انصاف کی تاخیر آصف جاوید کی خودسوزی اور مزدور حقوق کی پامالی


Writing and Outlining

کہتے ہیں کہ انصاف کی تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ یہ مقولہ ہمارے سماجی نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں عام آدمی کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ جاتی ہے۔ آصف جاوید کی داستان بھی اسی تلخ حقیقت کا مظہر ہے۔

آصف جاوید، ایک محنت کش جو نیسلے کے کبیر والا پلانٹ میں ملازم تھے۔ 2016 میں جب انہوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور مزدوروں کی یونین بنانے کی کوشش کی تو انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک مزدور نے اپنے حق کے لیے قانونی جنگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے لیبر کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جہاں 2019 میں عدالت نے ان کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم دیا۔ لیکن نیسلے نے اس فیصلے کو نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن (NIRC) میں چیلنج کیا جو 2020 میں مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد ، نیسلے نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جو پانچ سال سے زیر التوا تھی۔

انصاف کی اس طویل تاخیر نے آصف کی زندگی کو مشکلات کے بھنور میں دھکیل دیا۔ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے انہوں نے اپنی گاڑی اور پھر گھر بیچ دیا۔ ان کے چھ بچے ہیں جن کی تعلیم اور پرورش متاثر ہوئی۔ جب تمام راستے بند نظر آئے اور انصاف کی امید دم توڑ گئی تو 26 فروری 2025 کو آصف جاوید نے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ دو دن بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

یہ واقعہ ہمارے نظام انصاف اور سماجی بے حسی پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک مزدور جو اپنے حقوق کے لیے قانونی جنگ لڑ رہا تھا اسے انصاف کی دہلیز پر موت کو گلے لگانا پڑا۔ کیا یہ ہمارے سماجی نظام کی ناکامی نہیں؟ کیا مزدوروں کے حقوق کی بات کرنا جرم ہے؟ آصف جاوید کی خودسوزی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں انصاف کا حصول کتنا مشکل ہو چکا ہے۔

نیسلے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے قانونی راستہ اختیار کیا اور آصف کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن کیا ایک بڑی کارپوریشن کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ایک مزدور کی زندگی کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھا کر اس کی زندگی کو اجیرن بنا دے؟ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک مزدور کو اپنے حق کے لیے اپنی جان کی قربانی دینی پڑے؟

آصف جاوید کی بیوہ اور بچے اب کس حال میں ہیں؟ ان کی زندگی کیسے گزر رہی ہے؟ کیا ان کے لیے کوئی آواز اٹھائے گا؟ کیا ہمارا سماج ان کے درد کو محسوس کرے گا؟ یہ سوالات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نظام انصاف کو بہتر بنائیں، تاکہ آئندہ کسی آصف جاوید کو اپنی جان کی قربانی نہ دینی پڑے۔ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کارپوریشنز کو جوابدہ بنایا جائے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کیا جائے تاکہ عام آدمی کا نظام پر اعتماد بحال ہو سکے۔

آصف جاوید کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہیے۔ ان کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انصاف کی تاخیر سماجی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں مل کر ایسے نظام کی تشکیل کرنی چاہیے جہاں ہر فرد کو بروقت انصاف مل سکے اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ہمارے سماج کی بقا اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

Facebook Comments HS