریوائنڈ ہو جاتی ہے۔
موت جس کو شاید اثر کم کرنے کے لیے یا عزت دینے کے لیے، وفات کہا جاتا ہے کی کئی صورتیں بیان کی جا سکتی ہیں، کوئی جان لیوا بیماری، کہیں سنگین حادثہ، کبھی قتل جیسا قبیح فعل یا کبھی شہادت جیسا رتبہ۔ مجھے مگر وفات کی دو ہی صورتیں سمجھ میں آتی ہیں، مہلت کے ساتھ یا پھر بغیر مہلت کے۔
والد کی وفات نے کسی کو مہلت نہیں دی، نا جوان بیوی کو اور نا بوڑھے والد کو اور مجھے تو تین برس کی عمر میں نا والد کا ہونا یاد ہے اور نا ہی جانا۔ وفات کے دن کی صرف ایک تصویر اب بھی آنکھوں میں ہے۔ میں اور مجھ سے ایک برس بڑی چچازاد بہن دالان میں پڑے لکڑی کے تختوں پر کھیل رہے ہیں اور برامدے میں بہت سی عورتیں سر جھکائے بیٹھی ہیں۔ بہت بعد میں پتا چلا کہ لکڑی کے تختے اس شخص کو آخری غسل دینے کے لیے ہوتے ہیں جو انسان سے لاش بن گیا ہے۔ اس کے بھی بہت بعد والد کی قبر پہ پہلی دفعہ گیا۔ سفید سنگ مرمر پر گل کاری اور دعاؤں کے نیچے ایک شعر درج ہے
وائے اے گلچین اجل کیا خوب تھی تیری پسند
پھول وہ توڑا کہ ویراں کر دیا سارا چمن
باوجود اس کے کہ والد کے بھری جوانی میں جانے کے بعد واقعی خاندان کا سارا چمن ویران ہو گیا اور والدہ سمیت اہل خانہ کو درد کا نا ختم ہونے والے سفر درپیش آ گیا مجھے مگر اس درد کا اندازہ نہیں ہوا۔ بلکہ مجھے درد سے زیادہ کمی کا احساس رہا۔ گھر کے سربراہ کی کمی، وسائل کی کمی، رہنمائی اور احساس کی کمی اور کچھ دوستوں کو دیکھ کہ لگا کہ سختی اور تکلیف کی کمی۔ میں نے تو آنکھ ننھیال میں کھولی جہاں پر کھیت، اسکول اور پڑھائی وغیرہ کے مسائل تھے مگر براہ راست موت کا سامنا دوسروں کے حوالے سے ہی دیکھا۔
بلھے شاہ میں مرنا ناہیں میری گور پیا کوئی ہور
مجھے وفات اور اس کے بعد کی سرگرمیوں سے تجسس رہا اس لیے بغیر بتائے ہر چیز نوٹ کرتا۔ گاؤں کا قبرستان اور پرائمری اسکول ایک ہی قطعہ زمین پر بنائے گئے جو بذات خود کلر کہلاتا تھا۔ کلر سیم اور تھور کا شکار زمین کو کہتے ہیں۔ چونکہ زمین کا کوئی اور مصرف نہیں تھا اس لیے گاؤں والوں نے اجتماعی کاموں کے لیے کلر زمین رکھ چھوڑی تھی۔ قبرستان کی حد سفیدی کی لہر تھی جو جوتوں پر چڑھ جاتی اور دھونے پر اور گہری ہو جاتی۔ ایک کونے پر جہاں سفیدی ختم ہوتی گاؤں کا پرائمری اسکول اور ایک نلکا تھا جس کو گیڑنے (پنجابی لفظ جس کا مترادف نہیں ہو سکتا ) پر گرمیوں میں بھی فریج جیسا ٹھنڈا پانی آتا۔ ویسے منظم دیہات میں ان اجتماعی کاموں کے لیے شاملات زمین بھی چھوڑی جاتی ہے جس پر اکثر گاؤں کا با اثر خاندان قبضہ کر لیتا ہے۔ مرنے والوں کا حق مارنے کے دیگر مروجہ طریقوں کے ساتھ قبرستانوں پر قبضہ بھی ہمارا ہی خاصہ ہے۔
