ڈاکٹر خالد سہیل کا فلسفہ گرین زون
میں نے کچھ دنوں پہلے آن لائن کورسز کے بے فائدہ ہونے پر لکھا اور آپ کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ مجھے اس امر کی پوری سمجھ ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے وہ کورسز آخری امید ہوتے ہیں، انہیں لگتا ہے انہیں لینے کے بعد وہ بہتر محسوس کریں گے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ آن لائن کورسز سے بہتر چیز کا مشورہ ہے میرے پاس۔
یہ ہے گرین زون فلاسفی۔
ڈاکٹر خالد سہیل پاکستانی نژاد کینیڈین ماہر نفسیات اور تھراپسٹ ہیں۔ مجھے تین سال پہلے ان کے بارے میں ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا تھا۔ اسی نے میرے ساتھ ان کی کتابیں شیئر کیں۔ بعد میں میں نے ان کے ”ہم سب“ پر شائع ہونے والے بلاگز اور آرٹیکلز پڑھے جو ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں کافی معاون ثابت ہوئے۔ ڈاکٹر خالد سہیل تقریباً چار عشروں سے لوگوں کے ذہنی مسائل سلجھانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں، ان کے پاس بذریعہ تھیرپی علاج کا طویل تجربہ ہے۔ یہ سوشل میڈیا کے جعلی موٹیویٹر نہیں ہیں، اور نہ ہی انہوں نے کوئی آن لائن کورس بیچ کر غریبوں سے پیسے اینٹھنے ہیں۔ انہیں اپنے کام کی پوری سمجھ ہے اور ان کا کام انسان دوستی کے اصول پر کھڑا ہے، یہ کسی میکاولین سوچ کے پیروکار نہیں ہیں۔
یہ پس منظر ہے، اب آتے ہیں ان کے فلسفہ گرین زون کی طرف۔
ڈاکٹر خالد سہیل نے یہ فلسفہ ٹریفک سگنلز سے اخذ کیا تھا۔ جیسے ٹریفک کے تین سگنلز ہوتے ہیں ریڈ، ییلو اور گرین اسی طرح انسانوں کی ذہنی صحت و کیفیت کے تین زونز ہوتے ہیں۔
ریڈ: غصہ، ناراضگی، غم اور مایوسی والی کیفیت
ییلو: اداسی، بے دلی، خالی پن والی حالت
گرین: سکون، طمانیت اور خوشی کی حالت۔ انسان کا سیفٹی اور کمفرٹ زون۔
گرین زون فلاسفی اپنی ذات پر اپنا کنٹرول لینے کی مشق ہے۔ اپنے موڈ کو منفی افراد، واقعات اور چیزوں سے متاثر ہونے سے بچائے رکھنے کا فارمولا ہے۔ یہ اس ذہنی کیفیت کا نام ہے جب آپ اپنے آپ سے، اپنے اطراف کے لوگوں اور ماحول سے کھچے کھچے نہیں رہتے۔ آپ کا کسی سے اختلاف ہو تو آپ کسی عناد و فساد کا حصہ بننے کے بجائے اپنی ذہنی و جذباتی صحت کی پروا کرتے ہوئے اسے گفتگو اور ڈائیلاگ سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ناکام ہونے کی صورت میں آپ اس صورتِ وقت پر کڑھ کر خود کو یا دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اس سے قطعی الگ ہو جاتے ہیں۔
گرین زون تھیرپی سے ایک فرد زیادہ سے زیادہ دیر گرین زون کے اندر اور زرد اور سرخ زونز سے دور رہنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
میں نے ذاتی طور پر اس فلسفے کے اصول لاگو کرنے کے بعد اس کے مثبت اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔
گرین زون تھراپی کے تین ستون
ہیں :
Self Dependency/خود پر انحصار
Self Care/ اپنے خیال اور دھیان رکھنے کی ذمہ داری آپ لینا
Self Savior/ آپ اپنا نجات دہندہ بننا
یہ تھراپی اس لحاظ سے میری پسندیدہ ہے کہ اس میں ہمیں کسی دوسرے شخص کی مدد درکار نہیں ہے۔ کسی ڈاکٹر، کسی دوست، کسی ہمدرد یا سامع پر انحصار کے بجائے اپنے آپ پر انحصار کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
آپ ڈاکٹر خالد سہیل کو یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر سرچ کر سکتے ہیں۔ ان کی کتابیں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ گرین کمیونٹی ایک فعال کمیونٹی ہے، دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک کے لوگ اس کا حصہ ہیں، آپ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ گرین زون کمیونٹی کے لیے، مینٹل ہیلتھ کو بہتر کرنے کی غرض سے آن لائن اور آف لائن لیکچرز، ویب نارز، سیمینارز وغیرہ کرتے رہتے ہیں۔
The Black Hole
یوٹیوب چینل پر انہوں نے گرین زون فلاسفی پر کافی تفصیل سے بات کی ہے۔ مزید ویڈیوز اپنی دلچسپی کی بنیاد پر سرچ کر سکتے ہیں۔ ان کے مضامین آپ ”ہم سب“ ویب سائٹ پر سرچ کر لیں۔
گرین زون فلاسفی کو سمجھیں سیکھیں اور اسے زندگی میں لاگو کریں۔ یہ آن لائن کورسز سے بہتر آپشن ہے۔


