میری ماں، میری جنت


لفظ ماں دیکھنے میں تو محض تین الفاظ پر مشتمل ہے مگر درحقیقت دنیا بھر کی چاشنی انھی میں سمائی ہوئی ہے۔ ماں خدا کا دوسرا روپ ہوتی ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ اس ارض و سماں پر خدا کس صورت میں موجود ہے تو اس کا بہترین جواب ماں ہے۔ ماں کی عادت خدا سے بہت ملتی ہے۔ ایک تو وہ زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہتی دوسرا دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں۔ ماں کی محبت کو دنیا کی تمام محبتوں پر برتری حاصل ہے۔ ”ماں دنیا کا انمول رشتہ ہے“ ۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس کی قدر ان سے پوچھو جو زندگی میں صرف ایک مرتبہ ماں کی جھلک دیکھنے کو ترستے ہیں۔ اس کی منہ بولتی مثال سرور کونین حضرت محمدﷺ ہیں۔ جو کم عمری میں ہی اپنی جنت محروم ہو گئے تھے۔ دنیا میں سب سے انمول رشتہ ماں بیٹے اور ماں بیٹی کا ہے۔

یہ تحریر خاص میری ماں (سلمیٰ ) کے نام جن کا شمار میرے مطابق دنیا کی عظیم ترین ماؤں میں ہوتا ہے۔ جنھوں نے مجھے اور باقی بہن بھائیوں کو اس قابل بنایا کہ اس ظالم معاشرے میں عزت و وقار سے سر اٹھا کر جینا سکھایا۔ انھوں نے اپنی جوانی ہم پر قربان کر دی۔ زندگی میں بہت سی مشکلات آتی ہیں مگر بہادر وہ ہے جو ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرے اور گھبرائے نہیں۔ میری ماں اس صفت کاملہ میں اپنی مثال آپ ہے۔ زندگی جس بھی ڈگر پر رہی انھوں نے کبھی ہار نہیں مانی اور سیسہ پلائی دیوار بنی رہیں۔ ہمارے والد کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ ہمیشہ ان کی ہمت باندھتی رہیں۔ انھوں نے ہر اذیت کو سہا۔ جس میں سر فہرست اپنوں کے وار تھے۔ انھوں نے میرے والدین کی جوانی اور ہم بہن بھائیوں کا بچپن رول دیا۔ یہ دور ہر انسان کی زندگی کا بہترین دور ہوتا ہے۔ اس کی یادیں عمر بھر کے لیے انسان کے ساتھ رہتی ہیں مگر افسوس میرے پاس ایسی کوئی یاد نہیں۔ جب وہ (ستم گر) عرش پر تھے اور ہم فرش پر در در کی خاک چھان رہے تھے۔ وہ زمین پر فرعون کی مانند تھے اور ہم موسیٰ کی طرح خدا کے حضور کسی معجزے کے منتظر تھے۔ اپنی زندگی میں برداشت کی گئی اذیتوں کو بھولنا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی بھلائی جا سکتی ہیں۔ اپنوں کا کیا گیا ظلم دل میں ایک نشتر کی مانند ہوتا ہے اگر نکال دیا جائے تو موت یقینی ہے اور اگر نہ نکالا جائے تو اذیت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اعلیٰ ظرفی خدا کسی کسی کو عطا کرتا ہے۔ ”معاف کرنے والا ظلم کرنے والے پر سبقت لے جاتا ہے“ ۔ ایک اور جگہ پر پڑھا تھا ”ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔“ کہا جاتا ہے ”عورت گھر بناتی بھی ہے اور برباد بھی کرتی ہے۔“ انھوں نے اس گھر کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اپنی سلیقہ شعاری اور ذہانت سے جنت کا نمونہ بنا دیا۔

مجھے فخر ہے کہ میں اس جدید اور دھوکے سے بھرپور دنیا میں بھی سادہ اور پاکیزہ کردار کی مالک ہوں۔ میری تربیت جس نے کی وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ نیک سیرت بھی ہیں۔ مجھے وہ چالاکیاں نہیں آتیں جو آج کل کی پندرہ سالہ لڑکی کو بھی آتی ہیں۔ ان کی مائیں اس دور کی ہیں جبکہ میں نے ہمیشہ اپنی ماں سے صرف محبتیں بانٹنا سیکھا۔ ”خوبصورتی تربیت کی کمی کو پورا نہیں کرتی لیکن تربیت خوبصورتی نہ ہونے کی کمی کو پورا کر دیتی ہے“ میں اگرچہ دوسری لڑکیوں کی طرح خوبصورت نہیں مگر خوب سیرت ہوں۔ یہ سب میری ماں کی بدولت ممکن ہے۔ میرے دن کا ہر وہ لمحہ جس میں میں اپنی ماں کی مدد کروں یا میری وجہ سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے وہ زندگی کا یاد گار لمحہ بن جاتا ہے۔

پیاری امی کے نام

یہ کامیابیاں، عزت، یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو بھی دیا ہے، مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہے میرے لہو میں کھلتے گلاب
کہاں بساط جہاں اور میں کم سن ناداں
یہ میری جنت کا سب اہتمام تم سے ہے
جہاں جہاں ہے، دشمنی سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے میرا احترام تم سے ہے

Facebook Comments HS