میں نے پاکستان بھر میں قبرستان دیکھے ہیں مگر زیادہ تر میں ویران اور اجاڑ پن ہی دیکھا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ ہم جیسے سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی اور ملک ہے جہاں کوئی اور قوم دفن ہے۔ اگلے روز ایک عزیز کی وفات پر ایک خوشحال دیہہ کے قبرستان جانا ہوا۔ ہر طرف سرکنڈے اور جھاڑیاں، گڑھے پڑے ہوئے اور قبروں کے بیچ راستہ ندارد۔ اسلام آباد کا قبرستان کچھ منظم ہے مگر سب سے زیادہ تنظیم ڈی ایچ اے لاہور کے قبرستان میں دیکھی جس کو ایک چلبلا دوست قبرستانوں کا شاپنگ مال کہتا ہے۔
اگر قبرستان کا قصد سماجی مجبوری سے ہو تو پھر بندہ اردگرد غور زیادہ کرتا ہے۔ شہر میں قبروں کے کتبوں کا رواج دیہات سے زیادہ ہے اگرچہ اب دیہات میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ ابھی بھی شاید ایک طبقہ کچی قبروں کو مذہبی حوالے سے لازم سمجھتا ہے مگر عام انسان کی زندگی کے دو ہی بڑے مقصد ہوتے ہیں، ایک شناخت دوسرا پائیداری۔ سنگ مرمر کی پکی قبر اور اس پر لگا کتبہ انہی دو خواہشات کی تکمیل ہوتے ہیں۔ اردو کے نامور ادیب غلام عباس کا شاہکار افسانہ کتبہ اسی خواہش کا آئینہ دار ہے۔
قبروں کے کتبے اپنی ہی کہانی سناتے ہیں، کہیں عہدوں کی تفصیل تو کہیں ڈگریوں کی فہرست گویا آگے کے لیے سی وی بنایا ہو۔ دوسری طرف اکثر خواتین کو قبر میں بھی شناخت نصیب نہیں ہوتی، زوجہ فلاں، والدہ فلاں کے کتبے اب بھی نظر آ جاتے ہیں۔ میاں بیوی کی قبریں ابھی بھی اس طرح نظر آتی ہیں کہ طاقت کا توازن نا بگڑنے پائے کہ میاں کے پاؤں کی طرف ہی بیوی دفن ہیں۔ یہاں جینے کی پابندی وہاں مرنے کی پابندی۔ طبقاتی تقسیم قبرستانوں میں بھی در آتی ہے۔ گاؤں کے کلر زدہ قبرستان میں بھی چودھریوں اور کمیوں کے پورشن الگ الگ ہوتے ہیں۔ نوکری میں تو فرقوں اور مسلک کی بنیاد پر دفن کرتے وقت فساد تک دیکھے۔ قبروں پر آنے جانے پر بحثیں بھی معمول ہیں۔
خیر ذکر تھا وفات کا اور ایک طرح کی موت جو بغیر اطلاع دیے آتی ہے اور اپنے ساتھ حال اور مستقبل دونوں بہا لے جاتی ہے۔ پہلی اکثر جواں موت ہوتی ہے اور دوسری پیرانہ سالی کی موت۔ پیرانہ سالی بعض دفعہ اتنا انتظار کراتی ہے کہ جانے والا اور سنبھالنے والے اکثر تھک جاتے ہیں۔ میری دادی اور ان کی نند جن کو پھوپھو دادی کہتے تھے بیماری سے بہت سال بستر پر رہیں۔ ددھیالی گاؤں جا کر دادی کی پاس بیٹھتے تو وہ موقع پا کر سرگوشی کرتیں کہ خبر رکھنا حمید بی بی کا چلا چلاؤ ہے۔ جب چھوٹی دادی یعنی حمید بی بی کے پاس جاتیں تو وہ چچی کو دادی کی طرف دیکھ کر خبردار کرتیں کہ چاولوں کو دھوپ لگوا لو وقت کا کچھ پتہ نہیں۔ دونوں خواتین نے کم از کم ایک دہائی انہیں وارننگز کے ساتھ گزاری۔
ویسے اس دوسری طرح کی وفات میں ظاہر ہے افسوس کا لیول بھی بنیادی ہوتا ہے۔ گوجرانوالہ میں اکثر خاندانوں میں ایسے بڑے بزرگ جو بھرپور زندگی گزار کر رخصت ہوں ان کی آخری رسومات میں زردہ یا میٹھا بنایا جاتا ہے۔ میں نے کچھ بڑوں سے یہ بھی سنا کہ پچھلے زمانوں میں بزرگوں کی آخری رسومات میں کھیل تماشا اور جشن بھی ہوتا تھا۔ کہنے کو برا خیال نہیں۔ بھرپور زندگی کا صرف سوگ نہیں شکر بھی ادا کرنا چاہیے۔
