کریں گے اھل نظر تازہ بستیاں آباد


ازل سے کائنات میں پانی انسانی زندگی کی ضمانت رھا، اگرچہ طوفان نوح نے سلسلہء زیست کو درپیش اس مہلک خطرے سے بہت عرصہ پہلے ھی آگاہ کردیا تھا مگر ناگزیر شرط زندگی کے طور پر یہ ترجیحات انسانی میں اولیں اور تابع ضرورت رھا. اور موسموں کی شدت کے ساتھ کم یا زیادہ بادوباراں کے نتیجے میں خُشک سالی اور سیلاب دونوں کو مشیتِ ایزدی سمجھتے ھوئے نبھایا گیا۔

اکیسویں صدی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے حجم، اوقات اور شدت میں وسیع تر تبدیلیوں سے مقامی سطح کے قدرتی جاذب نظام اور اسٹرکچر فیل ھو نا شروع ھو چکےھیں اور حکومتیں اور عالمی ادارے ان تبدیلیوں سے نبُرد آزمائ میں کوشاں ھیں

۲۰۲۲ میں رُونما ھونے والی انسانی آفت بھی ایسے ھی سیلابِ بلا کا نتیجہ تھی جس میں پاکستان کے صوبہ سندھ کی زمینیں اور ان پہ بسنے والی آبادی بڑے پیمانے پہ متاثر ھوئ۔ 

صوبے میں سیلاب کے بعد کی صورت حال انتہائئ سنگین رہی جہاں مجموعی اور ماھانہ بارشوں کی تاریخی اوسط 30 سالہ تاریخ میں 400فیصد سے زیادہ رھی۔ایک غیر معمولی اور تباہ کن موسمی تبدیلی جو

شدید سیلاب، انفراسٹرکچر کو نقصان، اور بڑے پیمانے پر انسانی بے گھری کا سبب بنی تیس میں سے چوبیس اضلاع آفت زدہ قرار پائے 

جانی نقصان، زرعی فصلوں کی مکمل بدحالی اور نیم پختہ اور بکھرے ھاؤسنگ اسٹرکچر کا مکمل خاتمہ نہ صرف ایک مسلسل معاشی امداد بلکہ مستقل بنیادوں پہ قائم طویل مدتی ھاؤسنگ  اسٹرکچر کا طلبگار تھا 

عارضی  پناہ گاھوں اور فوری طبی امداد کے ساتھ ھی نئے اور مضبوط ھاؤسنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور آفات کے لیے تیاری کو بہتر بنانے کے طویل مدتی اقدامات بھی ناگزیر اھمیت کے حامل سمجھے گئے

ایسے میں عالمی اداروں کی توجہ اور تعاون کی فوری ضرورت تھی تاکہ انتہائ درجے کے انسانی بحران سے کماحقہ نپٹا جا سکے۔اپنی مادرمہربان اور مسلم ممالک کی اولین خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور نانا کی روایت کا امین بلاول بھٹو نے سیلاب زدگان کی مشکلات کا اندازہ (جو اس وقت وزیر خارجہ تھے)لگایا سندھ حکومت اور متعلقہ محکموں سے ضروری گفت و شنید کے بعد بحالی کے ایک فقیدالمثال منصوبے کا آغاز ھوا یوں  سندھ پیپلز ھاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) قائم ھوئ

نئے ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق سیلاب متاثرین کے لئے تقریبا اکیس لاکھ مضبوط اور پائیدار مکانات کی تعمیر نو کا ھدف درپیش تھا۔ بحالی کے عمل میں ورلڈ بینک، ایشین ڈیویلپمنٹ بینک اور انفرادی شراکت داروں کی مالی اور تکنیکی معاونت پہ بھروسے پہ کام کا آغاز ھوا

گاؤں کی سطح پہ تعمیر نو کمیٹیاں قائم کی ہیں،تاکہ نچلے درجے کی آبادیوں کو گاؤں کی سطح پر گھر بنانے میں مدد فراہم کی جا سکے اور تعمیر نو کے عمل میں سماجی یکجہتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

58% مرد (125,515) اور 42% خواتین (91,149) پر مشتمل یہ VRCs بحالی کی کوششوں میں کمیونٹی کی مضبوط شرکت کو فروغ دے رہی ہیں۔

این آر ایس پی، ایس آر ایس او، سیف کو، ھینڈز جیسی نمایاں سماجی امداد کی تنظیمیں اس بڑے منصوبے میں حکومت سندھ کی شریک کار ھیں

منصوبہ سازوں اور کاراندازوں کی گزشتہ دو سالوں کی کارکردگی کا احاطہ کیا جائے تو ایک خوشگوار حیرت کا سامنا ھوتا ھے۔ جاگیردارانہ طبقے کی دوسری نسل سے تعلق رکھنے والے اور شہری و دیہی سندھ سے منتخب ھونے والے نوجوان بلاول بھٹو اور وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نہ صرف مغربی تعلیم سے آراستہ بلکہ سندھی عوام خصوصا نچلے طبقے کے مسئل سے آگاھی رکھتے ھیں۔ سی ای او/ چئیرمین خالد محمود شیخ ایک خالص پروفیشنل سول سرونٹ ھیں۔ منصوبے کی شفافیت اور جواب دھی کے عالمی منظم اصولوں کی پیروی کرتے ھوئے اور

جدید ٹیکنالوجی کے زریعے بینیفشریز کی شکایات کے تدارک اور شراکت کے نظام پہ یقین کامل کے ساتھ بتدریج اھداف کے حصول کے لئے بر سر پیکار ھیں۔

اجمال اس بیانئیے کا یہ ھے کہ ھمارے خطہء پوٹھوھار یعنی سالٹ رینج کے نوجوان ملک نجف خان اس منصوبے میں چیف آپریشن آفیسر مقرر ھوئے گزشتہ دو دھائیوں سے بعد از آفات انتظام و انصرام کا وقیع تجربہ رکھتے ھیں۔ ۲۰۰۵ کے زلزلے اور بعد ازاں نیپال میں بحالئ متاثرین میں فعال کردار ادا کر چُکے ھیں۔اس صدی کی اب تک کی مہلک ترین آفت کووڈ ۱۹ میں وفاقی سطح قائم نیشنل ڈسساسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی NDMA کا حصہ رھے 

آفات ارضی و سماوی کے بعد پیدا شدہ انسانی بحران کے ماھر گنتی کے چند افراد ملکِ عزیز میں موجود ھیں جن میں ملک نجف خان کا شمار ھوتا ھے۔

(جاری)

Facebook Comments HS