قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار (3)
تمہید میں ایک حرف تشکر واجب ہے۔ سول اینڈ ملٹر ی گزٹ پر پابندی کے حکومتی اقدام کی حمایت میں مغربی پاکستان کے 16اخبارات میں مشترکہ اداریے کا ذکر آیا تھا۔ برادر گرامی امجد سلیم علوی نے متعلقہ ریکارڈ سے نہ صرف ان سات اخبارات کی فہرست عنایت کی جنہوں نے یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم پر حکومت پنجاب سے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا بلکہ 16 مئی 1949 کو روز نامہ انقلاب میں مولانا غلام رسول مہر کے زوردار اختلافی اداریے کا تراشہ بھی عطا کیا۔ حکومتی اقدام سے اختلاف کرنے والے اخبارا ت میں ’انقلاب‘، ’احسان‘، ’مغربی پاکستان‘، ’تسنیم‘،’ آزاد‘،’ غازی ‘اور’ آغاز‘ شامل تھے۔ خوشا وہ قوم جہاں امجد سلیم علوی جیسے صاحبان علم پائے جاتے ہیں اور طالب علموں کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ دوسری عرض یہ کہ اس مستقل عنوان سے تین طبقات کا ذکر خیر مقصود تھا، اہل صحافت، اساتذہ اور صاحبان قانون۔ مولانا آزاد کو قلعہ احمد نگرکی نظر بندی میں ’فراغتے وکتابے و گوشہ چمنے‘ جیسے سہولت کے علاوہ قلم آرائی پر اختیار کی سہولت بھی میسر تھی۔ اس کے باوجود ’غبار خاطر‘ کے ہر دوسرے خط میں شکوہ کناں ہیں کہ تحریر ارادے کی حدود سے طول کھینچ گئی۔ مولاناآزاد تو اپنی نثر پر حسرت موہانی سے بھی داد پا سکتے تھے ، بندہ کم مایہ کے نصیب میں یہ مقام کہاں ۔ خیال کی ترتیب اور خامہ فرسائی کی موج رواں سے پنجہ کشی میں بے بس محض ۔ مرحوم حیدر تقی پانچ برس قبل ایک ہزار الفاظ کی حد مقرر کر گئے تھے ۔ اب ان سے رعایت مانگنا ہو تو تودہ خاک سے کیسے کلام ہو۔ آج کوشش کرکے صحافت کا باب سمیٹتے ہیں۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ ہماری صحافت لعل و گوہر سے خالی نہیں رہی لیکن یہ جادہ مجموعی طور پر گرد ملال کی زد میں رہا ہے۔ عشرہ بہ عشرہ پیشہ ورانہ زوال کی سطح بلند ہوئی ہے اور قابل تحسین نشان ہائے راہ معدوم سے مفقود تک آ پہنچے ہیں۔
پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کا سیاسی اثاثہ کمزور تھا اور ریاستی قوتیں منہ زور۔ ایسے میں اہل صحافت کی بڑی تعداد نے اقتدار کی دہلیز پر سجدہ ہائے سہوکو ترجیح دی۔ لیاقت علی خان کے چار برس سول بیوروکریسی کی ستیزہ کاری سے عبارت تھے اور مارچ 51 ءسے بازوئے شمشیرزن بھی اس تمثیل میں نمودار ہو گیا۔ بنیادی نکتہ یہ تھا کہ نوزائیدہ مملکت میں دستوری بندوبست کو تعویق میں رکھا جائے اور جس جمہوری طریقہ کار سے آزادی حاصل کی گئی تھی اس نظام اقدار ہی کو بے توقیر کر دیا جائے۔ اہل صحافت میں جو ڈنڈوت بجا لایا اس نے رفعتیں پائیں، جس نے قلم کی حرمت کا پرچم اٹھایا، اسے زیر و زبر کر دیا گیا۔ صحافت کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ اسے عوام اور حکومت کے درمیان تمدنی مکالمے کا کردار ادا کرنا ہے۔ نامعلوم وہ کس کم سواد تھا جس نے اٹھارہویں صدی کے فرانس کی تاریخ سے Estate کی اصطلاح کو State سے خلط ملط کر کے صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا۔ صحافت ریاست کا حصہ نہیں ، ایک تمدنی خدمت ہے۔ صحافت ریاست کی قوت نافذہ اور اختیار میں حصہ چاہے گی تو اقتدار کے کھیل میں فریق بن جائے گی۔ پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات روز اول سے جاہ پرستوں کی آنکھ میں کھٹکتے تھے۔ ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی مخالفت میں ’پاکستان ٹائمز ‘اور’ امروز‘ ہی دو مو¿ثر آوازیں ہیں چنانچہ 18اپریل 1959 ءکی رات ایوب کے بااعتماد ساتھی ذوالفقار علی بھٹو ،جنرل کے ایم شیخ اورقدرت اللہ شہاب ان اخبارات پر قبضہ کرنے لاہور پہنچے ۔ مظہر علی خان نے ادارت جاری رکھنے کی پیشکش ٹھکرا دی۔ عبداللہ ملک اور احمد ندیم قاسمی کو’ لازمی سروس ‘کے مضحکہ خیز قانون کی مدد سے روکے رکھا گیا۔ قدرت اللہ شہاب نے ’نیا ورق‘ کے نام سے ایک بدنام زمانہ اداریہ تحریر کیا۔ اہم بات یہ کہ زیڈ اے سلہری نے صفحہ اول پر اپنے دستخط سے اداریہ لکھ کر حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا۔ روزنامہ ڈان میں الطاف حسین نے آزادی صحافت کے سقوط کو ’آزادی کی بحالی ‘ کا عنوان دیا۔ ٹھیک پانچ برس بعد یہ ادارہ نیشنل پریس ٹرسٹ میں بدل دیا گیا اور اسے سیٹھ داﺅد ، چوہدری ظہور الٰہی اور دوسرے سرمایہ داروں کے سپرد کر دیا گیا۔