وفات سے جڑی روایتوں میں سب سے سخت وفات اور تدفین کے درمیان کم سے کم وقفہ کا ہونا ہے۔ پہلے تو دنوں تک اطلاع ہی نہیں ملتی تھی۔ اب تو موبائل اور انٹرنیٹ پر فوراً اطلاع آ جاتی ہے مگر اس کے بعد پہلا سوال جنازے کے وقت کا ہوتا ہے۔ مغرب جہاں پر آخری رسومات کئی دن کے بعد ہوتی ہیں کے برعکس ہمارے ہاں اس میں بالکل دیر نہیں کی جاتی۔ اس لیے جنازہ علی الصبح سے آدھی رات کے درمیان کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔ پچھلے دنوں اسی طرح رات دیر کو خبر ملی، صبح اندھیرے اندھیرے اٹھ کر آبائی شہر پہنچا تو جنازہ پڑھایا جا چکا تھا۔ کچھ چڑ کر عزیز بزرگ سے شکوہ کیا کہ ایسی بھی کیا جلدی ہوتی ہے۔ انہوں نے صراحت سے آسمان کی طرف شہادت کی انگلی سے جواب دیا، پتر اس کی چیز تھی اس نے واپس لے لی اب جانے والی چیز کو روکنا امانت میں خیانت ہے۔ اتنی تعلیم کے باوجود اتنی سادہ سی بات مجھے سمجھ نہیں آئی تھی۔ جانے والے کا تو اگلا سفر تو شروع ہو چکا ہوتا ہے، جتنے جلدی ہو اتنا ہی مناسب ہے۔
ویسے میں جنازے میں شمولیت کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ بچپن میں مولوی صاحب نے فرض کفایہ کی تعریف میں نماز جنازہ کی مثال دی تھی اس لیے خیال آتا ہے کسی کو تو ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ مجھے نماز جنازہ سے پہلے مرحوم کے وارث کی طرف سے دو اعلانات ہمیشہ سے ہماری سماجی ذمہ داری کا خوبصورت اظہار لگتے ہیں۔ ایک لوگوں سے کہے سنے کی معافی اور دوسرا باقی ماندہ حساب کتاب کے بارے میں جانے والے کے وارثان کی طرف سے یقین دہانی۔ مقصد اس کا یہ ہے آگے جا کر بندہ اپنا حساب تو دے مگر دوسروں کا حساب اسی دنیا میں ادا کر جائے۔ ہر دفعہ جنازے میں یہ سن کر میں سوچتا ہوں کہ کاش ہم اس اعلان کو اپنی روز مرہ کی عادت بنا لیں۔ اکثر اپنے عزیز و اقارب سے پوچھیں، کہ کہا سنا معاف اور کوئی حساب ہو تو بتا دیں۔ مگر شاید ہمیں خوف ہے کہ کہیں کوئی ہمیں واقعی ہمارا حساب یاد نہ دلا دے۔
بچپن سے دیکھا کہ وفات کے بعد جسد خاکی کو گھر کے آنگن میں رکھا جاتا تھا۔ جہاں خواتین چارپائی کے اردگرد بیٹھ کر بین کر کر جانے والے یا جانے والی کو یاد کرتیں۔ بین کی آوازیں دور گلی میں ہی سنائی دے جاتیں۔ میں اکثر غور کرتا کہ بین ایک خاص ردھم کے مطابق ہوتے اور ایک مکالمے کی صورت میں ادا ہوتے۔ یہ مکالمہ جاننے والے کے ساتھ بھی ہوتا اور لواحقین کی ساتھ بھی۔ ویسے مرنے والے کے لواحقین با آواز بین نہیں کرتے بلکہ یہ مکالمے ان خواتین کی طرف سے آتے جن کا اپنا رشتہ کچھ دور کا ہوتا۔ دالان میں نئے فرد کی آمد کے ساتھ گلے لگ کر نیا مکالمہ شروع ہوتا۔ بین خواتین کی ہی ذمہ داری ہوتے، مرد صرف دبے دبے آنسو بہاتے۔ میں اکثر یہ بھی غور کرتا کہ اگر وفات پانے والا مرد ہوتا تو بین میں شدت بھی زیادہ ہوتی۔
بین کے ساتھ ساتھ سینہ کوبی بھی عام تھی جسے گاؤں میں سیاپا کہا جاتا جس میں خواتین سر یا سینے پر ہاتھ مارتے یا مرنے والے کی چارپائی کے پایوں سے سر ٹکراتے۔ افسوس کی اس شکل میں پیچھے رہنے والا جانے والے کی وفات پر تاسف کا اظہار کرتے خود کو گویا سزا بھی دیتا کہ جانے والے کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ سیاپا لفظ عام فہم پنجابی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کہیں بے وجہ شور شرابا اور واویلا ہو تو کہتے ہیں کہ کیا سیاپا ڈال رکھا ہے۔
شہر آ کر اس طرح کے بین نہیں دیکھے۔ فلموں میں انگریزوں کی آخری رسومات میں جو ٹھہراؤ نظر آتا ہے اس کو دیکھ کر اکثر گفتگو بھی ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں شاید بہت شور شرابا اور ہنگامے کی سی صورت ہوتی ہے۔ مگر میرا یہ بھی خیال ہے کہ ہر خطے کی آخری رسومات اس کی ثقافت سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر ہم وفات کی خبر کے ساتھ سدھ بدھ کھو دیتے ہیں یا پھر افسوس کا اظہار با آواز بلند کرتے ہیں تو وہ ہمارے رہن سہن کا خاصہ ہے۔ مجھے اب اس پر خاص اعتراض کی وجہ میں وزن نہیں لگتا۔
زنان خانے کی طرف اگر بین ہو رہے ہوتے تو مردوں کی طرف ٹھہراؤ اور سوگ کا منظر ہوتا۔ کوئی قریبی رشتہ دار آتا تو آہوں اور سسکیوں کی آواز آتی۔ سوگ کے دوران آخری سفر کا بندوبست جاری رہتا۔ سفید رنگ کا کفن کہیں سے برآمد ہوتا مگر کفن میں منتقلی سے پہلے غسل ضروری ہوتا ہے۔ غسل گھر کے اندر ہی دیا جاتا ہے اور وفات پانے والے مرد کے قریبی مرد رشتہ دار جبکہ خاتون کی صورت میں قریبی خواتین غسل دیتی ہیں۔ میں نے ایک دفعہ کچھ غلطی اور کچھ تجسس سے غسل دینے میں حصہ لیا۔ وفات سے جڑی بے بسی اور عبرت کا اصل احساس غسل دینے کے وقت ہوا اور آج تک بھی باقی ہے۔ دوبارہ کبھی ایسی ہمت نہیں کی۔
سفید کفن جس کے ایک سرے کو پیروں کی طرف ہلکی سی گانٹھ دی جاتی۔ پیروں کے انگوٹھوں کو اکثر دھاگے سے باندھ دیا جاتا۔ چہرے کی طرف ایک گول سا ہالا بنایا جاتا۔ کبھی کبھی جسد خاکی کی ناک میں روئی کا پھاہا رکھ دیا جاتا جو سردی اور خوف کا تاثر دیتا۔ جسد خاکی کا چہرہ دیکھنا جس کو منہ دیکھنا کہا جاتا ہے، بھی وفات کی رسموں میں اہم رسم ہے۔ افسوس کے لیے آنے والا فرد سب سے پہلے چہرہ دیکھتا۔ مرے کا منہ دیکھنے پر بھی اردو اور پنجابی کے کئی محاورے ہیں۔
مجھے جسد خاکی کے چہرے ہمیشہ پیلے پیلے لگتے تھے۔ لڑکپن بلکہ نوجوانی تک میں رسماً ضرور منہ دیکھتا۔ اب ہمت نہیں رہی۔ اس وقت بات اوروں کی تھی اب ہر شاید موت کی حقیقت سے آشنائی زیادہ ہے۔ مجھے ہمیشہ جسد خاکی کو کفن میں لپٹے دیکھ کر فیض کا لازوال شعر یاد آتا ہے
کرو کج جبیں پہ سر کفن میرے قاتلوں کو گماں نا ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