نیشنل پریس ٹرسٹ 1964 ءسے 1989 ءتک پاکستان میں ریاستی بھونپو کا کردار ادا کرتا رہا۔ ہماری صحافت کا اگلا تاریک باب مشرقی پاکستان کا بحران ہے جس میں مغربی پاکستان کی صحافت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی بلکہ یحییٰ حکومت کی مفید مطلب خدمات انجام دیں۔ ملک ٹوٹنے پر منتج ہونے والے اس وجودی بحران میں صحافت نے شریک جرم کا کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل پریس ٹرسٹ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی حکومت کا آغاز ہی سلہری، مجیب الرحمن شامی، الطاف حسن قریشی اور حسین نقی جیسے صحافیوں پر عتاب سے شروع ہوا۔ بھٹو کے جمہوری تجربے کی ناکامی میں ان کی صحافتی پالیسی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ضیا آمریت نمودار ہوئی تو اہل صحافت کی اکثریت نے کھلے بازوﺅں سے استقبال کیا۔ اس تاریک عہد میں صحافیوں کو قید و بند کے علاوہ کوڑے تک لگائے گئے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ نفسیاتی جنگ کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن آٹھ برس تک سیکرٹری اطلاعات رہے۔ بحالی جمہوریت کے لیے ایک قرارداد پر دستخط کرنے کی پاداش میں سو سے زائد اہل دانش کو برسوں تک صحافت سے خارج رکھا گیا۔ ضیا آمریت کے گیارہ برس میں پاکستانی صحافت کا اخلاقی جنازہ نکل گیا۔ اس کے بعد کی کہانی آپ بہتر جانتے ہیں۔ اخبار میں مدیر کی کرسی پر مالک براجمان ہو گیا۔ اخبار کی پالیسی صحافی کی بجائے شعبہ مالیات کو سونپ دی گئی۔ صحافیوں کی اکثریت نے نیم جمہوری یا دو ٹوک آمریت سے شراکت کر لی۔ افغان جہاد سے مذہبی دہشت گردی اور جمہوریت کے خلاف سازشوں سے ’مثبت‘ خبر کی دوڑ تک گزشتہ ربع صدی میں صحافیوں کا مجموعی کردار ناقابل رشک رہا ہے۔ آج اگر پاکستان میں سیاسی طبقہ مفلوج ہو گیا ہے اور صحافت نیم مجرمانہ کرداروں کے پنجہ گرفت میں ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہل صحافت کی اکثریت نے مفادات کی دوڑ میں قوم کے خلاف ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
(جاری ہے)


شاید یہ بات دل چسپی سے خالی نہ ہو کہ نفسیاتی جنگ کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن کے چھوٹے بھائی بھی ان ہی دنوں پنجاب کے آئی جی بھی رہے تھے ۔ حاجی حبیب الرحمن ۔ جن کی سوانح یا انٹرویو پر مبنی کتاب کا نام "کیا کیا نہ دیکھا” پڑھنے کی چیز ہے۔
لاہور میں اداکارہ شبنم اور بندیال ڈکیتی کیس اسی دور کا شاخسانہ تھا۔
بلکہ لاہور کے نواح میں پایا جانے والا ڈبہ پیر فراڈ بھی شاید ایس پی حبیب الرحمن کے دور کا کام تھا۔
–
آپ کی Estate اور State والی بات میں وزن ہے مگر اب یہ غلط العام صحیح بن چکا ہے۔
دیکھا جائے تو وہ ملک جہاں حکومت اور ریاست دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں وہاں صحافت: ریاست اور عوام کے مفادات کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ کاغذی یا پرنٹ میڈیا اب چونکہ ایک مرتی ہوئی انڈسٹری یا صنعت ہے اس لئے اس کی نئی شکل جو پہلے الیکٹرانک میڈیا کے اینکر تھے اور اب یو ٹیوبر کہلاتے ہیں ان کا اصل صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں یہ محض گھس بیٹھیئے ہیں۔
–
مسئلہ شاید یہ ہے کہ جب رکشا اور ویگن ۔۔۔ ٹانگہ کی جگہ لے رہے تھے۔ ایک بڑی تعداد میں کوچوان خود کو تبدیل نہیں کرپائے۔
پچھلی دہائی میں اسی طرح جب آن لائن ٹیکسیوں کی بہار آئی تو پیلی ٹیکسی والے خود کو اس میں ضم نہ کرسکے۔
–
شاید یہ سانحہ کلاسیک صحافیوں کے ساتھ بھی پیش آیا۔ وگرنہ ماضی میں اچھے برے دونوں طرح کے صحافی موجود تھے۔ یہی حال شاعروں کا بھی تھا کہ قصیدہ خواں جالندھری بھی تھے اور آتش فشاں جالب بھی۔