جنازے کا وقت آنے پر مرد رشتہ دار قطار بنا کر گھر کی اندر آتے اور چارپائی اٹھاتے۔ یہ منظر دکھ اور افسوس کی انتہا بن جاتا۔ جس گھر میں جانے والا پیدا ہوا، اٹکھیلیاں کی، خوشیاں دیکھیں، بڑا ہوا اب وہاں سے آخری دفعہ اوروں کے کاندھوں پر لے جایا جا رہا ہے کبھی نا واپس آنے کے لیے۔ جنازہ اٹھنے پر موجود ہر فرد کے جذبات بھر آتے۔ زمین پر خوش و خرم با اعتماد چلنے والا اب ایک خاکی وجود بن چکا ہے۔ جنازہ جب گھر کی دہلیز پار کرتا تو قرب و جوار سے بھی لوگ شامل ہو جاتے۔ گلی یا سڑک پر جنازہ آج بھی نظر آتا ہے تو لوگ رک جاتے ہیں اور دل میں آخری کلمات ادا کرتے ہیں۔ گاؤں میں چاہے قبرستان دور بھی ہوتا، جنازہ کندھوں پر ہی لے جایا جاتا۔ مجھے ہمیشہ ہر جنازہ وزنی ہی لگا، اس لیے اکثر جنازہ اٹھانے کی زیادہ ہمت نہیں کی۔ جنازہ کندھوں پر لے جانے کا رواج آج بھی برقرار ہے۔ کچھ ہی دن پہلے ایک گاؤں میں جنازہ میل بھر دور کندھوں پر ہی لے جایا گیا۔ شہر میں البتہ گھر اور قبرستان میں فاصلہ ہونے کی وجہ سے ایمبولینس استعمال ہوتی ہے۔
نماز جنازہ مختصر سا عمل ہے جس میں مولوی صاحب کچھ جانے والے کی خوبیاں اور کچھ دنیا کی بے ثباتی پر کلمات کہتے اور پھر نماز کا طریقہ بھی بتاتے۔ ان کو خود بھی احساس ہوتا کہ لوگ نماز جنازہ بھول چکے ہوتے ہیں۔ کچھ مولوی صاحبان تو ساتھ ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے دیکھے کہ لوگوں میں آخرت کا احساس ختم ہو گیا اور کسی کو نماز جنازہ کا طریقہ ہی یاد نہیں رہا۔
کچھ عرصہ پہلے ایک کولیگ کی والدہ کی وفات پر ان کی بیٹے نے مرحومہ کے بارے میں بات کی اور ان کی جدوجہد اور شخصیت کا ذکر کیا۔ مجھے لگا کہ اس سے وفات کی رسم میں پائے جانے والی بے گانگی اور سرد مہری کا احساس کم ہوا اور ایک اپنایت سی محسوس ہوئی۔ شاید بدلتے وقت کے ساتھ ان رسومات میں بھی تبدیلی آتی چلی جائے۔ افسوس اور اظہار افسوس اب جذباتی نہیں سماجی مجبوری ہے اس لیے ان رسومات کا مقصد بھی ’حاضری لگانا‘ رہ گیا ہے۔ جانے والے کے قریب کے عزیز وا اقارب دکھ میں ڈوبے ہوتے ہیں اور باقی احباب حاضری لگانے میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ درد کا رشتہ بس غرض کا رشتہ بن چکا ہے۔
مجھے شروع میں جسد خاکی کو قبر میں اتارتا دیکھنے سے ڈر لگتا تھا۔ اب وفات کی رسومات میں سب سے پر اثر سپرد خاک ہونے کا عمل لیتا۔ ادھر جنازہ پڑھا گیا، ادھر لوگوں نے لواحقین کو ڈھونڈنا شروع کیا، جو ملا اس سے زبردستی اور رسماً معانقہ کیا، روایتی بول ادا کیے اور گاڑی کی طرف ہو لیے۔ فون پہ ویسے کئی واٹس ایپ گروپس میں اہم گفتگو بھی جاری ہے اور آگے کہیں پہنچنا بھی ہے۔ دوسری طرف بچے کھچے درجن بھر لوگوں نے جنازہ اٹھایا اور کچی پکی راہوں سے قبر کی طرف چلے۔ شاید یہی حصہ اصل میں سفر آخرت ہے۔ رخت سفر بھی کوئی نہیں اور ہمسفر بھی مجبور۔ ہمیشہ فراز کا شعر قریبی رفقا کے آخری سفر پر کانوں میں گونجتا ہے
جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا یارا اس دن تھا
ہر درد نے دل کو سہلایا کیا حال ہمارا اس دن تھا
قبرستان میں قبر تیار ہے۔ آج کل قبر کے اندر اینٹوں کی چنائی ہوتی ہے اور پھر کنکریٹ کی سلیب سے ڈھکا جاتا ہے۔ مجھے بچپن کی کچھ قبریں یاد ہیں جن کے دو درجے ہوتے تھے۔ پہلے تین چار فٹ گہرا قبر کے سائز کا کھلا ہالہ اور پھر اس اندر سے ایک دو فٹ عمودا ایک اور حصہ جس میں جسد خاکی کو رکھ کر عمودا حصے میں ترچھی اینٹیں رکھ کر بند کیا جاتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ سوچ ہو کہ سیدھے کھلے ہالے میں شکست و ریخت جلدی ہو گی۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ شاید اس طرح کی قبروں کو بنانے میں گھر بنانے جیسی سوچ کار فرما ہو گی کہ اب یہ ٹھکانہ بھی تو گھر جیسا ہے اس لیے اس میں سونے کے کمرے سے پہلے کوئی راہداری وغیرہ ہونے چاہیے۔
خیر جنازہ قبر کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ کوئی متحرک ساتھی جوتے اتار کر قبر میں اتر گیا ہے۔ دونوں طرف جو گانٹھیں بنائی گئی ہیں ان کو دو اصحاب نے پکڑ رکھا ہے۔ کچھ اصحاب عادتاً ہدایات بھی دے رہے ہیں کہ سنبھال کر دیکھ کر وغیرہ وغیرہ۔ جو صاحب قبر میں کھڑے ہیں وہ جسد خاکی کی پشت پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ قبر میں اتار کر اپنے آپ کو بھی نکال رہے ہیں۔ سلیب لگانے سے پہلے جانے والے کے بیٹے یا بھائی کو بلایا جاتا ہے کہ آخری دفعہ چہرہ دیکھ لیں۔ حسب روایت اس موقعے پر خواتین موجود نہیں ہوتیں۔ میں نے صرف ایک دفعہ اسلام آباد میں دیکھا کہ جانے والے کی بیٹیاں تدفین کے وقت موجود بھی تھیں اور ایک نے اپنے والد کے جسد خاکی کو قبر میں بھی اتارا۔ اس رقت آمیز موقعے پر بھی ایک دو صاحبان نے نہیں نہیں مناسب نہیں کی سرگوشی کی مگر کسی نے کان نہیں دھرا۔
مجھے ذاتی طور پر تدفین کے موقع پر خواتین کی عدم موجودگی پر اصرار روایتی سی سوچ لگتا ہے۔ وہ بیٹیاں جنہوں نے باپ کے گود میں آنکھ کھولی، جو باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسکول گئیں، شادی کے وقت باپ کے کندھے پر سر رکھ کر روئیں، کیا اسی باپ کے سفر آخرت کے موقع پر موجود ہونا ان کا حق نہیں؟ کیا درد کے رشتے صرف بیٹوں پر لازم ہے؟
سیمنٹ کے سلیب رکھ کر قبر ڈھک دی گئی ہے۔ کچھ جگہ میں نے دیکھا کہ گارا ان درزوں پر جمایا گیا تا کہ مٹی اندر نا گر سکے۔ جسد خاکی کے سر اور پائنتی پتلی سے دو شاخیں بھی کھڑی کر دی جاتی ہے تا کہ قبر کے کناروں کا تعین ہو سکے۔ اب اوپر مٹی ڈالی جا رہی ہے۔ کوئی ساتھ کدال یا کئی کے ساتھ مٹی کے ڈھیلوں کو بھی توڑ رہا ہے کہ مٹی جمانے میں آسانی ہو۔ مٹی ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس کی ڈھلان بھی بنتی جار ہی ہے۔ ساتھ ساتھ پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے کہ مٹی جمتی چلی جائے۔ بہت بچپن میں اس بات پر حیران ہوتا کہ کیسا توازن ہے، جو مٹی قبر کے اندر سے نکلی وہی اب قبر کے اوپر ہے کیونکہ قبر تو اندر سے خالی رکھی گئی۔ اب اس عمر میں ہاتھوں میں کچھ مٹی بھر کر قبر کی طرف اچھال دیتا ہوں کہ جیسے صاحب قبر کو آخری سلام کر رہا ہوں۔
ادھر اب قبر تیار ہو چکی ہے۔ گلاب کے تازہ پھول بکھیر دیے گئے ہیں۔ اب مولوی صاحب دعا کرا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نماز جنازہ کے وقت مولوی صاحب بتا چکے ہیں کہ جنازے کے دوران دعا نہیں پڑھی جائے گی بلکہ تدفین کے ساتھ دعا پڑھنا بہتر ہے۔ اسی لیے تدفین سے پہلے جب لواحقین سے تعزیت تو ہوتی ہے مگر دعا نہیں کی جاتی کیونکہ ابھی تک مرحوم کا سفر آخرت شروع نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ہلکے قدموں سے بچے کھچے لوگ جانے والے سے رخصت لیتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ اس وقت لگا کہ دل کا بوجھ ہلکا ہوا ہے اور اب درد کے ساتھ رہنے کا آغاز ہے۔ میں آخری دفعہ قبر کی طرف مڑ کر دیکھتا ہوں اور ہر دفعہ غالب کا شعر یاد آتا ہے۔
مقدور ہو تو پوچھوں میں خاک سے اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں نمایاں کیا کیے
گاؤں میں ابھی وفات کی آخری رسم باقی ہے، وہ ہے کھانا۔ پہلے مجھے کچھ حیرانی اور کچھ کوفت ہوتی تھی کہ ادھر تدفین ہوئی ہے اور ادھر کھانا شروع ہو گیا ہے مگر اب کھانے کا جواز سمجھ میں آتا ہے۔ دیہات میں لوگ جنازے میں شرکت کے لیے دور دور سے پہنچتے، واپسی کا سفر بھی طویل ہوتا اس لیے کھانے کا انتظام ضروری ہوتا۔ پھر جنازے کے فوری بعد کھانے کا ایک علامتی پہلو بھی ہے اور وہ ہے زندگی کے سفر کا جاری و ساری رہنا۔ کسی کے بھی جانے کے بعد روز و شب کا معمول نہیں رکتا یہی قانون قدرت ہے اور یہی درد کے رشتے کو کم کرنے کا سبب بھی ہے۔
تدفین کے کھانے کا ایک اور معاشرتی پہلو بھی ہے وہ ہے اس کھانے کا انتظام جو کہ لواحقین نہیں بلکہ چچا کا خاندان کرتے ہیں۔ رمز اس کی یہ ہے کہ جانے والے کے اہل خانہ اس وقت رنج میں ہیں اس لیے یہ ذمہ داری عزیزوں کی ہے۔ اس رسم کو گاؤں میں کوڑا وٹا یا اردو میں ترجمہ ہو تو کڑوا گھونٹ کہا جاتا ہے۔ مجھے اس رسم میں باہمی ہم آہنگی کا تاثر اچھا لگتا ہے۔
گاؤں میں اب قریبی لوگ رہ گئے ہیں۔ بیٹھک یا ڈیرے پر زمین پر صفیں بچھا دی گئیں اس انتظام کو پنجابی میں پھوڑی کہا جاتا ہے۔ کسی سے افسوس کے لیے جانے کو بڑے بوڑھے کہتے کہ مکانی جا رہا ہوں۔ جانے وفات کے لیے اس اصطلاح کا ماخذ کیا ہے۔ اگر مکانی یا جائے وفات دور ہوتا تو کئی روز وہاں رہا جاتا۔
اب تو رواج بدلتا جاتا ہے مگر پہلے بہت دن تک پھوڑی میں زمین پر ہی بیٹھا جاتا۔ مجھے زمین پر بیٹھنے کی رسم کا نفسیاتی طور پر مثبت اثر محسوس ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ غم آہستہ آہستہ ہلکا ہو رہا ہے۔ درد کا رشتہ ایسی کیفیت ہے کہ اس کو یک دم چھوڑ بھی نہیں سکتے اور اس میں کھو بھی نہیں سکتے۔ یک دم چھوڑ دیں تو ایسی ٹیسیں رہ جاتی ہیں جو بعد میں ظاہر ہوتی ہیں اور ذہن و دل کو لپیٹ لیتی ہیں۔ اگر اس درد کے سامنے فوری ہار مان لیں تو علیحدہ ناقابل واپسی شکست و ریخت ہوتی ہے۔
پھوڑی یا جائے افسوس پر لوگ آتے رہتے ہیں۔ اہل خانہ میں سے کوئی ایک ہر وقت وہاں بیٹھا رہتا ہے۔ بیٹھک یا ڈیرے کا دروازہ کھلا ہے کہ آنے والا کو نظر آتا رہے۔ گاؤں میں ان دنوں بڑے بوڑھے پھوڑی پر ہی ڈیرہ جمائے رکھتے۔ نیا آنے والے فرد آتے ہی دعائے مغفرت کرتا، حاضرین سیدھے ہو کر دعا کرتے، اظہار افسوس ہوتا، کچھ جانے والے کا ذکر ہوتا مگر اس کے بعد عام روز مرہ گفتگو چلتی رہتی۔ مجھے بچپن میں پھوڑی پر بیٹھنا اور اس طرح اظہار افسوس کرنا روایتی سماجی مجبوری لگتا۔ اب مجھے لگتا ہے کہ اس میں بھی رمز ہے کہ لواحقین کو آہستہ آہستہ نارمل زندگی کی طرف واپس لائیں۔ اکثر مذہبی حوالوں سے تدفین کے بعد رسموں کے حوالے سے اختلافات رہتے ہیں۔ مجھے فروعی مسائل سے قطع نظر البتہ یہ لگتا ہے اس طرح بیٹھنا، اظہار افسوس اور دلجوئی کرنا، دور دور سے لواحقین سے ملنے آنا اس گھاؤ کے بھرنے کے طریقے ہیں جس کے بعد زندگی پہلے جیسے تو نہیں ہو سکتی مگر جس کا بھرنا بھی ضروری ہے۔
تدفین کے بعد ایصال ثواب کے لیے قل، دسواں اور چالیسواں کے ختم ہوتے ہیں۔ بعض جگہ ان کو تیسرا اور ساتواں کہا جاتا ہے۔ مجھے ان رسومات کے آغاز کے دو مقصد سمجھ میں آئے ایک تو یہ کہ پہلے ذرائع آمدورفت محدود اور عزیز و اقارب دور دور ہوتے۔ اکثر لوگ جنازے یا تدفین پر پہنچ نہیں سکتے تھے، دوسرا نفسیاتی اور سماجی پہلو کہ غم زدہ خاندان آہستہ آہستہ روزہ مرہ کی سرگرمیوں میں واپس آئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے تدفین کے بعد کی رسموں کا آغاز ہندوستان کے اپنے مذاہب کا ہی خاصہ ہے جس کا آغاز روح اور اس کے سفر کے حوالے سے ہے۔ بیرون ملک تعلیم کے دوران افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ساتھی اپنے ہاں وفات کی رسومات کا بتاتے تھے جو اسی طرح وقفوں وقفوں سے چلتی رہتی۔ شاید یہ رسومات روایتی اور فطرت سے جڑے معاشروں کا خاصہ ہے۔
میں درد کے رشتے کو زندگی کی حقیقت سمجھتا ہوں۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے ہر وہ فرد جس نے اپنے کسی پیارے کو کھویا ہو وہ وہ نہیں رہتا جو اپنے پیارے کی وفات سے پہلے تھا۔ ایسے فرد سے اظہار افسوس اس کی اس نئی شخصیت کے ہونے کا ایک اعادہ ہے۔ چاہے یہ تین لفظوں ’بہت افسوس ہوا‘ یا انگریزی رواج میں آئی ایم سوری کہنا ہی کیوں نا ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ جب تک ایسے فرد سے درد کے رشتے کا ادراک نا ہو تعلق کا اعادہ نہیں ہوتا۔ اکثر مشہور اور دنیا دار دوستوں کے والدین کی وفات پر جب بالمشافہ اظہار افسوس ہو تو فوراً ہی ان کے اندر سے ایک چھوٹا بچہ نکل آتا ہے جو سب کچھ ہونے کے باوجود اب بے سروسامانی محسوس کرتا ہے۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، حاکم ہو یا رعایا، درد کے اس رشتے میں ہم سب بندھے ہیں۔ اس رشتے کو نبھانا سماجی فرض بھی ہے اور قلبی ضرورت بھی ہے۔
بڑا ہے درد کا رشتہ، یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پر آئیں گے غمگسار چلے


